کروناوائرس: دودھ، گوشت کی فروخت کم،لائیو سٹاک سیکٹر بری طرح متاثر

      کروناوائرس: دودھ، گوشت کی فروخت کم،لائیو سٹاک سیکٹر بری طرح متاثر

  

رحیم یار خان (بیورورپورٹ) کررونا پر قابو پانے کیلئے ملک بھر میں لاک ڈاؤن سے صنعت و تجارت کے ساتھ ساتھ 11کروڑ خاندانوں کے ذریعہ معاش کا حامل لائیوسٹاک کا شعبہ بھی بری طرح متاثر ہواہے‘وزیر اعظم پاکستان نے ٹیکسٹائل سمیت دیگر صنعتی شعبوں (بقیہ نمبر14صفحہ6پر)

کیلئے ٹیکسز میں چھوٹ‘کم شرح سود پر قرضوں کی فراہمی سمیت دیگر مراعات کا اعلان کیا ہے لیکن ملکی جے ڈی پی میں 12فیصد حصہ ڈالنے والے لائیوسٹاک کے شعبے کو ماضی کی طرح موجوہ حکومت بھی بھول گئی ہے۔مویشی منڈیا ں بند پڑی ہیں‘ددودھ کی فروخت 70فیصد تک کم ہو گئی ہے۔جنرل سیکرٹری بفلو بریڈر ایسوسی ایشن پاکستان میاں سمیع اللہ‘ایگزیکٹو ممبر رانا امیر محمد نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈیری صنعت لائیو اسٹاک سیکٹر کا ایک اہم حصہ ہے جوملکی جی ڈی پی میں حصہ 12فیصد تک حصہ ڈالتاہے اور یہ سیکٹر دودھ اور گوشت کے علاوہ چمڑے‘ قالینوں اور اون کی صنعتوں کیلئے خام مال مہیا کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ جسکا ملکی برآمدات میں حصہ 8.5فیصد ہے۔ لائیو اسٹاک دیہی علاقوں کے تقریباً 9ملین چھوٹے درجے کے کاشت کاروں اور غریب ہاریوں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں ہر گھرانے کے پاس ایک سے 6مویشی اور بھینسیں ہیں جو ملک کا تقریباً 91.4فیصد ہے جبکہ ملک میں 30سے زیادہ مویشیوں اور بھینسیں رکھنے والے فارموں کی تعداد تقریباً 30ہزار ہے۔ لائیو اسٹاک کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں بھینسوں کی تعداد تقریباً پونے چار کروڑ‘ بھیڑوں کی تعداد تین کروڑ‘ بکریوں کی تعداد ساڑھے سات کروڑ‘ اونٹوں کی تعداد گیارہ لاکھ ہے۔ پاکستان دنیا میں تیسرا بڑا دودھ پیدا کرنیوالا ملک بن چکا ہے‘ مشرف دور میں ڈیری شعبے کو فروغ دینے کیلئے مختلف اصلاحات کی گئیں جس کے نتیجے میں کئی بین الاقوامی کمپنیوں نے پاکستان میں ڈیری کے شعبے میں سرمایہ کاری کی لیکن اس کے بعد سے آنے والی حکومتوں نے لائیوسٹاک شعبے کے فروغ اور گاوں سے شہر تک شہریوں کو معیاری دودھ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے قابل عمل اقدامات نہیں اٹھائے۔انہوں نے بتایا کہ دیہاتوں میں 40فیصد سے زیادہ لوگ لائیو اسٹاک کے شعبے سے منسلک ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک تخمینے کے مطابق پاکستان سالانہ 43ملین ٹن دودھ پیدا کر رہا ہے جو 72فیصد بھینسوں‘ 24فیصد گائیوں اور 4فیصد بکریوں سے حاصل کیا جاتا ہے جس کی مالیت تقریباً 1700ارب روپے بنتی ہے۔ ملک میں کچے دودھ کی سالانہ کھپت 35ملین ٹن سے زائد ہے جس میں سے تقریباً 58فیصد کچا دودھ شہروں کو سپلائی کیا جاتا ہے۔ کراچی میں دودھ کی یومیہ کھپت 4ملین لیٹر اور لاہور میں 3ملین لیٹر سے زائد ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کررونا کی وجہ سے جاری بحران میں ایک دفعہ پھر خشک دودھ کے کاروبار سے وابستہ عناصر متحرک ہیں‘غیر ملکی کمپنیوں کیلئے بھاری معاوضے پر کام کرنے والے یہ عناصر ملک میں لائیوسٹاک کے شعبے کے فروغ میں دور جدید کے تقاضوں کے مطابق جدت لانے کے لیے کام کرنے اور سرمایہ کاری کرنے کے بجائے دودھ برآمد کرنے کے حکومت کو مشورے دے رہے ہیں۔اس ضمن میں جب ان کو وزیر اعلیٰ پنجاب سے مذکرات میں کامیابی نہیں ملی تو وزیر اعظم پاکستان کو خط لکھ کرخشک دودھ کی برآمدکیلئے ڈیوٹی معاف کروانے کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔

متاثر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -