کورونا وائرس نے زندہ دِلوں کے شہر لاہور کو ویران کر دیا

کورونا وائرس نے زندہ دِلوں کے شہر لاہور کو ویران کر دیا

  

گھروں میں بیٹھے افراد کے وزن بڑھنے لگے، بے کاری نے پریشان کر دیا

سیاست بھی کمروں میں بند، بیان بازی پر اکتفا، سیاسی راہنما، منتخب نمائندے روپوش!

لازمی سروس والے محنت کشوں کو بھی حفاظتی آلات سے لیس کیا جائے

دُنیا بھر کو لپیٹ میں لئے کورونا وائرس نے لاہور میں بھی اپنے پَر پھیلانا شروع کر دیئے ہیں۔ زندہ دِلوں کا یہ شہر ویران ہے، لوگ گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔اکثر حضرات کی شکایت ہے کہ گھر میں رہنے اور کھانے سے ان کا وزن بڑھ رہا ہے،جبکہ موسم بہتر ہونے کے باوجود سیر صبح والوں کی تعداد بھی کم ہے کہ حکومت کی طرف سے پارکیں بند کر دی گئی ہیں۔علاقائی طور پر بھی سیر کرنے والے اِکا دُکا ہی نظر آئے اور پارک میں چند منٹ بیٹھ کر واپس چلے گئے جبکہ سڑکوں پر اب اداروں کے جوان روک کر باہر نکلنے کی وجہ دریافت کرتے ہیں۔داتا ؒ کی نگری میں متاثر ہونے والوں کی تعداد ایک سو پندرہ سے زیادہ ہو گئی اور شبہ کیا جاتا ہے کہ بعض حضرات ٹیسٹ کے لئے نہیں آئے اور نہ ہی حکومتی سطح پر متاثرین کی تلاش ہوتی ہے، جو مل جائے وہ زیر علاج آجاتا ہے، اس سلسلے میں سمجھ دار لوگوں کی اپیل ہے کہ متاثرین کی تلاش کا عمل تیز کیا جائے کہ کورونا وائرس میں پھیلاؤ کی صلاحیت بہت زیادہ ہے اور ایک متاثر کئی افراد کو شکار بنانے کی اہلیت کا حامل ہو جاتا ہے۔

شہری انتظامیہ نے سپرے کا سلسلہ شروع کیا تھا جو موقوف ہو گیا، حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے شہر میں ایک مربوط پروگرام کے تحت یونین کونسل کی سطح پر سپرے کیا جائے اور یہی سینٹی ٹائزر سے ہو، جو اب پی سی ایس آئی آر نے بھی تیار کر لیا اور انجینئرنگ یونیورسٹی بھی تیار کر رہی ہے۔ پنجاب حکومت اپنے طور پر عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے تاہم منافع خور میدان میں ہیں۔ ان کی طرف سے آٹے کی قلت پیدا کر کے مہنگا کر دیا گیا،چینی کی قیمت بھی بڑھ گئی اور اب برائلر مرغی کے نرخوں پر نظر آ گئی ہے۔

کورونا وائرس نے سماعت کو بھی نقصان پہنچایا کہ سیاسی رہنما اور منتخب ایم این اے، ایم پی اے بھی قرنطینہ میں ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے مرکزی صدر محمد شہباز شریف لندن سے تو واپس آ گئے تاہم انہوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا اور اپنے گھر میں بیٹھ کر کمرے سے ویڈیو کے ذریعے سیاست کر رہے ہیں، ان کی طرف سے پانچ ہزار ماسک اور راشن کی تقسیم کا اعلان کیا گیا اور یہ تقسیم کالعدم منتخب کونسلروں کے ذریعے کرانا مقصود ہے تاہم وزیر مملکت زرتاج گل پوچھتی ہیں کہ یہ سب کہاں تقسیم کیا گیا؟ پیپلزپارٹی والے بھی قرنطینہ ہی میں ہیں اور سندھ حکومت کی تعریف کرتے پائے جاتے ہیں۔

لاہور اب وہ لاہور نہیں ہے، لوگ مجموعی طور پر پریشان ہیں، پڑھے لکھے حضرات نے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے اس بیان کو مایوس کن قرار دیا کہ ٹیسٹ مثبت آنے والوں کو ان کے گھر میں بھی آئسولیشن کی اجازت دے دی جائے گی۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ ایک طرف محکمہ صحت اور ڈاکٹر یہ کہتے ہیں کہ ایک مریض متعدد افراد کو متاثر کرنے کی صلاحیت کا حامل ہوتا ہے اور دوسری طرف مریض کو اس کے گھر میں رکھا جائے جائے جہاں نہ تو آئسولیشن پر سختی سے عمل درآمد ممکن ہے اور نہ ہی24گھنٹے ”میڈیکل کیئر“ ممکن ہے۔یہ بھی حکومتی بدحواسی ہی کی ایک صورت ہے۔مثبت نتیجے والے مریض کی تو حالت لمحہ بہ لمحہ بگڑتی ہے اور اسے نظر میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔حکومت کو جہاں مریض تلاش کرنا ہوں گے، وہاں ان کے لئے ہسپتالوں میں جگہ بھی بنانا ہو گی۔

اِس صورت حال کے علاوہ لازمی سروس والے سرکاری ملازمین کے تحفظ کا بھی مسئلہ ہے، صرف طبی عملے اور قانون نافذ کرنے والوں کے لئے ہی حفاظتی آلات کی ضرورت نہیں، بلکہ لیسکو ملازمین، عملہ صفائی، واسا والوں اور اسی نوعیت کی دوسری ڈیوٹی والوں کو بھی تحفظ دے کر فرائض کی ادائیگی کے لئے متعین کرنا چاہئے۔ صرف متاثرین اور طبی عملے والا عمل احسن ہونے کے باوجود ناکافی ہے۔ حکومت کو ادھر بھی توجہ دینا ہو گی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -