کرونا وائرس، حکومت اور حزب اختلاف مختلف رخ پر ہیں

کرونا وائرس، حکومت اور حزب اختلاف مختلف رخ پر ہیں

  

فوجی قیادت، سول انتظامیہ سے آگے نظر آ رہی ہے

لاک ڈاؤن میں صوبے اور وفاق میں بھی اختلاف ہے

اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ کے مقولہ کے تحت حکومت اور اپوزیشن کرونا وائرس کے خلاف حکمت عملی اپنانے پر منقسم ہے شاید پاکستان کی تمام قیادت کرونا وائرس کے انسانی زندگی، معاشرت اور معیشت سمیت ہر پہلو پر مہلک اور ہولناک اثرات کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے۔ کرونا وائرس کے مہیب چیلنج کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ حکومت نہ اپوزیشن اور نہ ہی عوام اس کا اکیلے اکیلے مقابلہ نہیں کر سکتے لیکن دارالحکومت میں کرونا سے لڑنے سے زیادہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین پوائنٹ سکورنگ کا تھیٹر لگا ہوا ہے اور عوام بے بسی کی تصویر بنے ہوئے اپنی تقدیر کے منتظر نظر آتے ہیں دارالحکومت میں معیشت، طرز حکمرانی، صحت اور سائنس کے شعبوں کے چوٹی کے رہنما جن میں سے بعض محض اسی طور پر حکومت سے بھی وابستہ ہونے کے باوجود بھی کرونا وائرس کے حوالے سے حکومتی حکمت عملی کے ساتھ دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ ان میں سے اکثر سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز سے سوالات اٹھا رہے ہیں کہ کیا ہمارے وسائل چین امریکہ اور یورپ جیسے ممالک سے زیادہ ہیں کہ ہم مطمئن ہو کر بیٹھے ہیں کہ ابھی پاکستان میں کرونا وائرس کی وبا نے شدت نہیں پکڑی کیونکہ اگر اس وبا کے حجم میں بے ہنگم اضافہ ہو گیا تو پھر معاملات ہاتھ سے نکل جائیں گے دارالحکومت میں حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے حوالے سے اپنائی جانے والی حکمت عملی کا ایک پہلو سیاسی رہنما محمد علی درانی نے اس انداز میں کہا ہے کہ ہم ایک ایسی گاڑی کے مسافر ہیں جو بغیر ڈرائیور کے ہے اگر چہ اپوزیشن رہنما میاں محمد شہباز شریف لندن سے اس لئے ہنگامی انداز میں واپس آئے تھے کہ وہ حکومت ے ساتھ مل بیٹھ کر کورونا وائرس کے سنگین چیلنج سے نبرد آزما ہوں گے۔ انہوں نے آتے ہی پاکستان مسلم لیگ (ن) سے وابستہ حاضرین سے مشاورت کے بعد وزیر اعظم عمران خان کے سامنے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے مطالبات بھی سامنے رکھے کہ کس طرح اس آفت کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن رہنما شہباز شریف کی گرم جوشی سے دی گئی تجاویز پر سرد مہری کا مظاہرہ کیا۔ اس طرح پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری اور سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی تجاویز کو بھی خاطر میں نہ لایا گیا۔ در حقیقت وزیر اعظم عمران خان ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے حوالے سے اپوزیشن کی تجاویز پر متفق تھے اور کچھ دن گزرنے کے باوجود بھی انہوں نے سوموار کو عوام سے خطاب میں بھی اپنے اس موقف کی حمایت میں دلیل دیتے نظر آئے جس پر پوری اپوزیشن سمیت دیگر قومی ادارے بھی شاید بعض تحفظات کے حامل ہو سکتے ہیں تاہم وزیر اعظم عمران کے رویہ کو بھانپتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے از خود ہی اپنے صوبہ میں لاک ڈاؤن سمیت بعض اقدامات کا اعلان کر ڈالا تھاانہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ وہ اس اقدام کا اعلان انہوں نے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کیا ہے تاہم حکومتی رویہ اور اعلانات کے برعکس ملک کے بعض دیگر قصبوں میں بھی ایسی ہی صورتحال نظر آئی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لاک ڈاؤن پر عمل درآمد شروع کروا دیا تاہم اس تمام صورتحال میں پاک فوج اور اس کی قیادت نہایت چوکس نظر آ رہی ہے۔ جبکہ پاک فوج کے دستے ملک بھر میں سول اداروں کی امداد کے لئے پہنچ چکے ہیں۔ دریں اثناء بادل نخواستہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو بھی سندھ کی تقلید میں لاک ڈاؤن کرنا پڑا۔ تاہم اس صورتحال میں وفاقی حکومت کے لاک ڈاؤن کے حوالے سے موقف کی نفی نظر آنے لگی تو وفاقی وزیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو یہ موقف اپنانا پڑا کہ صوبے اپنی اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق لاک ڈاؤن کر رہے ہیں۔ تاہم اس وقت کرونا وائرس کے بحران سے نپٹنے کے لئے این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل افضل کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں تاہم ان کے ساتھ ڈاکٹر معید یوسف اور وفاقی مشیر ہیلتھ ریلگولیشنر ڈاکٹر ظفر ان کی معاونت کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کورونا وائرس کیا ٓفت کا مقابلہ کرنے کے لئے پاک فوج سے سول حکومت سے آگے نظر آ رہی ہے۔ کرونا وائرس کے معیشت پر بھی بُرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، حکومت نے بھی امدادی پیکیج کا اعلان کیا اور چین بھی مدد کو آ گیا ہے، تاہم ضرورت ہے کہ سب کوششیں مربوط اور متفقہ ہوں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -