احتیاطی تدابیر سے فرار سیاسی پوائنٹ سکورنگ وائرس کے پھیلاؤ میں معاون

احتیاطی تدابیر سے فرار سیاسی پوائنٹ سکورنگ وائرس کے پھیلاؤ میں معاون

  

اپریل کے وسط میں معلوم ہو جائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے تعاون پر عوام اور اداروں کا شکریہ ادا کیا

احتیاطی تدابیر سے فرار، غیر سنجیدگی اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ ایسے امور ہیں جو کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں اہم ثابت ہو رہے ہیں، شائد ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ وبا کس قدر خطرناک ہے اور احتیاطی تدابیر کو ملحوظ خاطر رکھنا ہی اس کا واحد حل ہے، اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ احتیاط ہی مرض کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، اِس لئے ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ہم سب کا فرض ہے کہ انتظامی ہدایات کی پابندی کریں اور بلاضرورت کسی جگہ جمع ہونے سے گریز کریں۔ کئی مقامات پرمناسب فاصلہ رکھنے کی ہدایت پر عمل نہیں کیا جا رہا، چھپ چھپا کر سفر بھی جاری ہیں، ہم تا حال بیرون ملک سے آنے والوں کی بڑی تعداد کا بھی صحیح اندازہ نہیں کر سکے کہ وہ کون ہیں اور کیا وہ کورونا سے متاثر ہیں یا نہیں۔ایئر پورٹس پر بھی ایسے مسافروں کے ریکارڈ کی روشنی میں مکمل ڈیٹا جمع نہیں کیا گیا، بعض مقامات پر گڈز ٹرانسپورٹ میں سوار ایسے افراد کا انکشاف بھی ہوا جنہیں کنٹینر میں چھپا کر کراچی سے لایا گیا تھا۔یہ ایک ضروری امر ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹ شروع ہونے کے بعد اس بات پر نظر رکھنا ہو گی کہ اس سہولت کو انسانوں کی نقل و حمل کے لئے استعمال نہ کیا جائے، بعض ہسپتالوں سے مشتبہ مریضوں کے غائب ہونے کی اطلاعات بھی آرہی ہیں، ان تمام امور کو یکجا کر کے لوگوں کے غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

گلی محلوں میں کرکٹ کھیلنے، گرین بیلٹس پر گپ شپ کا ماحول بنانے اور قیامت خیز لمحات کو تعطیلات میں ہنی مون کے طور پر منانے والوں سے دست بستہ عرض ہے کہ وہ حالات کی سنگینی کا ادراک کریں اور اپنی سرگرمیاں گھروں تک محدود اور مرکوز کرنے کو یقینی بنائیں، یہ بات واضح ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے والے ناصرف اپنے بلکہ دوسروں کی جان کے دشمن ہیں پاکستان آنے والے چینی ماہرین کی یہ رائے پیش نظر رہنی چاہئے کہ ماہ اپریل کے دو ہفتے میں اس امر کا اندازہ ہو جائے گا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ کب تک جاری رہے گا اور خاتمہ کیسے ممکن ہوگا؟خدا نہ کرے کہ ہمیں 15 روز کا یہ سفر کئی ماہ میں کاٹنا پڑے اور ہمارا غیر سنجیدہ طرز عمل اس سفر کو سفر آخرت میں تبدیل کر دے۔ اس حوالے سے صوابی کے ایک ڈاکٹر کا نامناسب رویہ قابل مذمت ہے، یار حسین ہسپتال میں تعینات میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عامر مصطفیٰ نے ہاتھوں اور منہ پر پلاسٹک کے شاپنگ بیگز لگا کر حفاظتی سامان نہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ بھی کی تھی۔ ایک ذمہ دار منصب پر فائز شخص کا یہ طرز عمل نا صرف غیر سنجیدہ بلکہ مضحکہ خیز بھی تھا، محکمہ صحت کی طرف سے ڈاکٹر عامر کے اس دعویٰ پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی جس کی رپورٹ میں ڈاکٹر عامر کا دعویٰ غلط ثابت ہوا۔ انکوائری رپورٹ میں گمراہ کن دعویٰ کرنے پر ڈاکٹر کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی گئی تھی، لیکن صوبائی حکومت نے ایک اچھا جیسچر دیا اور وزیر صحت تیمور سیلم خان جھگڑا نے جعلی وڈیو بنانے والے ڈاکٹر کے خلاف انکوائری واپس لینے اور اسے معاف کرنے کا اعلان کیا، ان کا موقف تھا کہ موجودہ کٹھن حالات میں ہم کورونا کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کو سلام پیش کر رہے ہیں، ایسے میں کسی ڈاکٹر کے خلاف تادیبی کارروائی مناسب نہیں لگتی ہم اس ڈاکٹر کی سرزنش پر ہی اکتفا کریں گے۔قیامت کی اس گھڑی میں ذخیرہ اندوزی، کساد بازاری اور خود ساختہ مہنگائی کی بھی سرزنش کرنے کی ضرورت ہے، بعض مفاد پرست تاجر یا ڈسٹری بیوٹرز اشیائے صرف گوداموں میں چھپا کر عوام کی رسائی سے دور کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب بعض شہری بھی خوف کے مارے اشیائے ضروریہ گھروں میں سٹور کرنے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں ان دونوں معاملات کی حوصلہ شکنی کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض علاقوں سے اطلاعات مل رہی ہیں کہ ذخیرہ اندوزوں نے کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں بڑھا دیں، کئی مقامات پر آٹے کی مصنوعی قلت بھی پیدا کی گئی، چینی، دالوں اور گوشت کی قیمت میں اضافے کی خبریں بھی آ رہی ہیں، ایسے حالات میں چیزیں مہنگی کرنا معاشرے خصوصاً غریب افراد پر جن کا روزگار بھی ختم ہو چکا ہے، ظلم کے مترادف ہے، سماجی بہبود کے ادارے اور مخیر حضرات اگر ضرورت مندوں کی مدد کے لئے آگے آ رہے ہیں تو یہ قابل ِ تعریف ہے، لیکن گراں فروش تاجراور جعلی سینی ٹائزر بنانے والے ملک و قوم کے مجرم ہیں۔اس حوالے سے وزیر اعلیٰ کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ خیبر میں آٹے کا کوئی بحران نہیں ہے محکمہ خواراک کے پاس اس وقت ایک لاکھ 80 ہزار ٹن گندم موجود ہے۔ جو اس سال مئی تک کافی ہے پنجاب سے بھی روزانہ کی بنیاد پر آٹے کی ترسیل کا عمل جاری ہے۔

کورونا کی مصیبت زدہ وباء کے دوران عوام کو باخبر رکھنے کا فریضہ انجام دینے والے صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی سرگرمیاں نہایت محتاط انداز میں انجام دینے کی اپیل بھی کی جانی چاہئے، اسی تناظر میں محکمہ اطلاعات خیبرپختونخوا نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نمائندگان کو کہا ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زمہ داریوں کی بجا آوری اطمینان سے جاری رکھیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے میڈیا ورکرز اور محکمہ اطلاعات کے عملے کو آمد و رفت پابندی سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔ مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا اجمل خان وزیر نے میڈیا ورکرز، ہاکرز اور اس شعبے سے وابستہ تمام افراد سے گزارش کی ہے کہ وہ اپنا شناختی کارڈ، محکمہ اطلاعات کا کارڈ یا اپنے میڈیا ہاؤس یا اخبار کی جانب سے جاری کردہ کارڈ سیکیورٹی پر مامور افراد کو دکھائیں۔ دریں اثناء وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے حکومتی احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے خود کو گھروں تک محدود کرنے اور سماجی رابطوں کو کم کرنے میں حکومت کیساتھ تعاون پر شہریوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر سب لوگ آج سے پندرہ دنوں کیلئے خود کو گھروں تک محدود رکھیں تو انشاء اللہ ہم کرونا کی اس وبا کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

صوبائی محکمہ اطلاعات اس اعتبار سے مبارکباد کا مستحق ہے کہ ایک طرف تو وہ عوام میں کورونا سے آگاہی بیدار کرنے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہے تو دوسری جانب حکومتی اقدامات اور تازہ ترین صورت حال سے بھی لوگوں کو با خبر رکھے ہوئے ہے، خصوصی انفارمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں گزشتہ شام تک کورونا کے مزید 29 کیسز رپورٹ ہوئے جن سے کورونا مریضوں کی مجموعی تعداد 221 تک پہنچ گئی، سب سے زیادہ 16 کیسز پشاور میں تفتان سے آنے والے 5زائرین اور 3 کیسز لوئیر دیر سے رپورٹ ہوئے شامل ہیں۔ باجوڑ، بنوں، ڈی آئی خان، مردان اور مانسہرہ سے ایک ایک کیس کی اطلاع ملی ہے۔ آج ایک اہم ایشو یکم اپریل ہے جسے ہمارے چند عاقبت نا اندیش یا منچلے فول ڈے کے طور پر مناتے ہیں اور ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کر کے دل لبھایا جاتا ہے، موجودہ صورت حال چونکہ نہایت سنجیدگی کی متقاضی ہے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ آج اپریل فول سے گریز کرتے ہوئے ذمہ دارانہ رویہ کا مظاہرہ کیا جائے اور ہنسی مذاق میں بھی کسی کو تنگ کرنے کے بجائے کورونا کی حفاظتی تدابیر پر عمل پیرا ہو کر با شعور شہری ہونے کا ثبوت دیا جائے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -