سعید غنی کا ٹیسٹ مثبت، گھر میں قرنطینہ کیا، سنٹر کیوں نہ گئے؟

سعید غنی کا ٹیسٹ مثبت، گھر میں قرنطینہ کیا، سنٹر کیوں نہ گئے؟

  

سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں میں رابطہ نہیں، میئر کراچی گم ہیں

پرنٹ میڈیا سخت مشکلات کا شکار، تعاون کی ضرورت

ڈائری۔ کراچی۔مبشر میر

صوبائی وزیر تعلیم سندھ سعید غنی جو بہت متحرک سیاسی رہنما کی حیثیت سے اپنی پہچان رکھتے ہیں، کورونا وائرس کا شکار ہوگئے، وہ فوری طور پر خودکو گھر پر آئسولیشن میں لے گئے۔ ابتدائی دن گھر سے ہی بعض ٹی وی شوز میں آن لائن حصہ لیتے نظر آئے۔ حیرت کی بات ہے کہ کراچی میں قائم کسی بھی قرنطینہ میں کیوں نہیں گئے۔ ایکسپو سینٹر میں ایک اعلیٰ معیار کا قرنطینہ آرمی کے زیرانتظام کام کررہا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق ان کا دوسری مرتبہ ہونے والا ٹیسٹ بھی پازیٹو آیا اور اب ان کی نگرانی سخت کردی گئی ہے، اس کے باوجود وہ اپنے اخباری بیانات جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ٹی وی ٹاک شوز کا بھی حصہ بن رہے ہیں۔(ٹویٹ کیا ہے کہ اب ان کا اور پوری فیملی کا ٹیسٹ منفی ہو گیا)

سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان بیانات کا سلسلہ تھوڑا کم ہوا ہے، لیکن ٹی وی ٹاک شوز میں ابھی تک کشیدگی دکھائی دیتی ہے، سندھ میں جماعت اسلامی کا الخدمت ادارہ بہت متحرک ہے، بڑے پیمانے پر لوگوں کی خدمت میں مصروف ہے۔

شہر کراچی میں مارکٹیں بند ہونے کی وجہ سے عام مزدور بھی بھیک مانگنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ گورنر ہاؤس میں سندھ سے عوام کو راشن دینے کی پوسٹ، پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی وجیہہ قمر نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ فیس بک پر شائع کی اور فون نمبر بھی دیا لیکن تادم تحریر لوگ اس سے استفادہ نہیں کر پائے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ لینڈ نمبر مصروف ہی ملتا ہے۔ ایسی ہی شکایت وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے اعلان کردہ راشن کے حوالے سے ریکارڈ ہوئی ہے، وہاں سے بھی لوگوں کو راشن بیگ نہیں مل رہے۔

کراچی کی این جی اوز و مخیر حضرات اپنے طور پر عوام کی خدمت کررہے ہیں۔ فسٹ ہینڈ فاؤنڈیشن نوجوان طلبہ و طالبات کی ویلفیئر تنظیم ہے اس کی کارکردگی بھی قابل تحسین ہے۔ اس کے کارکن بھی بہت سے ضرورت مندوں کو راشن اور ماسک وغیرہ پہنچانے میں مصروف ہیں۔ یہ تنظیم گذشتہ سات برس سے کام کررہی ہے۔ عوام کو سب سے زیادہ مایوسی سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ہورہی ہے، خاص طور پر کراچی کے اراکین اسمبلی جن میں بہت سے امراء ہیں، ابھی تک عوام کی خدمت کیلئے نظر نہیں آئے۔

وزیراعظم عمران خان نے کورونا ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان کیا ہے لیکن کراچی کی تحریک انصاف کی تنظیم اور اراکین اسمبلی اس حوالے سے عوام کو متحرک کرتے ہوئے سامنے نہیں آئے۔ لوگوں کا سوال ہے کہ اس وقت سیاسی اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں، اس کے باوجود اراکین اسمبلی کا منظر سے غائب ہونا تعجب کی بات ہے۔

کراچی کے عوام کے لیے حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ سندھ حکومت نے بلدیاتی اداروں کو ساتھ ملا کے کام کیوں نہیں کیا۔ جبکہ میئر کراچی بھی گذشتہ دس دن سے منظر سے غائب ہیں۔ ایم کیو ایم کی قیادت بھی اور دیگر راہنما مکمل طور پر خود کو گھروں میں بند رکھے ہوئے ہیں۔

چین کی طرف سے کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کیلئے بھرپور مدد کی جارہی ہے۔ کراچی میں آنے والے ایک امدادی جہاز کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وصول کیا تھا اور دوسرا جہاز جب کراچی ایئرپورٹ اترا تو گورنر سندھ جو خود آئسولیشن سے باہر آچکے تھے، امدادی جہاز کا سامان وصول کرنے کیلئے موجود تھے۔ چین سے ملنے والی امداد اور دیگر عالمی اداروں سے ملنے والی رقوم کے حوالے سے عوام کا مطالبہ ہے کہ اسے شفاف رکھا جائے۔ پاکستان میں ماضی کے واقعات ایسی امداد میں کرپشن کے حوالے سے موجود ہیں۔ زلزلے اور سیلاب میں ملنے والی امداد میں شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔

حکومتی اعلانات کا سلسلہ جاری ہے لیکن ملک میں پرنٹ میڈیا انڈسٹری اس بحران کا بُری طرح شکار ہوئی ہے۔ کراچی سمیت دیگر شہروں میں صحافیوں کیلئے کام کرنا بہت دشوار ہوگیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیاں ماند پڑنے سے اخبارات کا کاروبار بھی یک لخت نچلی سطح پر آگیا ہے۔ اس صورتحال کو محسوس کرتے ہوئے اخبارات کی مرکزی تنظیم اے پی این ایس نے وزیراعظم عمران خان سے پرنٹ میڈیا انڈسٹری کو موجودہ اقتصادی بحران میں سہارا دینے کیلئے پانچ مطالبات کیے ہیں۔ وزیراعظم جہاں دوسرے کاروباروں کو تحفظ دینے اور کارکنوں کی امداد کیلئے کررہے ہیں تو اس وقت پرنٹ میڈیا انڈسٹری بھی ایک امدادی پیکج کی مستحق ہے۔

کورونا وائرس کے خلاف عالمی جنگ میں یہ تاثر پختہ ہورہا ہے کہ یہ ایک حیاتیاتی ہتھیار ہے جو کسی رنگ نسل اور مذہب و زبان کی تفریق کے بغیر حملہ آور ہورہا ہے، دیگر مسلم ممالک میں مذہبی حلقے اپنی حکومتوں کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ جن میں ترکی، ایران، سعودیہ، مصر،ملائیشیا شامل ہیں، لیکن حیرت کی بات ہے کہ پاکستان کے مذہبی حلقوں میں چند ایک افراد جذباتیت کا مظاہرہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ نماز جمعہ کیلئے بعض مساجد میں پولیس سے تکرار اور لڑائی جھگڑے کے بعد لوگوں نے زبردستی نماز ادا کی۔ اگرچہ علماء اکرام کی کثیر تعداد نے ٹی وی پر نماز باجماعت ادا نہ کرنے کی وجوہات بیان کیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -