کرونا وائرس بھی اپنی عمر پوری کرنے والا ہے، وسط اپریل میں نتیجہ آئے گا

کرونا وائرس بھی اپنی عمر پوری کرنے والا ہے، وسط اپریل میں نتیجہ آئے گا

  

عالمی دوا ساز کمپنیاں ہر وائرس سے تجوریاں بھرتی ہیں

ملتان، ڈیرہ غازی خان کے قرنطینہ سنٹر بہتر کام کررہے ہیں

ملتان کی سیاسی ڈائری

شوکت اشفاق

ستمبر 2019میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والی بیماری کو کرونا وائرس کے طور پر شناخت کیا گیا جو بعدازاں ناول کرونا وائرس کہلایا لیکن متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے بعد تحقیق پر ثابت ہوا ہے کہ یہ وائرس وبائی مرض کی شکل اختیار کررہا ہے جسے بعدازاں 11مارچ 2020کو عالمی ادارہ صحت نے کووڈ19-کا نام دے کر عالمی وبائی مرض قرار دے دیا اور دنیا بھر کیلئے اس موذی بیماری سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا الرٹ بھی جاری کردیا لیکن شاید اس وقت تک یہ لیٹ ہوچکا تھا کیونکہ اس دوران چین سمیت متعدد یورپی ممالک بری طرح اس کی لپیٹ میں آچکے تھے خصوصاً اٹلی اور ایران پر اس کا حملہ بہت تیز اور سخت تھا چونکہ ایران میں ان دنوں عام انتخابات تھے جبکہ امریکہ کی طرف سے عالمی پابندیوں کی وجہ بھی اس کے پھیلنے میں معاون ثابت ہوئی البتہ اٹلی کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ بروقت حفاظتی اقدامات نہ کرنا بڑی وجہ ہے کووڈ19-،11مارچ کے بعد اس تیزی سے پھیلا کہ اس وقت دنیا کے دو سو ممالک تک پھیل کر انسانی جانوں سے کھیل رہا ہے البتہ یمن اور شام کے بارے میں ابھی تک رپورٹ نہیں ہوا کیونکہ یہ دونوں ملک گزشتہ کئی سالوں سے ناول کرونا وائرس سے بھی زیادہ مہلک بیماری ”جنگ“ میں مصروف ہیں حالت جنگ میں کسے کیا معلوم کہ گولہ اور بارود سے بڑا وائرس بھی ہوسکتا ہے، تاہم باقی ممالک میں اس کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ عوام کا عالمی ادارہ صحت اور حکومتوں کی طرف سے حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد نہ کرنا ہے جبکہ لیبارٹری ٹیسٹ کی سہولتوں کا فقدان دوسری وجہ ہوسکتی ہے مگر ان تمام باتوں پر اہم یہ ہے کہ یہ ایک عالمی وبا ئی مرض ہے جو اس وقت تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور اس کے علاج کیلئے کوئی دوائی یا ویکسین بھی ابھی تک دستیاب نہیں ہے جبکہ ایسی دوائی کی ایجاد کا بھی کوئی سنجیدہ دعویٰ ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ یہ لاعلاج ہے بالکل ایسا نہیں ہے کیونکہ یہ وائرس بھی ہزاروں سال سے آنے والی وبائی بیماریوں کی طرح ہے جو اپنا دائرہ اور وقت مکمل کرکے اپنی موت آپ مرجائے گا، یا پھر ادویات بیچنے والی کثیر الاقوامی کمپنیوں کی کتابوں اور کاروبار میں زندہ رہے گا اور اس کی ویکسین (اگر بن گئی) بھی دھڑا دھڑ بکتی رہے گی۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس سے قبل دوسرے زیادہ وائرس آئے اور ان میں سے متعدد کی دوائیاں اب بھی بک رہی ہیں جس کا مطلب ہے کہ وقتاً فوقتاً کوئی شکار ہوجاتا ہے ایچ آئی وی (ایڈز) ٹی بی، چیچک، پولیو، فلو سمیت متعدد دوسرے معروف وائرس آج بھی کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں بلکہ یہ ہی نہیں آنے والے وقتوں میں مزید اس قسم کے وائرس پھیلنے کا اندیشہ بھی موجود ہے لہذا ایک بات تو واضح ہے کہ دنیا جب تک مصنوعی وسائل کو چھوڑ کر قدرتی وسائل کی طرف نہیں آتی ایسی بیماریاں آتی رہیں تو ان کا حل صرف یہی قرار پائے گا کہ انسان انسانوں سے فاصلہ کرلے اور فی الوقت اپنے آپ کو گھروں تک محدود کرے کیونکہ اس وائرس کا سائیکل چودہ سے اکیس دنوں کا ہوتا ہے اور یہ انسانی جسم کے اندر موجود قوت مدافعت سے ختم ہوسکتا ہے اور قوت مدافعت اس وقت پیدا ہوگی جب آپ عام معمولات سے ہٹ کر گھر میں بیٹھیں گے اور اچھی خوراک لیں گے۔ ویسے بھی دنیا بھر میں ایک چیز واضح ہوچکی ہے،بازاری کھانے خصوصاً غیر صحت مند آدھا کچا آدھا پکا اور جنک فوڈ کے بغیر بھی گذارہ ہوسکتا ہے۔ نسبتاً غریب کے اندر قوت مدافعت ایک امیر کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے اور ترقی یافتہ ممالک اندر سے کتنے کھوکھلے ہیں اس کا اندازہ اب ہورہا ہے مگر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم تمام تر احتیاطی تدابیر کو پس پشت میں ڈال دیں جیسا کہ اس وقت مختلف چھوٹے بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں لوگ اسے سنجیدہ نہیں لے رہے، جو ایک خطرناک رحجان ہوسکتا ہے کیونکہ جیسا کہ اس قسم کے وائرس کا دورانیہ ہوتا ہے وہ پاکستان میں اب پورا ہورہا ہے اور رواں ہفتے سے اس کے مثبت یا منفی اثرات آنے شروع ہوجائیں گے احتیاط کرلی تو بچت ہے ورنہ وائرس تو پھر موجود ہی ہے۔ کیونکہ اس وقت چاروں صوبوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اور اس کی بنیادی وجہ عوام کا صوبائی حکومتوں کی طرف اٹھائے اقدامات پر عمل نہ کرنا ہے۔

ڈیرہ غازیخان اور ملتان میں قائم قرنطینہ سنٹرز میں رکھے گئے زائرین میں سے زیادہ تر صحت مند قرار پائے لیکن کچھ تعداد ایسی بھی ہے جو کرونا مثبت ہے جن کا علاج جاری ہے جبکہ جاری علاج والے کچھ مریض بھی صحت یاب ہوکر گھروں میں جاچکے ہیں یہ بات بڑی اہم ہے کہ صوبائی حکومتوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافے کی خطرناک اوسط کے پیش نظر سندھ اور پنجاب میں کرفیو لگانے پر سنجیدہ غور ہورہا ہے ایک آدھ دن تک اس پر عمل درآمد بھی ہوسکتا ہے کیونکہ اس عالمی وبائی مرض سے بچنے کا واحد یہی علاج باقی رہ گیا ہے دوسری طرف جنوبی پنجاب سرکاری ارکان اسمبلی کی طرف سے ایسے نازک حالات میں حلقے کے عوام سے رابطہ نہ رکھنا سیاسی طور پر نقصان دہ بن رہا ہے اور گزشتہ دنوں ملتان اور دیگر علاقوں کے ارکان اسمبلی کے بارے میں سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بن گیا اور ان کی گمشدگی کی بے شمار پوسٹیں لگائی گئیں لیکن مجال ہے جو کسی کے کان پر جوں رینگی ہو ہاں البتہ یہ ضرور ہوا کہ انہوں نے میڈیا کو نامعلوم جگہ سے بیٹھے بیٹھے یہ بیانات جاری کردئیے کہ وہ حلقے کے عوام سے رابطے میں ہیں مگر کس حلقے کے عوام سے رابطے میں ہیں یہ بتانے سے قاصر رہے کچھ ارکان نے دعویٰ کیا کہ وہ حلقے کے غریب اور ضرورت مندوں کی مدد کرچکے اور کررہے ہیں جبکہ باقی کی لسٹیں تیار ہورہی ہیں اب اگر ایک منتخب رکن اسمبلی کو اپنے حلقے کے بارے میں یہ بنیادی معلومات بھی نہیں ہیں تو پھر یہ الزام درست معلوم ہوتا ہے کہ وہ جیتے نہیں بلکہ جتوائے گئے ہیں جماعت اسلامی کے سوا کوئی سیاسی جماعت عوامی رابطے میں نہیں ہے۔ جس کی ذیلی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن نے اپنے ہسپتال، لیبارٹریاں ایمبولینس اور دوسرے وسائل سرکاری ہسپتالوں کے ساتھ وابستہ کردئیے ہیں تاکہ ان سے عوامی بھلائی کا کام لیا جائے مگر قومی سیاسی جماعتیں کہلانے والی خود اور نہ ان کے عہدیدار کہیں بھی متحرک نہیں ہیں حالانکہ وہ ضرورت مندوں کے ساتھ رابطے اور ان کی مدد کرکے وہ سرخرو ہوسکتے تھے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -