لاک ڈاؤن نے پیداواری سرگرمیوں کونقصان پہنچایا ہے، اے سی سی اے

لاک ڈاؤن نے پیداواری سرگرمیوں کونقصان پہنچایا ہے، اے سی سی اے

  

کراچی (اکنامک رپورٹر) اپنی حالیہ اقتصادی بریفنگ میں دی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس(اے سی سی اے) نے COVID-19 کی وباء سے پیدا ہونے والے معاشی نتائج پر خصوصی معلومات کا تبادلہ کرتے ہوئے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ کاروباری اداروں کوہونے والے نقصانات اور وسیع پیمانے پر بے روزگاری سے بچنے کے لیے بڑے مالی اقدامات کریں۔وائرس کا پھیلاؤ روکنے کی غرض کیے گئے سرکاری اقدامات نے ڈرامائی طور پر اقتصادی سرگرمیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اِن اقدامات کے تحت ہوٹلوں، دکانوں، ریستورانوں کی بندش، سفر ی سرگرمیوں میں کمی اور بعض علاقوں میں مکمل لاک ڈاؤن نے پیداواری سرگرمیوں اور روزگار کو براہ راست نقصان پہنچایا ہے۔اس اقتصادی صدمے کا فوری نتیجہ بے روزگاری کی شرح میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوگاجو متعدد ممالک میں دوہرے اعداد والے فیصد میں داخل ہو جائے گی۔اگر ایسے حالات، تین ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک جاری رہتے ہیں، تو اس بات کا قطعی امکان موجود ہے کہ پیداواری نتائج 10 فیصد سے بھی کم ہو جائیں۔ جب پالیسی اقدامات کی کامیابی کے نتیجے میں یہ طبی بحران ختم ہو جائے گا، اُس کے بعد اقتصادی ترقی کی مناسب شرح خاصی تیزی سے بحال ہو جائے گی۔ تاہم، ضائع شدہ بعض اقتصادی سرگرمیوں سے، مثلاًٹی وی اور دیگر نمائشی اشیاء کی خریداری میں تاخیرسے پیدا ہونے والے صورت حال سے نمٹنا ہو گا۔ اس کے باوجود بعض اقتصادی نقصانات – جن میں سروس سیکٹر میں ہونے والے نقصانات بھی شامل ہیں – مثلاً ہوٹلوں، ریستورانوں، سنیماؤں وغیرہ کے منسوخ شدہ دوروں سے ہونے والے نقصانات کا کبھی بھی ازالہ نہیں ہو سکے گا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -