مزدوروں کی سہولیات یقینی بنانے کیلئے لیبر ڈیپارٹمنٹ سے رجسٹریشن

مزدوروں کی سہولیات یقینی بنانے کیلئے لیبر ڈیپارٹمنٹ سے رجسٹریشن

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)صوبے میں موجود کسی بھی کارخانے، شاپنگ مال اور دوکانوں سمیت کسی بھی ادارے میں کام کرنے والے مزدوروں کو سوشل سیکیورٹی کی سہولیات یقینی بنانے کے لیے ان کی لیبر ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ رجسٹریشن کو لازمی قرار دے دیا گیا اور مزدوروں کے کوائف جمع کرانے اور رجسٹریشن کی زمہ داری ایمپلائر پر عائد کی گئی ہے بصورت دیگر متعلقہ ادارے کے خلاف قانونی چارہ جوئی عمل میں لائی جائے گی اس بات کا فیصلہ گزشتہ روز صوبائی وزیر محنت اور ثقافت شوکت یوسفزئی کی زیر صدارت محکمہ لیبر کے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری لیبر، ڈائریکٹر جنرل ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹیٹیوٹ، سیکرٹری ورکر ویلفئیر بورڈ اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کیا۔ اجلاس میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے صورت حال اور اس سے بیروزگار ہونے والے مزدوروں کو سہولیات کی فراہمی اور مسائل پر تفصیلی گفت و شنید کی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا صوبے میں موجود لیبر ڈیپارٹمنٹ کے 28 ہیلتھ فسیلیٹیز اور ریگی للمہ میں موجود لیبر ڈیپارٹمنٹ کے 1200 فلیٹس کو قرنطینہ کے طور پر استعمال کرنے کے لیے محکمہ صحت سے بات ہو گی۔ ان کو قرنطینہ بنانے کے لیے اس میں سہولیات کی موجودگی محکمہ صحت یقینی بنائے گی۔ ریگی للمہ میں موجود لیبر ڈیپارٹمنٹ کی زمین پر 500 بستروں کا سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال بنانے کے لیے وفاق اور صوبائی حکومت سے بات کی جائے گی۔ اس ہسپتال میں مزدوروں کا علاج بلامعاوضہ کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنر کے ساتھ مزدوروں کا ڈیٹا شیئر کیا جائے گا تاکہ ان مزدوروں کو ریلیف پیکج میں شامل کیا جا سکے کیونکہ صرف میڈیسن اور خوراک کی چیزیں بنانے والے کارخانوں کے سوا سب بند ہیں۔ لیبر کالونیوں میں ماسکس کی فراہمی اور جراثیم کش سپرے کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر سے بات کی جائے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لیبر ہسپتال کو کورونا وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی کٹس مہیا کرنے کے لیے محکمہ صحت سے بات چیت کی جائے اور کم از کم ان ہسپتالوں میں کورونا وائرس ٹیسٹس جلد از جلد شروع کیے جائیں تاکہ مزدوروں کو ٹیسٹس کرنے کی سہولت موجود ہو۔ منرل ڈیپارٹمنٹ کے زیر انتظام صوبے کے مائنز میں کام کرنے والے مزدوروں کی رجسٹریشن لیبر ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ کرانے کے لیے محکمہ مائن اور منرلز سے بات ہو گی۔ محکمہ مائن اور منرلز براہ راست مائن کی لیز کرتا ہے اور پھر ٹھیکیدار ان مائن میں کام کرنے والے مزدوروں کی نگرانی کرتا ہے۔ اب ان مزدوروں کو بھی سوشل سیکیورٹی اور سہولیات فراہم کرنے کے لیے ان کی رجسٹریشن کے لیے محکمہ مائن اور منرلز سے بات چیت کی جائے گی۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ مزدور طبقہ معاشرے میں سب سے محروم طبقہ ہے۔ ان کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان کو بھی اس محروم طبقات کا بہت احساس ہے اور ان کو سہولیات اور اشیائے ضروریہ پہچانے کے لیے ملک بھر میں احساس پروگرام شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کی بھلائی اور فلاح و بہبود کے کاموں کے لیے وزیر اعلیٰ محمود خان کا مکمل سپورٹ ہمارے ساتھ ہے اور موجودہ حالات میں مزدوروں کو سہولیات پہچانے کے لیے ایمرجنسی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں مزدوروں کی سوشل سیکیورٹی کو ہر حال میں یقینی بنائیں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -