دیگر ڈاکٹروں کو سب سے پہلے کورونا وائرس کی خبر دینے والی خاتون چینی ڈاکٹر اب کہاں ہے؟ انتہائی پریشان کن خبر آگئی

دیگر ڈاکٹروں کو سب سے پہلے کورونا وائرس کی خبر دینے والی خاتون چینی ڈاکٹر اب ...
دیگر ڈاکٹروں کو سب سے پہلے کورونا وائرس کی خبر دینے والی خاتون چینی ڈاکٹر اب کہاں ہے؟ انتہائی پریشان کن خبر آگئی

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین میں ساتھی ڈاکٹروں کو سب سے پہلے کورونا وائرس سے متنبہ کرنے والی خاتون ڈاکٹر پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئی۔ میل آن لائن کے مطابق اس ڈاکٹر کا نام ائی فین (Ai Fen)تھا اور وہ ووہان سنٹرل ہسپتال میں فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ جب ابھی کورونا کے متعلق کسی کو علم نہیں تھا اور لوگ پراسرار طور پر بیمار پڑنے اور ہسپتال آنے لگے تھے تو ڈاکٹر فین نے اپنے ساتھی ڈاکٹروں کو متنبہ کیا کہ ووہان میں ’سارس‘ کی طرح کی کوئی وباءپھیل چکی ہے جو آئندہ دنوں میں سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے۔

ڈاکٹر فین نے اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جس میں انہوں نے لوگوں کو اس وباءسے متعلق خبردار کیا تھا۔ ڈاکٹر فین کا خدشہ درست ثابت ہوا اور اس پراسرار بیماری کی شناخت بالآخر کورونا وائرس کے نام سے ہوئی جس نے اپنی پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس کے چند روز بعد ووہان میں لاک ڈاﺅن ہو گیا اور اسی ہلچل میں کسی کو احساس نہیں ہوا کہ ڈاکٹر فین کہاں لاپتہ ہیں۔ اب لاک ڈاﺅن ختم ہونے کے بعد ان کے غائب ہونے کا علم ہوا ہے اور مغربی میڈیا کی رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس کے متعلق زبان کھولنے پر ڈاکٹر فین کو ممکنہ طور پر گرفتار کیا جا چکا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر فین کو غیرقانونی طور پر آن لائن جھوٹی اطلاعات پھیلانے پر حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے ابتدائی دنوں میں ایک چینی میگزین کو انٹرویو بھی دیا تھا جس میں انہوں نے ووہان سنٹرل ہسپتال کی انتظامیہ پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے کورونا وائرس سے متعلق ابتدائی وارننگ کو نظرانداز کیا۔ اس انٹرویو کے بعد سے ڈاکٹر فین کو کہیں نہیں دیکھا گیا۔

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -