اٹلی کی وہ جگہ جہاں 50 ہزار چینی رہتے ہیں لیکن وہاں کورونا وائرس کا ایک بھی کیس نہیں، یہ کیسے ممکن ہوا؟ حیران کن تفصیلات جانئے

اٹلی کی وہ جگہ جہاں 50 ہزار چینی رہتے ہیں لیکن وہاں کورونا وائرس کا ایک بھی کیس ...
اٹلی کی وہ جگہ جہاں 50 ہزار چینی رہتے ہیں لیکن وہاں کورونا وائرس کا ایک بھی کیس نہیں، یہ کیسے ممکن ہوا؟ حیران کن تفصیلات جانئے

  

روم(مانیٹرنگ ڈیسک) اٹلی کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں یہ موذی وباءاب تک 12ہزار سے زائد لوگوں کی زندگیاں نگل چکی ہے مگر اٹلی میں ایک جگہ ایسی ہے جہاں 50ہزار سے زائد چینی شہری رہتے ہیں لیکن حیران کن طور پر وہاں کورونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ ڈیلی سٹار کے مطابق اس شہر کا نام ٹسکین ٹاﺅن ہے جہاں چینی شہریوں کی اکثریت ہے۔ ان لوگوں میں سے اکثر اٹلی میں کورونا وائرس پھیلنے سے قبل چین کے نئے سال پر چین گئے تھے اور وہاں سے واپس اٹلی آئے تھے۔ یہ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آئے تھے کہ چین میں کیا ہو رہا ہے چنانچہ اٹلی میں یہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے دوسروں کو خوفناک وباءسے خبردار کیاتھا اور گھروں میں رہنے کی تلقین کی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان چینی باشندوں نے چین کے حالات کو دیکھتے ہوئے خود بخود سماجی میل جول کم کر دیا اور وہ تمام احتیاط برتنے لگے جو چین میں برتی جا رہی تھیں۔تب تک اٹلی میں کورونا وائرس کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس ٹاﺅن سے کورونا وائرس کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا۔ ابتداءمیں جب اٹلی میں کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا تو مقامی آبادی نے اس چینی کمیونٹی کو نفرت کی نظروں سے دیکھنا شروع کر دیا۔ ان کے خیال میں کورونا وائرس ان لوگوں کی وجہ سے پھیلا تھا لیکن اب یہ بات غلط ثابت ہو چکی ہے اور اطالوی حکام اس کو تسلیم کر رہے ہیں۔ اطالوی وزارت صحت کے اعلیٰ عہدیدار رینزو بیرتی کا کہنا تھا کہ ”ہم اس چینی کمیونٹی کو مسئلہ سمجھ رہے تھے لیکن حقیقت میں انہوں نے ہم سے زیادہ ذمہ دارانہ طرزعمل کا مظاہرہ کیا اور ہمارے لیے ایک مثال قائم کر دی۔ اگر باقی اطالوی شہری بھی انہی کی طرح ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے تو ملک میں کورونا وائرس کی وباءاتنی شدت اختیار نہ کرتی۔“

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -