کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کو ٹی وی پر مدعو کیا جائے تاکہ ۔۔۔فردوس عاشق اعوان نےایسی بات کہہ دی کہ آپ بھی حمایت کریں گے

کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کو ٹی وی پر مدعو کیا جائے تاکہ ...
کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کو ٹی وی پر مدعو کیا جائے تاکہ ۔۔۔فردوس عاشق اعوان نےایسی بات کہہ دی کہ آپ بھی حمایت کریں گے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت نے کورونا وائرس یا کووڈ 19 وبائی امراض کے بارے میں رپورٹ کرنے کے لیے قرنطینہ مراکز اور انتہائی نگہداشت یونٹوں (آئی سی یو) کے دورے کرنے والے صحافیوں کو حفاظتی کٹ فراہم کرے گی،کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کوٹی وی پر مدعو کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے لوگوں میں وبا کے حوالے سے پھیلے خوف و ہراس کو کم کرنے میں مدد ملے گی جبکہ اس سے معاشرے میں ایسے مریضوں کو درپیش امتیازی سلوک میں بھی کمی آئے گی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں صوبائی وزرائے اطلاعات کی ویڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ صحافی کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کی حفاظت اور صحت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت جلد ہی ایک ’کیئر فار میڈیا‘ (میڈیا کا خیال رکھنا) موبائل ایپ لانچ کرے گی جو صحافی برادری میں سے کسی میں کورونا وائرس کے تصدیق ہونے پر معلومات اور علاج کے لیے مدد فراہم کرے گی۔میڈیا مالکان کو پریس کلبز کو ساتھ ملانے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے سب سے زیادہ متاثر ہاکرز ہوئے ہیں کیونکہ اخباروں کی تقسیم میں خلل پڑا ہے،ان (ہاکروں) کو حکومت کے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام میں بھی شامل کیا جائے گا۔انہوں نے رواں مالی سال کے اختتام سے قبل میڈیا کے واجبات کی ادائیگی کی منظوری پر بھی زور دیا۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے میڈیا سے گزارش کی کہ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کوٹی وی پر مدعو کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے لوگوں میں وبا کے حوالے سے پھیلے خوف و ہراس کو کم کرنے میں مدد ملے گی جبکہ اس سے معاشرے میں ایسے مریضوں کو درپیش امتیازی سلوک میں بھی کمی آئے گی۔مثبت خبروں (صحت یابی کے بارے میں) کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سارا دن منفی سننے سے اور مسلسل تعداد میں اضافہ ہوتا دیکھ کر لوگوں کی ذہنی صحت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔انہوں نے قوم سے بھی درخواست کی کہ وہ کورونا وائرس کے مریضوں کو ’تیسرے درجے کے شہریوں‘ کی حیثیت سے پیش نہ کریں اور مزید کہا کہ وزیر اعظم نے بھی منگل کی کابینہ کے اجلاس میں اس کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ’صحت یاب ہونے والے مریضوں کو اییر ٹائم دے کر ہم عوام کی سوچ کو تبدیل کرسکتے ہیں۔اجلاس کے دوران وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ کورونا ٹائیگر فورس کا نام تبدیل کرکے غیر جانبدار کردیں۔ساتھ ہی انہوں نے یقین دلایا کہ سندھ حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ ہر طرح سے تعاون کرے گی اور وزیر اعظم کی طرف سے جاری کردہ کسی بھی مشورے پر عمل کرے گی۔فردوس عاشق اعوان نے اس کے جواب میں کہا کہ ’وجہ سے زیادہ نام اہم تھا‘ اور وزیر اعلیٰ سندھ قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم سے اس پر تبادلہ خیال کرسکتے ہیں۔ناصر حسین شاہ اور فردوس عاشق اعوان دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس کا مقصد کورونا وائرس سے متعلق صحت کے بحران پر قابو پانا تھا۔

مزید :

قومی -کورونا وائرس -