کو ہستان کا پورا علاقہ انتہائی خشک اور بے رنگ ہے جیسے کسی اور ہی سیارے کی زمین ہو

کو ہستان کا پورا علاقہ انتہائی خشک اور بے رنگ ہے جیسے کسی اور ہی سیارے کی ...
 کو ہستان کا پورا علاقہ انتہائی خشک اور بے رنگ ہے جیسے کسی اور ہی سیارے کی زمین ہو

  

قسط :34

 ہم بس تک پہنچے تو ندیم بس کی چھت پر چڑھا ہمارے بے قفل بیگ کھول کھول کر رینجر کے جوان کے آ گے کر رہا تھا۔ ہما رے بیگ ہماری طرح غیر اہم اور بے بضاعت تھے اس لیے جلدی فار غ ہو گئے۔ اسلام آ باد والا عثمان فکر مند تھا کیو ں کہ اس کے رک سیک میں ایک پستول تھا۔ اگرچہ اس کے پاس لائسنس تھا لیکن مو جودہ حا لات میں پستول کا برآمد ہونا پریشانی کا باعث ہو سکتا تھا۔ وہ کئی برسوں سے فیری میڈوز کی طرف سے نانگا پربت کے بیس کیمپ تک جانے کا پروگرام بناتا تھا لیکن ہر بار آ خری وقت پر دوست دغا دے جاتے تھے۔ اس بار باطن میں چلنے والی ہوا ئیں ایسی شدید ہو ئیں کہ وہ تنہا ہی ان کے دوش پر اڑ نکلا۔ اس کی داہنی کلا ئی میں چھو ٹی بہن کا باندھا ہوا منت کا ڈورا تھا۔ 

یہ بہنیں بھی عجیب ہو تی ہیں۔ عام طور پر ان کا کام بھا ئیوں سے جھگڑنا، مخبری کی دھمکی دے کر بھا ئیوں کو بلیک میل کرنا اور ان کا ناک میں دم کر نا ہوتا ہے۔ لیکن ذرا بھائی کے پاوں میں کانٹا چبھ جائے، کو ئی ان کے بھا ئی کو ذرا میلی آ نکھ سے دیکھ لے، بس پھر ان چڑیلوں سے زیادہ بھا ئی کا محا فظ، ہم درد اور پیار کر نے والا کو ئی نہیں ہو تا۔ 

تو بھائی کو تنہا سفر پر جاتے دیکھ کر عثمان کی بہن نے بھی اس کی کلائی پر ایک سرخ ڈورا باندھ دیا تھا۔ جہا ں تک میرا تعلق ہے میں ڈوروں اور دھا گو ں پر قطعا ً یقین نہیں رکھتا۔۔۔ لیکن بہنوں کی محبت پر میرا اعتقاد بہت پکا ہے۔ رینجر کا جوان اب عثمان کے رک سیک کے پاس تھا۔ عثمان نے رومال سے ہتھیلیوں کا پسینہ پو نچھا اور بس پر چڑھ کر بیگ کا مونھ کھول دیا۔ رینجر نے ایک سر سری سی نگاہ اس کے بیگ میں ڈالی اور دوسرے مسافر کو اوپر آ نے کا اشارہ کر دیا۔ عثمان شریف آ دمی تھا لیکن اگر کسی اور کے سامان میں بھی یو ں ہی اسلحہ ہوا اور تلا شی میں نظر انداز ہو گیا تو۔۔۔؟ یہ بات فکر کی تھی۔ 

 تلا شی کا مرحلہ ختم ہوا تو پھر آ گے چلے۔ دوپہر کی تیز دھوپ اور لُو بس کی کھڑ کیوں سے اندر آ رہی تھی۔ گرمی بڑھ گئی تھی لیکن ڈرائیور، ناٹکو کے تمام ڈرائی وروں کی طرح، اے سی چلانے میں دل چسپی نہیں رکھتا تھا۔جب گرمی حد سے بڑ ھنے لگی تو مسافروں نے پہلے آ ہستہ اور پھر اونچی آواز میں اے سی چلانے کا مطا لبہ شروع کر دیا۔ با لا ٓ خر اسے مانتے ہی بنی۔ اے سی چلنے سے ما حول کچھ بہتر ہونا شروع ہوا۔ اب باہر ایک سا منظر تھا، جیسے ایک ہی تصویر مسلسل دوہرائی جا رہی ہو۔ کو ہستان کا پورا علاقہ انتہائی خشک اور بے رنگ ہے جیسے کسی اور ہی سیارے کی زمین ہو۔ پو رے ضلع میں سڑک کی حالت انتہائی سے بھی زیادہ خراب ہے۔ کو ہستان سے ناٹکو کی بس میں گزرتے مسافر بھٹی کے دانوں کی طرح اتھل پتھل ہوتے ہیں، مسلسل اچھل کود اور تھر تھراہٹ سے میری بھی پسلیوں میں درد ہو رہا تھا۔ اس پر ناٹکو کی نشستیں جو مسافر کو ٹکنے ہی نہیں دیتیں۔ سڑک نہ بننے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ سڑک کا موجودہ ٹکڑا غالباًدیامر بھاشا ڈیم میں آنے والا ہے اس لیے اس سڑک کو چھوڑ کر کا فی اونچائی پر پہا ڑ کاٹ کر سڑک بنا نے کا عمل جاری تھا۔ سرخ رنگ کی بچھو نما آہنی مشینیں جا بجا پہا ڑوں کی ڈھلوانوں پر اپنی سرخ پونچھوں کے ساتھ پہا ڑکا ٹنے اور راستے بنانے میں مصروف تھیں۔سازین گزرا پھر چلاس آگیا۔ چلاس کے پاس ہی درّہ با بو سر ہے جو ناران اور کو ہستان کو ملاتا ہے۔اگر یہ سڑک اچھی بن جائے تو مسافروں کو بہت سہولت ہو جائے۔ایک زمانے میں یہ گلگت بلتستان کے را ستے چین کو ہندوستان سے ملا نے کا وا حد راستہ ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ راستہ بھی مذ ہبی انتہا پسندی کے باعث مسافروں کے لیے پُر خطر اور جان لیوا ہو تا جاتا ہے۔ (اب درہ بابوسر کو چلاس سے ملانے والی سڑک بہ ترین ہے اور ٹریفک ادھر ہی سے آ نے جانے لگا ہے)۔ آ ج بھی ان راستوں پر بدھ مت کے آثار اس دور کے غمّازہیں جب یہا ں بدھ حکم رانوں کا سکّہ چلتا تھا۔لیکن امکان ہے کہ ”بت شکن“ مسلمان یہ نشان زیادہ دیر رہنے نہیں دیں گے۔ شاہ راہ ِ ریشم نے اس علا قے کی ترقی اور تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ترقی تو ہو ٹلو ں اور دکا نوں کی تعداد سے ظاہر تھی اور جب کسی علاقے میں بجلی اور سڑک پہنچ جائے تو تہذیب و تمّدن کا چہرہ نامحسوس طریقے سے خود ہی بدلتا چلا جاتا ہے۔ تنہا ئی کا حصار ٹوٹنے اور رابطے بڑھنے سے تبدیلی بن بلا ئے چلی آ تی ہے اور پھر واپس نہیں جاتی۔ چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا۔

کافی دور آکرسڑک ہم وار ہوگئی ۔ چین نے جو نئی سڑک بنائی ہے اس کی ہم واری مو ٹر وے کو مات کرتی ہے۔ یہاں پہنچتے ہی گاڑی کی کھڑ کھڑا ہٹ اور دھڑ دھڑا ہٹ ختم ہو جاتی ہے۔ محسوس ہوتا ہے گویا آپ ہوا میں پرواز کرنے لگے ہیں۔ ایک ویرانہ بس کے ساتھ ساتھ دائیں بائیںبھاگ رہا تھا۔ تّتا پانی آ یا۔ سڑک کے ساتھ کسی کسی جگہ پہا ڑوں سے پانی رِس رہا تھا جو نیچے نالی میں بہتا تھا۔ جہاں جہاں سے پا نی گزرتا تھا وہا ں پتھروں پر سر خی مائل گہرے پیلے رنگ کی تہ چڑھی ہو ئی تھی۔ اس خطے میں گرم پا نیوں کے کئی چشمے ملتے ہیں۔ انہیں مقامی لوگ ”تتا پانی اور تا توپانی“ یعنی گرم پانی کہتے ہیں۔ را ئے کو ٹ یہا ں سے 5 کلو میٹر دور تھا۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -ادب وثقافت -