جب عرب والوں نے اپنے شمال کے ملکوں کا رخ کیا اور فتوحات حاصل کیں

جب عرب والوں نے اپنے شمال کے ملکوں کا رخ کیا اور فتوحات حاصل کیں
جب عرب والوں نے اپنے شمال کے ملکوں کا رخ کیا اور فتوحات حاصل کیں

  

مصنف : ای مارسڈن 

 مسلمان

 عرب کے ملک کا اکثر حصہ خشک اور بنجر ہے۔ جہاں نہ دریا ہیں نہ جھیلیں، ملک کا ملک بڑے بڑے ریگستانوں سے بھرا پڑا ہے۔ ان میں کہیں کہیں کوئی سرسبز قطعہ زمین بھی ملتا ہے۔ جہاں گھاس اگتی ہے۔ کھجوروں کے جھنڈ نظر آتے ہیں اور کنوئیں یا چشمے کا پانی میسر آ جاتا ہے۔ اگلے وقتوں میں عرب میں وحشی قومیں آباد تھیں جو اپنے ریوڑوں اور گلوں کو لیے گھاس چارے کی تلاش میں خانہ بدوش ہو کر برابر جگہ جگہ پھرتی رہتی تھیں۔ یہ لوگ جاہل اور جنگ جو تھے۔ مختلف قبیلے آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ ان کے رسم و رواج بھی خراب اور وحشیانہ تھے۔

 مسیح سے تقریباً 600سال بعد عرب میں ایک نبی پیدا ہوئے۔ جن کا نام محمد تھا۔ اہل عرب کے رسم و رواج کی خرابیوں کو دیکھ کر ان کا دل بہت کڑھا اور ان کی بہتری اور اصلاح کے بارے میں جو کچھ ان سے ہو سکا کیا۔ ان کی تعلیم یہ تھی کہ خدا ایک ہے۔ بتوں کا پوجنا گناہ ہے۔ آپس میں لڑنا برا ہے۔ اول اول اہل عرب نے کان دھر کر ان کی بات نہ سنی، بلکہ انہیں سخت ایذائیں پہنچائیں، لیکن زمانے کے گزرنے پر تعصب کم ہوا۔ بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے بت توڑ ڈالے اور پیغمبر صاحبﷺ کے ساتھ ہوئے۔

 عرب کے جو قبیلے اپنے قدیم دستوروں کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے حضرت محمد اور ان کے پیرﺅں کو بہت ستایا، لیکن آخر کار یہ بھی مغلوب ہو گئے اور 632ءتک جب آنحضرتﷺ کا وصال ہوا۔ قریب قریب کل ملک ان کا فرمانبردار ہو چکا تھا۔ آپﷺ نے جس مذہب کی تلقین کی اس کا نام اسلام ہے۔ اس مذہب پر چلنے والوں کو اہل اسلام یا مسلم یا مسلمان کہتے ہیں۔ مسلمان قرآن شریف کو مقدس اور آسمانی کتاب مانتے ہیں اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ خدا ایک ہے اور حضرت محمدﷺ اس کے رسول ہیں۔ خدا کے نزدیک سب مسلمان مساوی بلکہ بھائی بھائی ہیں۔ اسلام میں ہندوﺅں کی طرح ذات پات کی تمیز نہیں۔

مکہ والوں کی بدسلوکی سے بچنے کے لیے 622ءمیں حضرت محمدﷺمکہ چھوڑ کر مدینے میں چلے گئے۔ اس واقعہ کو ہجرہ یا ہجرت کہتے ہیں۔ سن ہجری یہیں سے شروع ہوتا ہے۔

 جب کل اہل عرب مسلمان ہو گئے اور ایک حاکم کی حکومت میں آ گئے تو ان کی ایک زبردست قوم بن گئی۔ گو آپس میں لڑنا کٹنا موقوف ہو چکا تھا، مگر یہ اب بھی دلیر اور جنگجو تھے۔ دین اسلام نے ان کے سینوں میں بڑا جوش اور ولولہ پیدا کیا۔ ان کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ غیر ملکوں میں جا کر اپنا دین پھیلائیں اور جو لوگ خوشی سے دین اسلام قبول کریں ان کو اپنا بھائی سمجھ کر مہربانی سے سلوک کریں، کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ اس قسم کی کوشش میں جو دیندار مارے جاتے ہیں بہشت میں جاتے ہیں۔ جو لوگ ان کے مطیع ہو کر اپنا ایمان بدلنا نہیں چاہتے تھے۔ ان کو اپنے مال و جان کی حفاظت اور فوجی خدمت کے عوض میں ایک ٹیکس دینا پڑتا تھا جسے جزیہ کہتے ہیں۔

 عرب والوں نے اول اول ان ملکوں کا رخ کیا جو ان کے شمال میں واقع ہیں، اور ان کو آسانی سے فتح کر لیا۔ اس کامیابی سے اور ملکوں کے فتح کرنے اور ان میں اپنا مذہب پھیلانے کی آرزو بھی پیدا ہوئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ملک پر ملک فتح ہوتا چلا گیا۔ 100 برس کے عرصے میں فارس، ترکستان، افغانستان اور آس پاس کا وہ کل ملک جو کسی زمانے میں دارا اور افراسیاب کی سلطنت میں شامل تھا، فتح ہو گیا اور ان سب ملکوں نے دین اسلام قبول کر لیا۔

 فارس میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو عرب والوں کے مطیع نہ ہوئے اور نہ انہوں نے دین محمدی قبول کیا۔ وہ فارس سے نکل کر ہند میں چلے آئے۔ چنانچہ 1200 برس سے یہیں آباد ہیں۔ پارسی کہلاتے ہیں اور قدیم آرین لوگوں کی طرح آگ کو جلوہ خدا تصور کرتے ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر مغربی ساحل پر بمبئی احاطے میں آباد ہیں۔ بڑے نیک، امن دوست اور ہوشیار تاجر ہیں۔ بعض بعض پارسی بڑے مالدار ہیں اور بہت سا روپیہ خیرات اور رفاہِ عامہ کے کاموں میں خرچ کرتے ہیں۔

 ہند کے شمال کے ملکوں پر چونکہ اہل عرب کے حملے شروع ہو چکے تھے۔ اس لیے فارس اور تاتار کے لوگوں کو اتنی فرصت نہ ملی کہ وہ ہند پر چڑھائی کریں۔ اس وجہ سے کئی صدیوں تک شمالی ہند ان قوموں کے حملوں سے بچا رہا۔ (جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -