پولیس کلچر تبدیل کرنے کیلئے اقداما ت کررہے ہیں، ڈاکٹر احسا ن صادق

پولیس کلچر تبدیل کرنے کیلئے اقداما ت کررہے ہیں، ڈاکٹر احسا ن صادق

  

  ملتان (  وقا ئع  نگار) ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس جنوبی پنجاب(بقیہ نمبر16صفحہ6پر)

 ڈاکٹر احسان صادق نے کہا ہے کہ پولیس کلچر میں تبدیلی کے لیے طویل المدتی فوائد کے حامل منصوبوں پر کام کررہے ہیں ماضی کی نسبت اب پولیس میں بہت سی تبدیلیاں آ چکی ہیں ماضی میں تھانہ خوف و دہشت کی علامت سمجھا جاتا تھا لیکن اب کمیونٹی پولیسنگ کے فروغ سے صورتحال یکسر مختلف ہو چکی ہے جب تک شہری تعاون نہ کریں تیز تر تبدیلی ممکن نہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ریجنل پولیس آفیسر ملتان جاوید اکبر ریاض اور اے آئی جی ڈسپلن عمران شوکت بھی اس دوران موجود تھے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس جنوبی پنجاب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی پولیس اسٹیشن تک آسان رسائی کے لیے فرنٹ ڈیسک کاؤنٹر متعارف کروائے گئے ہیں اسی طرح 15 پکار کال پر بھی لوگوں کو پولیس کی مدد حاصل ہوجاتی ہے کوشش ہے کہ زبانی جمع خرچ کی بجائے لوگوں کو عملی اقدامات سے مطمئن کیا جائے انہوں نے کہا کہ میڈیا معاشرے کی آنکھ اور کان ہے معاشرتی اصلاح اور ترقی میں میڈیا کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا الیکٹرانک اور پھر سوشل میڈیا کی وجہ سے بھی بہت سی معاشرتی تبدیلیاں آئی ہیں اور پولیس بھی ان معاشرتی تبدیلیوں کا حصہ ہے انہوں نے کہا کہ اگر شہری آئین اور قانون کے پابند ہیں تو پولیس بھی اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنے کی پابند ہے پولیس میں سزا جزا کا مثر نظام نظم و ضبط کو قائم رکھنے میں مددگار ہے ڈاکٹر احسان صادق نے کہا کہ ٹریفک منیجمنٹ کمیٹیاں قائم  کر کے جنوبی پنجاب کے شہروں میں ٹریفک کے مسائل کا حل تلاش کرنے میں پیش رفت کی جا رہی ہے  اس حوالہ سے طلبا اور رضاکاروں کو ٹریفک سکاٹس کے طور پر لایا جائے گا لوگوں میں ٹریفک بارے شعور کو اجاگر کیا جائے گااسی طرح لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے  مصالحتی کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اچھی شہرت کے حامل افراد شامل کئے جائیں گے تاکہ مصالحت کے ذریعے لوگوں کے مسائل حل کر کے پولیس اسٹیشن پر کام کے بوجھ کو کم کیا جا سکے انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے کچے کے علاقوں میں ڈاکوں کی نقل و حرکت کو روکنے اور مجرمانہ سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں کچے میں پولیس چوکیوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے نفری کی کمی دور کی جا رہی ہے نئے تھانے قائم کئے جا رہے ہیں اور اسی علاقہ کے لوگوں کو پولیس میں بھرتی کر کے جرائم کی بیخ کنی  کو یقینی بنایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ ڈولفن اور محافظ فورس کے بہترین استعمال سے سٹریٹ کرائم میں کمی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو مزید بہتر کیا جا رہا ہے پولیس کو بیک وقت مختلف اقسام کے فرائض کی انجام دہی کرنا ہوتی ہے جس کے لیے پولیس سسٹم کو بھی اپ ڈیٹ  کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ جرائم میں کمی کے لیے معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے پولیس اکیلے ہر محاذ پر کامیاب نہیں ہوتی انصاف کی فراہمی میں تاخیر کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کے لیے جھوٹ کی آمیزش والی درخواست انصاف کی فراہمی میں روکاوٹ اور تاخیر کا باعث ہوتی ہے البتہ بعض پولیس والے بھی طمع نفسانی کے لیے نا انصافی کر جاتے ہیں لیکن ایسے افسران کو سخت احتسابی عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اختیار سے تجاوز کرنے یا غلط استعمال کرنے پر نوکری سے  بھی فارغ ہو جاتے ہیں سزا یافتہ افسران کو ایس ایچ او لگانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسے افسران کی سزائیں یا تو سینئر افسران کے پاس اپیلوں میں یا سروس ٹریبونل اور عدالتوں سے ختم ہو چکی ہوتی ہیں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس جنوبی پنجاب نے کہا کہ ماہ رمضان المبارک میں خصوصی حفاظتی اقدامات کئے جا رہے ہیں دہشت گردی پر قابو پانا ہماری ترجیحات ہیں صرف سی ٹی ڈی ہی نہیں تھانوں کی پولیس بھی دیگر اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گری کے خلاف نبرد آزما ہے اور امن کے دیپ روشن رکھنے میں پولیس افسران اور جوانوں کا خون شامل ہے انہوں نے کہا کہ تعطل کے شکار ملتان سیف سٹی پراجیکٹ کے فنڈز کے حصول کے لیے تحرک کررہے ہیں تاکہ اسے مکمل کر کے استفادہ کیا جا سکے  جنوبی پنجاب پولیس آفس لوگوں کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کررہا ہے اب لوگوں کو تیسری تبدیلی تفتیش کے لیے لاہور جانے کی زحمت سے چھٹکارہ مل گیا ہے اسی طرح افسران اور ملازمین کو اپنے مسائل کے حل کے لیے جنوبی پنجاب پولیس دفتر سے سہولیات میسر ہیں 

احسان صادق

مزید :

ملتان صفحہ آخر -