میثاق حقوق، خوش آئند معاہدہ 

 میثاق حقوق، خوش آئند معاہدہ 

  

تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے جوڑ توڑ کا جو سلسلہ جاری ہے،اُس میں ایک اچھی خبر یہ آئی ہے کہ سندھ خصوصاً کراچی اور حیدر آباد کے حوالے سے پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے درمیان ”میثاق حقوق“ طے پا گیا ہے،جس کا مقصد دیہی اور شہری سندھ میں توازن پیدا کرنا ہے۔اس معاہدے کی ضمانت متحدہ اپوزیشن نے دی ہے اور اس پر شہباز شریف، مولانا فضل الرحمن،اختر مینگل اور خالد مگسی صاحبان نے بطورِ خاص دستخط کیے ہیں۔اس میثاق کے چیدہ چیدہ نکات میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے گا،بلدیاتی قانون کو آئین کے آرٹیکل نمبر140 کے مطابق ڈھال کر انہیں بااختیار بنایا جائے گا،کراچی اور حیدر آباد کے ایڈمنسٹریٹرز کا تقرر مشاورت اور اتفاق رائے سے ہو گا،جعلی ڈومیسائل کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی جائے گی،ایک عرصے سے سندھ میں شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان خلیج موجود تھی۔ابھی چند ماہ پہلے ہی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے سندھ حکومت کے بلدیاتی ایکٹ کے خلاف کراچی میں مظاہرہ کیا تھا،جس پر پولیس کی کارروائی سے صورت حال خراب ہو گئی۔ جماعت اسلامی کراچی نے بھی اس ایشو پر کئی دن دھرنا دیئے رکھا اور شہری علاقوں میں اختیارات کی تقسیم پر  کشمکش جاری رہی۔لگتا یہی تھا کہ اس معاملے میں کبھی کوئی سب کے لیے قابل ِ قبول راستہ نہیں نکالا جا سکے گا اور کشیدگی جوں کی توں رہے گی،کیونکہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان دوری آج کی نہیں ہمیشہ کی ایک حقیقت ہے۔متحدہ جو کراچی اور حیدرآباد کے شہری علاقوں کی نمائندگی کی دعویدار ہے،اپنے لیے حقوق مانگتی رہی ہے۔پیپلزپارٹی جسے شہری علاقوں کی قومی و صوبائی سیٹوں میں بڑی نمائندگی نہیں ملتی،وہ صوبائی حکومت کے ذریعے اس بڑے شہر پر اپنا اختیار برقرار رکھنا چاہتی ہے، جعلی ڈومیسائل کا معاملہ بھی سنجیدہ نوعیت کا ہے،کیونکہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے کراچی اور حیدرآباد کا ڈومیسائل بنوا کر سرکاری ملازمتیں حاصل کر لیتے ہیں،جس سے شہری علاقوں کے نوجوانوں کی حق تلفی ہوتی ہے،سب سے اہم کردار مقامی حکومتوں کا ہے۔مقامی حکومتیں اگر بااختیار ہوں تو احساسِ محرومی کم ہو جاتا ہے۔کراچی جیسے بڑے شہر کو صوبائی انتظامیہ کے ذریعے چلانا ممکن نہیں۔دنیا بھر کے بڑے شہروں کا نظام مقامی حکومتیں چلاتی ہیں اور یہ بہت کارآمد سسٹم سمجھا جاتا ہے۔تاہم سندھ میں شہری اور دیہی تقسیم اس قدر زیادہ ہے کہ صوبائی حکومت اس پر آمادہ نہیں ہو پاتی،جس زمانے میں کراچی کا میئر بااختیار ہوتا تھا،اُس زمانے میں اس بڑے شہر کے مسائل بھی اتنے گھمبیر نہیں تھے۔ایک بے اختیار میئر جس کے پاس فنڈز ہوں نہ مقامی سرکاری اختیارات وہ اپنا کردار کیسے ادا کر سکتا ہے؟چونکہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے،معاشی شہ رگ ہے،سندھ کیا ملک بھر کے لیے ریونیو حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ یہی ہے،اس لیے اس پر غلبے کی خواہش وفاقی و صوبائی حکومتوں دونوں کو رہی ہے۔ایک بڑا فریق مقامی حکومت ہے جسے اختیارات سے محروم رکھا گیا ہے،جس کی وجہ سے کراچی ایک طرف کچرے کا ڈھیر بنتا گیا اور دوسری طرف اختیارات کی کھینچا تانی میں عوام کے مسائل بڑھتے چلے گئے۔گذشتہ پونے چار برسوں میں کراچی کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومت میں رابطے کی کوئی صورت نہ پیدا ہو سکی،تحریک انصاف کو چونکہ عام انتخابات میں کراچی سے اچھی خاصی نمائندگی ملی تھی، اس لیے وہ صوبائی حکومت کی بجائے براہِ راست کراچی کو ترقیاتی منصوبے دینے کی کوشش کرتی ہے، مربوط منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے اس شہر کے مسائل بڑھتے چلے گئے۔ اس پس منظر میں پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے درمیان معاہدہ ایک خوش آئند امر ہے۔یہ دونوں جماعتیں صوبائی حوالے سے بڑی اہمیت رکھتی ہیں، پیپلزپارٹی14 برسوں سے سندھ میں برسر اقتدار ہے اور متحدہ قومی موومنٹ کئی دہائیوں سے اربن سندھ کی ایک بڑی سیاسی حقیقت ہے۔اِن دونوں میں اس نکتے پر معاہدہ کہ کراچی و حیدر آباد سمیت پورے سندھ کو ایک فعال بلدیاتی نظام دیا جائے گا،ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

 بلاول بھٹو زرداری نے اس میثاق حقوق کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کا تعلق تحریک عدم اعتماد سے نہیں،بلکہ ہم حقیقی معنوں میں سندھ کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔ایم کیو ایم کے کنونیر خالد مقبول صدیقی نے بھی اسے سندھ کے عوامی حقوق کا چارٹر قرار دیا۔امید کی جانی چاہیے کہ دونوں جماعتیں مل کر سندھ کے دیہی و شہری علاقوں کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے کام کریں گی۔اچھی بات ہے دونوں نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے کہ وہ باہم مل کر ہی ترقی و خوشحالی کی بنیاد رکھ سکتی ہیں۔اس معاہدے پر مکمل عملدرآمد سے اُن نفرتوں، تعصبات اور تفریق کا بھی خاتمہ ممکن ہو گا،جو لسانی حوالے سے موجود رہتی ہے۔توقع یہی کی جانی چاہیے کہ آئندہ شہری و دیہی علاقوں کے درمیان جو بھی مسائل جنم لیں گے،اُن کا حل اس میثاق حقوق سے تلاش کیا جائے گا،جو  اب ایک اہم دستاویز ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -