عالمی یوم تپ دق ہماری ذمہ داریاں اور محکمہ صحت؟  

عالمی یوم تپ دق ہماری ذمہ داریاں اور محکمہ صحت؟  
عالمی یوم تپ دق ہماری ذمہ داریاں اور محکمہ صحت؟  

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 عارف سیکرٹری میرے بچپن کا دوست تھا ہم اکٹھے کرکٹ کھیلتے اور پتنگیں اڑاتے رہے ہیں اس کے والد گتے کا کاروبار کرتے تھے اورا س کو بھی بچپن ہی میں کام پر ڈال دیا گیا اور اس کی پڑھائی چھوٹ گئی اور وہ کام سیکھنے میں لگ گیا، مگر اسے وہاں پر ٹی بی کا عارضہ لاحق ہوگیا جس کی وجہ سے ون دن بدن کمزور ہوتا چلا گیا اس کی قوت مدافعت جواب دیتی گئی اور مزید طبی مشکلات کا شکار ہوگیا آخر کار گزشتہ سال مجھے اس کی وفات کی خبر ملی اسی طرح میرے اردگرد رہنے والے کئی لوگ  تپ دق کے عارضے میں مبتلا رہے مگر جن لوگوں کی قوت مدافعت طاقتور تھی انھوں نے اس وائرس کو شکست دی اور نارمل زندگی گزاری یہاں میں اپنے تایا کی بات بھی کروں گا جو طویل عرصے تک گلاب دیوی ہسپتال کے چکر لگاتے رہے اور اس وائرس کا خاتمہ کرنے میں کامیاب رہے، میری ریسرچ کے مطابق جو لوگ معاشی طور پر خوشحال تھے وہ اس مرض سے نکلنے میں کامیاب ہوئے، کیونکہ اس مرض کو شکست دینے اور وائرس کے خاتمے کے لیے ایسی خوراک کا استعمال کیا جانا ضروری ہے جو جسم کو طاقت دے تاکہ انسانی قوت مدافعت بہتر طریقے سے اپنا کام کرئے اور ایسی خوارک کا تعلق معاشی خوشخالی ہی سے ممکن ہے۔گزشتہ روز تپ دق یعنی ٹی بی کے مرض کے خلاف آگاہی کا عالمی دن منا یا گیا اس ضمن میں عالمی ادارہ صحت نے جو رپورٹ شائع کی ہے وہ بڑی توجہ طلب ہے اس کے مطابق ہردن تقریباً 4000 افراد تپ دق کی بیماری میں مبتلا ہوکر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں،جبکہ  28000افراد اس مرض سے بیمار ہو جاتے ہیں۔ اس سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں کے باعث 2000ء  سے اب تک تقریباً 63ملین زندگیوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جا چکا ہے۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً پانچ لاکھ افراد تپ دق کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔یہ مرض زیادہ تر پسماندہ علاقوں کے رہنے والوں میں پایا جاتا ہے جہاں غربت، بھوک، افلاس، آلودہ ماحول اور صحت کی بنیادی سہولتوں کی کمی ہوتی ہے۔


تپ دق کو پسماندہ علاقوں کی بیماری قرارا دیا جاتا ہے ا س با ت کو لے کر میں نے بند روڈ کا راستہ اختیار کیا کہ وہاں جاکر دیکھا جائے کہ کیا صورتحال ہے پورے بند روڈ پر گند، دھول،مٹی،شوراور دھواں نظر آٰیا اور اس دھوئیں کے بادل چھٹے تو میں نے اپنے سامنے گورنمنٹ میاں منشی ہسپتال کو پایا جس کی ایمرجنسی تک پہنچنے کے لیے مجھے ٹریفک کی بے ہنگمی سے واسطہ پڑا مگر جیسے ہی میں ہسپتال میں داخل ہو ا تو چونک کر رہ گیا کہ ہسپتال ایسے بھی ہوتے ہیں صاف ستھرے،صفائی کے معاملے میں ایسا تو ایشیاء  کے سب سے بڑے میو ہسپتال میں بھی مجھے نظر نہیں آیا۔میاں منشی ہسپتال دیگر ہسپتالوں کے مقابلے میں چھوٹا ہے مگر یہاں پر جو سہولیات مریضوں کو مل رہی ہیں اس کی نظیر نہیں ملتی جو مریض ایمرجنسی میں داخل ہوتا ہے یاں پھر اوپی ڈی میں اس کو علاج معالجے کے ضمن میں تمام تر سہولیات بلامعاوضہ فراہم کی جاتی ہیں اور اوپی ڈی کے مریضوں کو 7دنوں تک کی ادویات فری دی جاتی ہیں تاکہ وہ جلد صحت یاب ہواس ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عدنان القمر ہیں جن سے میری پہلی ملاقات ہسپتال ہی کے دورے کے دوران ہوئی ان کے پاس ایم ایس گورنمنٹ سید مٹھا ہسپتال کا ایڈیشنل چارج بھی ہے

جو سابق ایم ایس ڈاکٹر مسعود اختر شیخ  کے بعد ان کو دیا گیا، ان سے میری سلام دعا اس دور سے ہے جب یہ گنگارام ہسپتال میں بنائے گئے ٹی بی سینٹر کے انچارج تھے مگر ان کو جلد ہی ہٹا دیا گیا کیونکہ موصوف وہاں اور معاملات میں مشغول ہوگئے،میرے دوست فراز عدیم ہیلتھ رپورٹنگ کے حوالے گہرا تجربہ رکھتے ہیں اور بعض اوقات ایسے اسکینڈلز فائل کرتے ہیں جن پر مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے اور گزشتہ سال کے اوائل میں انھوں نے ایم ایس سید مٹھا ہسپتال ڈاکٹر مسعود اختر شیخ کی مبینہ کرپشن پر اسکینڈل فائل کیے تو میں دیکھتا ہی رہا انھوں نے وہاں پر ایکو کارڈییو گرافی مشین کی خرابی،الٹرا ساؤنڈ مشینوں کی بندش،لفٹوں کا فنکشنل نہ ہونا اور اس جیسے دیگر معاملات جو پیشنٹ کئیر کے حوالے سے تھے، مسعود اختر شیخ کو گورنمنٹ سید مٹھا ہسپتا ل سے ہٹا دیا گیا اور ڈاکٹر عدنان القمر کو ایڈشنل چارج دے دیا گیا جنہوں نے یہاں چارج لیتے ہی 2 روز بعد ہی ایکو کارڈیو گرافی کی مشین کو فعال کرایا اور الٹرا ساؤنڈ مشینوں کے معاملات بھی حل کیے اور انہی کی توجہ کے باعث آج ہسپتال کی دونوں لفٹیں فنکشنل ہوکر مریضوں کو سہولت فراہم کررہی ہیں یہاں پر میں اپنے قارئین کو بتاتا چلوں کہ سید مٹھا ہسپتال میں دل کی ایمرجنسی بھی فعال ہے او ر یہ وہ سہولت جو میو ہسپتال،سر گنگا رام ہسپتال،

سروسز ہسپتال جیسے بڑے اداروں میں موجود نہیں اس یونٹ کو فعال رکھنے میں جہاں انتظامیہ اپنا کردارا دا کررہی ہے وہیں اب حکومت اور محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے کہ بڑے سرکاری ہسپتالوں میں دل کی ایمرجنسی کے حوالے سے اقدامات کریں تاکہ کارڈیالوجی پر جو مریضوں کا رش ہے وہ ختم ہو۔
آخر میں میں بات کرتا چلوں محکمہ صحت کی اس لسٹ کی جو انھوں نے ایم ایس میوہسپتال کے انٹرویو کے ضمن میں جاری کی ہے جس میں جہاں دیگر ڈاکٹرز کے نام موجود ہیں وہیں پر حیرت انگیز طور پر ڈاکٹر احتشام کا نام بھی ہے جو ماضی میں لمبا عرصہ سر گنگا رام ہسپتال میں تعینات رہے اور بعد میں چپکے سے ان کا تبادلہ سروسز ہسپتال میں بطور ایم ایس ہوا مگر وہاں پر وہ انتظامی نااہلی کے باعث معطل ہوگئے اس حوالے سے  میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میو ہسپتال ان دونوں اداروں سے بڑا ہسپتال ہے جہاں پر ماضی میں پیشنٹ کئیر کے حوالے سے ڈاکٹر زاہد پرویز، ڈاکٹر امجد اور ڈاکٹر طاہر خلیل کی خدمات ناقابل بیا ن ہیں ان کے دروازے ہمیشہ مریضوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کھلے ملے مگر مجھے جب بھی گنگارام ہسپتال میں کسی مریض کے علاج کے ضمن میں سفارش کے لیے ڈاکٹراحتشام تک جانا پڑا یا  ان کو فون کرنا پڑا تو ہمیشہ ہی راستہ بند ملا اس کی وجہ شاید میں کوئی بیوروکریٹ،محکمہ صحت کا اعلیٰ آفیسر یا پھر صوبائی حکومت کا نمائندہ نہیں بلکہ عام آدمی تھا۔محکمہ صحت چاہے تو گورنمنٹ سید مٹھا ہسپتال،گورنمنٹ شاہدرہ ہسپتال میں اس لسٹ میں دیے ڈاکٹرز کو تعینات کر سکتا ہے یاں پھر انتظامی امور کا گہرا تجربہ رکھنے والے ڈاکٹر منیر غوری کی خدمات بھی ان چھوٹے یونٹ کے لیے لی جا سکتی ہیں جو خود بھی پیشنٹ کئیر اور ویلفیئر پر کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کرتے۔

مزید :

رائے -کالم -