عمران خان خطرے سے باہر 

 عمران خان خطرے سے باہر 
 عمران خان خطرے سے باہر 

  

 تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اونٹ بدستور کسی کروٹ بیٹھتا دکھائی نہیں دے رہا البتہ الطاف حسین کی متروکہ یا غیر متعلقہ کہلاتی متحدہ  اصولی اور ”وصولی“ فیصلہ کرتے ہوئے عین اس وقت جب حکومت کو اس کی اشد ضرورت تھی،اپوزیشن کے ساتھ مل گئی۔1989ء والی تاریخ متحدہ نے یوں دُہرائی ہے کہ بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی۔ الطاف کی پارٹی حکومت کی اتحادی تھی۔جو تحریک کا اعلان ہوتے ہی کسی اشارہئ ابروپر  دوسری طرف چلی گئی۔وہ  تحریک ٹرائیکا(بقول اعتزاز احسن کے، آرمی چیف جنرل اسلم بیگ،صدر اسحاق خان اوروزیراعلیٰ میاں نواز شریف)کے ایما پر لائی گئی تھی۔

اِدھر ق لیگ نے اپوزیشن کو کھبی دکھا کر سجی مار دی۔ پرویز الہٰی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کا فیصلہ ہوا، عثمان بزدار نے استعفیٰ دے دیا۔ عثمان بزدار سوائے نواب آف کالا باغ کے پنجاب میں آنے والے کسی ایڈ منسٹریٹر سے کام اور کار کردگی میں کم نہیں ہے مگر کمزور بیک گراؤنڈ کی وجہ سے اس پر ہر طرف تنقید طنز اور تضحیک کے نشتر برسائے جانے لگے۔ مضبوط سیاسی پس منظر رکھنے والا وزیر اعلیٰ بنایا ہوتا تو کیا وہ آج عمران خان کے کہنے پر استعفیٰ دیدیتا؟ پرویزالٰہی اگر بلیک میلنگ سے وزیر اعلیٰ بن رہے ہیں تو کیا عمران خان کے کہنے پر بزدار کی طرح استعفیٰ دیدیں گے؟ صورت حال سر دست اس قدر دھندلی گمبھیر اور گرد آلود ہے کہ یقین کے ساتھ  تحریک کے حتمی انجام پر  کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ پرویز الہٰی وزیر اعلیٰ بنتے ہیں یا نہیں مگر عمران خان کی  زبان سے اپنی نامزدگی کا سن کر ان کے چہرے پرجو چمک دمک اور شادمانی آئی تو بر ملا کہا جا سکتا ہے:ع

ان کے آنے سے جو آتی ہے چہرے پہ رونق

  ایسی ہی رونق شادمانی تابانی و تابناکی متحدہ کے خالد مقبول صدیقی کی پریس کانفرنس میں حکومتی اتحاد کو "اُلتھا" اور لات مار کر اپوزیشن کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے نظر آئی۔ستاروں پر کمند ڈالنے کے اس کارنامے پر  ہر دوفریقین  کے چہروں پر رنگ ونور کی لاٹیں  پھوٹ رہی تھیں۔  شہباز شریف،مولانا فضل الرحمن، بلاول بھٹو، احسن اقبال،مریم اورنگ زیب  اختر مینگل اور دیگر شرکاء  نہال و پُرجمال تھے۔ عمران کو گرانے کی فاتحانہ مسکراہٹ لبوں پررقصاں تھی۔ شہباز شریف وزیر اعظم، فضل الرحمن صدر پاکستان، بلاول وزیر خارجہ، رانا ثناء اللہ وزیر داخلہ، احسن اقبال وزیر خزانہ بننے کے خواب دیکھ  رہے ہیں۔عہدوں کی" ٹائیگر بانٹ" سبحان اللہ۔یہ لوگ کم از کم تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ تک تو خود کو مذکورہ عہدوں پر متمکن سمجھ کر نظارے اور ہلارے  لے سکتے ہیں۔اس ساری مشق کا شاید یہی ان کیلئے حاصلِ مطلق ہو۔ 

 بلاول بھٹو سمیت کئی مخالفین کہتے ہیں کہ اب عمران خان ہماری اکثریت کو دیکھتے ہوئے استعفیٰ دیدے۔بلاول  تو اتنی جلدی میں ہیں کہ پریس کانفرنس میں مائیک پر لپکتے جھپٹتے  ہوئے کہا، تحریک پرووٹنگ جلد(اجلاس کے پہلے روز ہی)کرا دی جائے۔ جمعرات 31  مارچ 2022ء کو اجلاس کا پہلا روز تھا۔اس میں ووٹنگ ممکن ہی نہیں تھی۔اُدھر عمران خان استعفے پر تیار نہیں انہوں نے آخری گیند تک لڑنے کا فیصلہ سنایا ہے۔آخری گیند پر کچھ بھی ہوسکتا ہے،چھکابھی اور آؤٹ بھی۔بہر حال زمین فریقین کے قدموں کے نیچے سے یکساں طور پر نکلی ہوئی ہے۔ 

ان فاضل اپوزیشن رہنماؤں کو ایک ہفتے میں حکومتی اکابر بننے کا زعم و یقین ہے۔ان سے مہنگائی کے خاتمے اور دیگر مسائل و مصائب سے نمٹنے کی حکمت عملی کے بارے میں پوچھا گیا تو جواب تھا،اکٹھے چلیں گے، مشاوت سے فیصلے کریں گے۔ یہ سوال پہلے بھی ہوا جواب آئیں بائیں شائیں آئندہ بھی یہ سوال اٹھتا رہے گا۔سوال کرنے والے محض مولانا کا یہ قول زریں ذہن میں رکھیں ”خزاں کا خاتمہ چاہتے ہیں،بہار آئے یا نہ آئے“۔ یہ سب اولیٰ اشرافیہ عمران خان سے نجات چاہتی ہے۔ اس کے بعد جو بھی ہو، ان کی بلا سے۔ تحریک عدم اعتماد کے معاملے میں گیم اوورنہیں ہوئی۔ یہ پاکستان کی سیاست ہے۔ ووٹنگ کے روز تک نشیب و فراز اور مدو جزرآتے رہیں گے۔ اپوزیشن ہو سکتا ہے مزید بھی مضبوط اور توانا ہوتی دکھائی دے مگر فیصلہ ووٹنگ کے ذریعے ہونا ہے اور ووٹنگ میں ابھی کچھ دن باقی ہیں۔یہ پاکستان کی سیاست ہے جس میں احسان مندی شکر گزاری ممنونیت بلکہ کسی حد تک انسانیت بھی صرف الفاظ کی حد تک ہے۔ کبھی تو لگتا ہے کہ ہم انسانوں کے معاشرے سے دور کہیں دور، حیوانیت کی دنیا میں چلے آئے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طرح عمران خان بھی نا قدروں کی بستی میں پیدا ہوگیا۔ عمران احتساب اور کرپشن کا ایجنڈا لے کر اٹھا میگا کرپشن کیسز میں مطلوب سیاستکارکس طرح ”گلدستہ“ بن گئے۔ عمران خان ان کوجو بھی کہتے ہیں اس پر ہرگز نہ جائیں۔ ان کوجو سَچا،سُچا اور کردار کا غازی سمجھتے ہیں، سر دست ان کی بھی نہ سنیں۔ ان لیڈران کرام کے ایک دوسرے پر الزامات کو سچ مان لیا جائے جن کے تحت یہ اپنے اپنے دور اقتدار میں ایک دوسرے پر مقدمات بناتے رہے تو ان کے ”روشن چہرے“ مزید شررفشاں ہو جائیں گے۔ عمران خان، نواز شریف، آصف علی زرداری، بلاول، مریم نواز، مولانا فضل الرحمن کے حامیوں کی بڑی تعداد ہے۔ کیا وہ سارے کے سارے دعا کریں گے۔' ہماری اولاد ان کے لیڈروں کی طرح کی ہو'۔

 گیم ابھی جاری ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے پریس کانفرنس کے دوران کہا ہمارے نمبر175ہو گئے ہیں جبکہ ضرورت172کی ہے۔ کچھ سندھ ہاؤس میں 26 باضمیروں سمیت اپوزیشن کے حامیوں کی تعدا 192بتا رہے ہیں۔ان کے ضمیر مزید شدت سے جاگ سکتے ہیں یا پھرگہری نیند سو سکتے ہیں۔یہ ویسے بھی عدلیہ کے رحم وکرم پر ہیں۔مولانا کے  بقول 175 تو پکے ہیں۔اس پر جیت گئے، کامیاب ہو گئے۔مبارک مبارک لڈو پیڑے بانٹ دیئے گئے۔مٹھائیاں تقسیم کرنے میں  یہ لوگ جلدی کر جاتے ہیں۔کچی خوشی پر پکا خرچہ کرکے کفِ افسوس ملتے دکھائی دیتے رہے ہیں۔ 172کی ضرورت،ان کے پاس175ہیں حکومت کو ان میں سے صرف چارکو اپنے ساتھ ملاناہے۔ کیا حکومت ان چند دنوں میں ان175میں سے4 کو ووٹنگ کے روز اسمبلی ہال جانے سے روکنے کا بندوبست کر سکتی ہے؟۔ عمران خان نے بھی بے نظیر بھٹو کی طرح تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کیلئے وسائل کا اجاڑا اور کباڑا کیا ہوتا تو یہ تحریک عدم اعتماد پہلے دنوں میں ہی گہنا اور مرجھا جاتی۔شیخ رشید جو ایسی سیاست کے مداری ہیں وہ عمران خان کو دو چار ٹرک پیسوں کے لڑھکانے کا مشورہ دیتے رہے۔ عمران خان نے کچھ تو اصولی سیاست کی ہے جس سے عوام میں بیداری کی لہر پھر سے پیدا ہوئی جس کا فائدہ آئندہ انتخابات میں ہو سکتا ہے۔ 27مارچ 2022ء کو عمران خان کا اسلام آباد جلسہ تھا۔ اگلے روز اپوزیشن کی10جماعتوں کے جلسے سے10گنا بڑا تھا یا دس گناچھوٹا اس کا فیصلہ ہر قاری اپنے دل پر ہاتھ رکھ کے کر سکتا ہے۔ اگلے الیکشن میں عوامی پذیرائی کا یہی بیرو میٹر ہوسکتا ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -