حکومت ہکلاناشروع ہو گئی  

  حکومت ہکلاناشروع ہو گئی  
  حکومت ہکلاناشروع ہو گئی  

  

27مارچ کے جلسے میں دیئے جانے والے سرپرائز سے عوام حیران ہوئے نہ پریشان ہوئے، قومی سلامتی کے اداروں کے کان پر جوں رینگی نہ اعلیٰ عدلیہ نے ازخود صورت حا ل کا نوٹس لیا۔ یہاں تک کہ پی ٹی آئی حلقوں میں بھی تشویش کی خاص لہر نہ دوڑ سکی بلکہ الٹا عمران خان کے ڈرامے نے ذوالفقار علی بھٹو کے لہرائے گئے خط کو بھی مشکوک بنادیا، یوں لگا کہ جیسے بھٹو نے بھی قوم سے جھوٹ بولا ہوگا، انہیں بھی کوئی دھمکی نہیں ملی ہوگی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان کے انکشاف پر امریکہ کی جانب سے بھی کوئی ہنگامی پریس کانفرنس کا اہتمام نہ کیا گیا کیونکہ یہ واضح ہی نہیں ہو سکا تھا کہ خط کس کی جانب سے لکھا گیا ہے۔ 

عمران خان نے خطاب میں کہا کہ وفاداریاں بدلنے والوں اور سازشیں کرنے والوں کو پتہ ہوناچاہئے کہ اب زمانہ بدل چکا ہے کیونکہ اب سوشل میڈیا آچکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سوشل میڈیا صرف اپوزیشن کی درگت بنانے کا نام ہے، کیا سوشل میڈیا پر خود ان کی اپنی درگت نہیں بن سکتی؟ ہوا بھی یہی کہ خط کے انکشاف پر اپوزیشن کی صفوں میں کوئی ہلچل پیدا ہوئی اور نہ ناراض اراکین جوق در جوق بنی گالا کے مرکزی دروازے پر ناک رگڑتے پائے گئے، انہوں نے ایک بار بھی واپس پلٹنے کی بات نہیں کی، الٹا حکومتی صفوں میں سے مزیدلوگوں کے کھسکنے کی بات شروع ہو گئی۔ خود پی ٹی آئی کے ٹائیگروں نے بھی امریکی سفارت خانے کے باہر ایک علامتی مظاہرہ بھی نہیں کیا۔ سمجھ نہیں آئی کہ اس خط کا مقصد کیا تھا؟ کیا عمران خان اپنے حامیوں کو امریکہ اور مغربی ممالک کے خلاف کرنا چاہتے ہیں؟ ایسا ہے تویہ انتہائی بودی حکمت عملی ہے کیونکہ ان کے حامیوں کی اکثریت خود ان کے اپنے سمیت امریکہ اور یورپ کی ترقی اور انصاف پر مبنی روایات کی عظمت کے گن گاتے ہیں اور وہیں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ جس کا کھائیں، اسی کو بے نقط سنائیں۔ ایسا ہے تو پھر کہیں ذوالفقار علی بھٹو نے بھی عمران خان کی طرح خط کے پیچھے اپنی نااہلیوں کو تو نہیں چھپایا تھا کیونکہ تب بھی قومی سلامتی اداروں نے کوئی ایکشن نہیں لیا تھا۔ اب تک بھی ایسا کچھ نہیں ہوا ہے کیونکہ ایسا مسخرہ پن تاریخ میں ہربار دیکھنے کو نہیں ملتا ہے۔ 

پی ٹی آئی مزید تتر بتر ہوتی جا رہی ہے، اس کا شیرازہ مزید بکھرتاجارہا ہے۔ میڈیا بھی خط کو لے کر عمران خان کی بھد اڑارہا ہے۔ لیکن ہر کوئی حیرانی سے پوچھ رہا ہے کہ آخر پرویز الٰہی کو کیا ہوا؟ ان پر بنی گالا کا جادو کیسے چل گیا۔ ان کی جانب سے اتحادیوں کے اتحاد کو دغا دے کر حکومت کو جوائن کرنے کو خودغرضی کا نام دیا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ اب بھی نوازشریف سے ذاتی سکور Settleکر رہے ہیں۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ خواجہ سعد رفیق ایسا کائیاں شخص بھی چودھری پرویز الٰہی کی نیت کو نہ بھانپ سکا۔ بلکہ دیکھا جائے توجناب آصف زرداری بھی سکتے میں نظر آرہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ وہ ٹیلی فون کال آگئی ہے جس کے بارے میں متحدہ اپوزیشن کا ماننا تھا کہ بند چکی ہیں۔ اب خبریں آرہی ہیں کہ ان حضرات کو ڈھونڈا جا رہا ہے جنھوں نے چودھری پرویز الٰہی کو فیک کال کی تھی۔ سچ پوچھئے تو 27مارچ کے جلسے میں خط کے ذکر سے بڑا سرپرائز چودھری پرویز الٰہی نے دیا۔ ایک لمحے تو یوں لگا جیسے اپوزیشن کے پاؤں تلے سے زمین کھینچ لی گئی ہے اور مزید سرپرائزز آنا شروع ہو جائیں گے۔ مریم نواز جس طرح بڑھ بڑھ کر نواز شریف کی چالوں کا تذکرہ کر رہی تھیں، ان سب کا جواب چودھری پرویز الٰہی نے دے دیا ہے۔ اور تو اور خود نجم سیٹھی کے لہجے سے بھی بے یقینی جھلکنے لگی تھی اور ایک بار تو ایسا لگا کہ آصف زرداری نے دوبارہ سے پی ڈی ایم کو الو بنادیا ہے، بلاول بھٹو کی پی ڈی ایم میں واپسی ہی اس کی دوسری شکست کا سبب بننے والی ہے اور پی ٹی آئی پیپلز پارٹی کی قمیض کے اندر چھپا ہوا بازو ہے۔

تاہم جوں جوں وقت گزرا اور ایم کیوایم نے اپوزیشن کو جوائن کرنے کا فیصلہ کیا تو یوں لگا کہ چودھری پرویز الٰہی نے بہت بڑا سیاسی جوا کھیلا ہے، متحدہ اپوزیشن کو جس ناکامی کا ڈر لگا ہوا تھا وہ اس کامیابی کے دھڑکے میں تبدیل ہو گیا۔ قاف لیگ کی جوائننگ کے باوجود بھی حکومت محفوظ نہیں ہو سکی ہے اور جنرل شعیب اور جنرل اعجاز جس قدر چاہیں سپورٹ کریں، ان کی رائے کو فوج کی حمائت حاصل نہیں ہے۔ حتیٰ کہ جنرل مشرف کے پیغام نے بھی کچھ خاص ہلچل پیدا نہیں کی ہے کیونکہ ان کی باقیات کو پہلے ہی ٹھکانے لگادیا گیا ہے۔ 

گزشتہ چند دنوں میں جو کچھ سیاست کے محاذ پر ہوا اس سے عمران خان کو اندازہ ہوا ہوگا کہ سیاست کس قدر مشکل کام ہے، اس میں آپ کے فالوئرز کا اعتماد سب سے ضروری ہوتاہے۔ چودھری پرویز الٰہی نے منہ کھول کرمریم نوازکو شہباز شریف سے بڑالیڈر بنادیاجبکہ عام تاثر یہ ہے کہ خود پرویز الٰہی کوان کے صاحبزادے مونس الٰہی کی ضد نے ڈبودیا ہے۔ اب بھی جبکہ تحریک عدم اعتماد پر قومی اسمبلی میں بحث شروع ہوچکی ہے لوگ تذبذب کا شکار ہیں کہ کیایہ تحریک کامیاب ہوگی کیونکہ ہر کوئی اسٹیبلشمنٹ کی نیوٹریلیٹی کے حوالے سے شک کا شکار ہے، کم از کم قاف لیگ نے یہ تاثر دیا ہے کہ وہ ابھی تک اس کے کہنے میں ہے۔ ایسے میں سپریم کورٹ کی جانب سے صدارتی ریفرنس پر بحث کو پیر تک اٹھارکھنے کا مطلب صاف ہے کہ سپریم کورٹ اس ریفرنس پر حکومتی موقف سے متفق نہیں ہوگی، باقی اللہ کوپتہ ہے! 

مزید :

رائے -کالم -