آئیں وائس چانسلر خواجہ فرید یونیورسٹی ڈاکٹر سلمان طاہر کی تحریک کا حصہ بنیں!

آئیں وائس چانسلر خواجہ فرید یونیورسٹی ڈاکٹر سلمان طاہر کی تحریک کا حصہ بنیں!
آئیں وائس چانسلر خواجہ فرید یونیورسٹی ڈاکٹر سلمان طاہر کی تحریک کا حصہ بنیں!

  

ملک بھر میں سیاسی دنگل جاری ہے، لوٹوں کا چل چلاؤ ہر آنے والے دن میں سیاسی عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے،ضمیر کی آواز کو بنیاد بنا کر ضمیر کی خریداری کی منڈی لگی ہوئی ہے، ہر فرد بے چین ہے اب کیا ہو گا؟ عمران کی چھٹی  ہو گی؟ وزیراعظم کون بنے گا؟ ایم کیو ایم کو زندہ کرنے کی کون سازش کر رہا ہے، لمحہ فکریہ ہے،خطے میں تبدیل ہوتے حالات، سرحدوں میں منڈلاتے خطرات قربان ہوتے محافظوں ملکی معیشت کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو یکسر نظر انداز کر کے کرسی اور بس کرسی کے حصول کے لئے جوڑ توڑ جاری ہے۔ان حالات میں جب ایک دن بعد نیکیوں کے موسم بہار رمضان المبارک کا آغاز ہو رہا ہے، شیطانوں کو قید اور جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے، بابرکت اور رحمتوں اور برکتوں والے ماہ کے پہلے روزے تحریک عدم اعتماد کا ترازو لگے گا، کون کس پلڑے میں پڑے گا۔ میں ان معاملات کو یکسر نظر انداز کر کے آج کے کالم میں پاکستان کی نامور منفرد یونیورسٹی خواجہ فرید یوینورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی رحیم یار خان کے وائس چانسلر محترم ڈاکٹر پروفیسر سلمان طاہر کی شخصیت اور ان کے کارہائے نمایاں اور ان کی طرف سے رمضان المبارک کی آمد کے موقع پر شروع کی گئی تحریک کا حصہ بننے اور عوام میں آگاہی کے ذریعے اپنا حصہ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی رحیم یار خان شہر سے15کلو میٹر دور ابوظہبی روڈ پر275 سے زائد ایکڑ پر اپنے خوبصورت اور وسیع کمپلیکس کے ساتھ قائم ہے۔2014ء میں قائم ہونے والی جدید یونیورسٹی سات سے زائد فکالٹی میں 17 کے قریب ڈیپارٹمنٹس میں 17ہزار کے قریب طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔

1989ء سے راقم کی پنجاب یونیورسٹی سے شروع ہونے والی اساتذہ سے محبت اور وابستگی ہر آنے والے دن میں بڑھتی گئی،خواجہ فرید یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے تعلق محترم پروفیسر ڈاکٹر اختر سندھو پرنسپل اسلامیہ کالج سول لائن کی وجہ سے بنا اور دونوں احباب کے ساتھ تین چار گھنٹے کی سحرا نگیز رفاقت میری زندگی میں گہرے نقوش چھوڑ گئی ہے۔گزشتہ دنوں ڈاکٹر سلمان طاہر کا تذگیر کے لئے فون آیا اور فرمانے لگے ہم نے انجینئرنگ میں داخلہ لینے والی طالبات کو 100 فیصد سکالر شپ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔میرا یقین ہے جنوبی پنجاب کی بچیاں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر کے نہ صرف قومی دھارے میں شامل ہوں گی اور معاشرے کی تبدیلی کا باعث بنیں گی۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سلمان طاہر کے مختصر واٹس اَپ پیغام نے میری ان کے ساتھ نشست کی یاد تازہ کر دیں، میں شرمندگی میں حق تو یہ ہے حق ادا نہ ہوا کے ساتھ دوبارہ ان کا پیغام سننے لگا۔ ڈاکٹر سلمان طاہر کی آواز سے لگ رہا ہے وہ میرے سامنے بیٹھے ہیں اور کہہ رہے ہیں ہم نے رحیم یار خان میں کمیونٹی ویلفیئر کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔ رحیم یار خان شہر میں لگے کیمرے میرے طالب علموں نے ٹھیک کیے ہیں، میری یونیورسٹی کے 17ہزار طلبہ و طالبات معاشرے کی بیداری اور آگاہی کے لئے ذخیرہ اندوزی کے خلاف مہم چلا رہے ہیں، پمفلٹ تقسیم کر رہے ہیں، امیروں سے درخواست کر رہے ہیں رمضان کے پہلے ہفتے میں فروٹ نہ خریدیں یا کم از کم خریدیں تاکہ قیمتیں بڑھانے والے ذخیرہ اندوزوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔ ڈاکٹر سلمان طاہر فرماتے ہیں میرے طلبہ و طالبات نے سوشل سروسز کے تحت صاحب ثروت افراد کی طرف سے راشن کی تقسیم میں معاونت کا پروگرام شروع کر رکھا ہے۔کوئی غریب بھوکا نہ سوئے، کے جذبے سے مہم جاری ہے،ہم نے رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں کو سمیٹنے کے لئے افطاری کروانے والے افراد کی معاونت کے لئے بھی کمیونٹی سروسز فراہم کرنے کا پروگرام دیا ہے،فرماتے ہیں ہم نے رحیم یار خان میں صاف پانی کی فراہمی کے لئے جدید واٹر فلٹر پلانٹ لگایا ہے جہاں مفت صاف پانی دستیاب ہے، ہم نے ڈرگ فری یونیورسٹی کی مہم چلائی، سیمینار کئے اور آگاہی مہم چلائی،ہم دعویٰ کرتے ہیں خواجہ فرید یونیورسٹی ڈرگ فری یونیورسٹی ہے،دو ماہ میں بچوں نے50ہزار پودے لگائے ہیں۔ اکتوبر 2019ء میں ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد خواجہ فرید یونیورسٹی جو مقروض تھی، ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم تھا اللہ کے  فضل اور سیاسی و سماجی شخصیات کے تعاون سے بحران پر قابو پایا ہے، ہوسٹل کی تعمیر جاری ہے۔ہماری یونیورسٹی انجینئرنگ اور آئی ٹی میں نمایاں پوزیشن حاصل کر چکی ہیں،یونیورسٹی بجٹ بڑھانے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر سلمان طاہر نے بتایا میں خود سپورٹس مین ہوں، نیشنل اور انٹرنیشنل مقابلوں میں ایتھلیٹ رہا ہوں اس لئے میری یونیورسٹی میں سپورٹس کا شعبہ بالعموم اور ریسرچ کا شعبہ بالخصوص تیزی سے نام کما رہا ہے۔ ڈاکٹر سلمان طاہر  نے کہا میں اس تاثر کو دور کرنے کے لئے عملی اقدامات کر رہا ہوں، جنوبی پنجاب میں بچیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے،تعلیم نہیں دی جاتی تعلیم مہنگی ہے ایسا ہر گز نہیں ہے،بچیاں بچوں سے زیادہ ذہین ہیں، جنوبی پنجاب کے بہادر عوام کو میرا ساتھ دینا ہو گا،اپنی بچیوں کو انجینئرنگ اور آئی ٹی میں لانا ہو گا، انجینئرنگ میں داخلہ لینے والی طالبات کو 100فیصد سکالر شپ ملے گا اس مہم میں اہل ِ پاکستان کو شامل  ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔

ڈاکٹر سلمان طاہر کا کہنا کے جو طلبہ و طالبات تعلیم اور کھیل میں اعتدال رکھنے میں کامیاب ہو جائیں وہ زندگی کے کسی شعبے میں کبھی ناکام نہیں ہوتے،کھیل جسمانی نشوونما کا باعث ہی نہیں بنتا،بلکہ بہت سی دنیاوی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے۔ ڈاکٹر سلمان طاہر واقعی مبارکباد کے مستحق ہیں انہوں نے اپنی یونیورسٹی میں جو کام شروع کروائے ہیں ہمارے پاکستان اور زیر تعلیم طلبہ و طالبات کے مستقبل کے لئے بڑے مفید ہیں۔ڈگری کے ساتھ اچھا  صحت مند، خدمت کرنے والا نوجوان جب یونیورسٹی سے نکلے گا خاندان کو بھی بدلے گا اور ہمارے معاشرے کی تبدیلی کا باعث بھی بنے گا۔

میری اہل ِ پاکستان کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے احباب سمیت اینکر، دانشور، کالم نویس اور صحافی برادری سے درخواست ہے ڈاکٹر سلمان طاہر کے مشن کو آگے بڑھانے اور ان کی کمیونٹی ویلفیئر مہم میں حصہ ڈالنے کے لئے اپنا کردارادا کیجئے، یہ وقت اور معاشرے کی تبدیلی کا باعث بنے گی۔ آئیں مل کر رمضان کی آمد کے موقع پر ان کے دست ِ بازو بن جائیں۔

مزید :

رائے -کالم -