پنجاب میں بھی جوڑ توڑ شروع، چودھری پرویز الٰہی کی چھینہ گروپ سے ملاقات، اپوزیشن کاسپیکر پنجاب اسمبلی کیخلاف عدم اعتماد لانیکا فیصلہ 

      پنجاب میں بھی جوڑ توڑ شروع، چودھری پرویز الٰہی کی چھینہ گروپ سے ...

  

         لاہور(جنرل رپورٹر، نمائندہ خصوصی)نامزد وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی زیر صدارت 90شاہراہ قائد اعظم پر اہم اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزراء اور تحریک انصاف کی خواتین اراکین پنجاب اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس کے شرکاء نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے چوہدری پرویز الٰہی کووزیر اعلیٰ پنجاب نامزد کرنے کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری پرویز الٰہی کی کامیابی کیلئے ہر رکن اسمبلی اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار اداکرے گا۔نامزد وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں صوبائی وزرا ء میاں محمود الرشید، راجہ یاسر ہمایوں، راجہ بشارت،چوہدری ظہیر الدین، راجہ راشد حفیظ،رکن قومی اسمبلی چوہدری سالک  حسین،رکن اسمبلی و سیکرٹری اطلاعات تحریک انصاف پنجاب مسرت جمشید چیمہ سمیت تمام خواتین اراکین پنجاب اسمبلی شریک ہوئیں۔ اجلاس کے شرکاء کی جانب سے پرویز الٰہی کو نامزدگی پر مبارکباد پیش کی گئی اوریقین دلایا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان کے حکم کے مطابق آپ کی کامیابی کیلئے ہر ممکن کرداراداکیا جائے گا۔سیکرٹری اطلاعات پنجاب مسرت جمشید چیمہ نے بتایا کہ اجلاس میں صوبائی وزراء اور خواتین اراکین اسمبلی شریک ہوئے۔ اس موقع پر چوہدری پرویزالٰہی کی بطوروزیر اعلیٰ پنجاب کامیابی کیلئے رابطوں اورآئندہ کی حکمت عملی بارے تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف متحد ہے اوروزیر اعظم عمران خان نے جو فیصلہ کیا ہے اس کی مکمل تائید کرتے ہیں،تمام اراکین اسمبلی پر عزم ہیں کہ ہم نے اپنے اتحاد سے چوہدری پرویزالٰہی کی بطور وزیراعلیٰ کامیابی کیلئے اپناکلیدی کردار اداکرنا ہے۔  پرویز الہی نے تحریک انصاف کے ناراض ارکان کو باضابطہ حمایت کی درخواست کر دی۔ وزیرقانون راجا پشارت نے کہا کہ چوہدری پرویز الہی کو وزیراعلی پنجاب بننے کیلئے نمبر پورے ہوگئے ہیں، ناراض اراکین بھی پرویز الہی سے رابطے میں ہیں، اور ان کی حمایت حاصل ہے، چند ناراض اراکین رہ گئے وہ بھی جلد ساتھ ہوں گے۔ راجا بشارت کا کہنا تھا کہ آج چوہدری پرویز الہی اپنی رہائشگاہ میں چند ناراض اراکین سے مل رہے ہیں، جس کے بعد وہ بھی ان کی حمایت میں آجائیں گے، ترین گروپ سے بھی رابطے میں ہیں جلد مثبت پیش رفت ہوگی، ن لیگ کے بیشتر افراد چوہدری پرویز الہی کے ساتھ ہیں۔ صوبائی وزیر چوہدری ظہیر الدین کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سب کچھ نمبرنگ گیم ہے جو صورتحال دیکھ رہے ہیں اس کے مطابق پرویز الہی کے پاس نمبر پورے ہیں۔ریں اثناپنجاب میں حکومت سازی کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کے ناراض دھڑوں کے درمیان باہمی رابطے ہوئے ہیں۔تحریک انصاف کے چھینہ گروپ، علیم خان گروپ اور جہانگیر ترین گروپ کے رہنماؤں نے ایک دوسرے سے رابطہ کرکے پنجاب میں حکومت سازی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے تینوں دھڑوں کے سینئر رہنماوں کے درمیان غیر رسمی مشاورت ہوئی ہے اور اپنی اپنی تجاویز بھی سامنے رکھی گئیں۔ذرائع کے رابطے کے دوران تینوں دھڑوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے مشترکہ فیصلہ کرنے پر ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش بھی کی گئی اورتمام گروپس کے درمیان آپس میں مزید مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔پنجاب میں حکومت سازی کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کے ناراض دھڑوں کے درمیان باہمی رابطہ ہوا ہے، تینوں گروپوں نے تین رکنی سیاسی کمیٹی بنادی جو تین روز میں فیصلے کر کے قیادت کو آگاہ کرے گی، جہانگیر ترین اور غضنفر چھینہ کے درمیان بھی ٹیلیفونک رابطہ ہو اہے۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے چھینہ گروپ، علیم خان گروپ اور جہانگیر ترین گروپ کے رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں پنجاب میں حکومت سازی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔غیر رسمی مشاورت میں اپنی اپنی تجاویز بھی سامنے رکھی گئیں۔ذرائع کے رابطے کے دوران تینوں دھڑوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے مشترکہ فیصلہ کرنے پر ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش بھی کی گئی اورتمام گروپس کے درمیان آپس میں مزید مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہیسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے رکن پنجاب اسمبلی غضنفر عباس چھینہ کی رہائشگاہ پر چھینہ گروپ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ایم این اے چودھری طارق بشیر چیمہ، صوبائی وزراء راجہ بشارت، حافظ عمار یاسر، چودھری ظہیر الدین جبکہ چھینہ گروپ کے ارکان پنجاب اسمبلی عامر عنایت شاہانی، علی رضا خان خاکوانی، اعجاز سلطان بندیشہ، محمد احسن جہانگیر، گلریز افضل گوندل، خواجہ داؤد سلیمانی، سردار محی الدین کھوسہ، کرنل غضنفر عباس شاہ، تیمور علی لالی، سردار شہاب الدین سیہڑ، فیصل فاروق چیمہ، اعجاز خان اور غلام علی اصغر خان لہری شامل تھے۔ چودھری پرویزالٰہی نے چھینہ گروپ سے حمایت کیلئے مشاورت کی۔ چھینہ گروپ کا کہنا تھا کہ چودھری پرویزالٰہی سے ملاقات بہت اچھی رہی، انشاء اللہ 24 گھنٹوں میں فیصلے کا اعلان کر دیں گے۔دریں اثناپنجاب میں حکومت سازی کے لئے سیاسی سر گرمیوں میں تیزی آ گئی، مسلم لیگ (ن) نے اپنے تمام اراکین پنجاب اسمبلی کو لاہور پہنچنے کی ہدایت کر دی، آئندہ ایک سے دو روزمیں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلا کراراکین کو اعتمادمیں لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق پنجاب میں حکومت سازی کیلئے متحدہ اپوزیشن کے رہنماؤں کا ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس ہواجس میں تحریک انصاف کے ناراض گروپوں سے رابطوں اور حکومت سازی کے ابتدائی خدوخال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسی تناظر میں مسلم لیگ (ن) نے اپنے تمام اراکین پنجاب اسمبلی کو لاہور پہنچنے کا پیغام دیدیا ہے جبکہ آئندہ ایک سے دو روزمیں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوگا جس میں اراکین کو اب تک کے رابطوں اور پیشرفت کے حوالے سے اعتمادمیں لیا جائے گامتحدہ اپوزیشن نے، سپیکر پنجاب اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا فیصلہ ذ رائع کے مطابق متحدہ اپوزیشن نے وزیر اعلیٰ کے بعد سپیکر شپ پر بھی نظر رکھ لی، متحدہ اپوزیشن نے پہلے ہی وزیر اعلیٰ کیلئے اپنا امیدوار لانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اپوزیشن قائدین کا سپیکر کیخلاف عدم اعتماد لانے کیلئے ن لیگ کو گرین سگنل دے دیا ھے حمزہ شہباز نے پارلیمانی پارٹی کے اہم لیڈروں کو مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کر دی ہے، سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا مسودہ رواں ہفتے تیار کر لیا جائے گا، مسودہ تیار ہوتے ہی قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو پیش کیا جائے گا، حتمی منظوری کے بعد تحریک عدم اعتماد اسمبلی سیکرٹریٹ میں پیش ہوگی۔ دوسری جانب ذرائع کا بتانا ہے کہ متحدہ اپوزیشن نے سپیکر کے لیے امیدوار فائنل کر لیا ہے، پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ سپیکر کے امیدوار ہوں گے۔ 

پنجاب جوڑ توڑ

مزید :

صفحہ اول -