حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ 

حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ 

  

پروفیسر ڈاکٹر محمد صدیق خان قادری

حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی ؒ، برصغیر کے جید عالم، مبلغ، مصنف، مفسر، محدث، فقیہہ اور علم و عرفان کا سرچشمہ تھے۔ آپ قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی یادگار تھے۔ آپ ان شہ سوارانِ اسلام میں شامل ہیں جن پر ملت ِاسلامیہ کو ہمیشہ فخر رہے گا۔ آپ اپنے دور کی ان مقتدرہستیوں میں سے ہیں، جنہیں قوم کی پیشوائی اور رہنمائی کا شرف حاصل ہے۔ 19ویں صدی میں عالم ِاسلام،بالخصوص برصغیر کے علماء میں آپ کو ممتاز مقام حاصل ہے۔ آپ نے اپنی ساری زندگی اسلام کی ترویج و تبلیغ، دینی علوم کے فروغ اور عقائد حقہ کی اشاعت میں صرف کردی۔ آپ نے مختلف موضوعات پر اردو، فارسی اور عربی میں متعدد کتب تصنیف فرمائیں۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ قرآنِ مجید کی تفسیر ہے، جو تفسیرِ نعیمی کے نام سے دنیا بھر میں مقبول اور معروف ہے۔ آپ کی کتب سے عوام و خواص رہتی دنیا تک فیض یا ب ہوتے رہیں گے۔ حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی ؒ4جمادی الاوّل 1314ھ یکم مارچ 1894ء کو اوجھیانی (ضلع بدایوں، یوپی، ہند) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد حضرت مولانا محمد یار خان بدایونی ؒ،فارسی درسیات پر عبور رکھتے تھے۔  انہوں نے ایک درس گاہ بھی قائم کی ہوئی تھی جس میں طلباء کو دینی تعلیم دیتے تھے۔ شیخ المشائخ حضرت شاہ علی حسین اشرفی کچھو چھوی  ؒسے بیعت بھی تھے۔ ان کی تبلیغ و تعلیم اور حسن ِاخلاق سے متاثر ہوکر کئی لوگ دائرہئ اسلام میں داخل ہوئے۔ جامع مسجد اوجھیانی کی امامت، خطابت اور انتظامی امور کے نگران ہونے کے باوجود انہوں نے نہ کبھی کوئی مشاہرہ لیا اور نہ خدمت قبول کی بلکہ اگر کوئی شخص انہیں تحائف یا نذرانہ پیش کرتا تو وہ بستی کے مستحقین میں تقسیم فرمادیتے تھے۔

حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی  ؒ کے زمانہئ طالب علمی کو چار ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا دور آبائی بستی اوجھیانی (ضلع بدایوں) میں والد ماجد کی سرپرستی میں شروع ہوا۔ اس میں قرآنِ پاک کی تعلیم سے لے کر فارسی کی نصابی تعلیم اور درسِ نظامی کی ابتدائی کتب شامل ہیں۔ دوسرا تعلیمی دور بدایوں شہر میں گزرا، جہاں آپ نے مدرسہ شمس العلوم میں مولاناقدیر بخش بدایونی  ؒ کی نگرانی میں تین سال تک تعلیم حاصل کی۔تیسراتعلیمی دور مینڈھو (ضلع علی گڑھ، یوپی) میں گزرا جو چار سال پر مشتمل رہا۔ چوتھا تعلیمی دور وہ ہے جب آپ صدرالافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی ؒکے پاس جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں حاضر ہوئے۔ صدرالافاضل نے آپ کا امتحان لیا اور پوری تسلی کے بعد آپ کو جامعہ نعیمیہ میں داخل کرلیا۔ صدرالافاضل صرف درس و تدریس کے شعبے سے ہی وابستہ نہیں تھے، بلکہ تحریر و تصنیف اور مناظرے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے دینی، ملی اور سیاسی رہنما بھی تھے۔ حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی  ؒ نے یہاں صدر الافاضل کے علاوہ معقولات کے امام اور بلند پایہ استاد، خلیفہ اعلیٰ حضرت، علامہ حافظ مشتاق احمد صدیقی کان پوری سے بھی تعلیم حاصل کی۔ اپنے عہد ِطالب علمی میں اسباق کے مطالعہ اور تکرار کے بے حد پابند تھے۔ آپ رات گئے تک آئندہ صبح پڑھے جانے والے اسباق کا مطالعہ کرتے اور صبح درجے میں استادِ محترم کے روبرو اسباق کی تقریر سنتے۔پھر دیگر ساتھی طلباء کے ساتھ سبق کی دہرائی کرنے بیٹھ جاتے جس میں استادِ محترم کی سبق سے متعلق پوری تقریر دہرادیتے۔ پھر استادِ محترم کے قائم کردہ سوالات و جوابات پوری تفصیل کے ساتھ بیان فرماتے۔ اکثر اوقات اپنی جانب سے نئے سوالات،پھر ان کے جوابات خود ہی پیش کرتے۔ کسی الجھن کی صورت میں استاد ِمحترم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسے دُور کرلیتے۔

دستارِ فضیلت کے بعد جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں مدرس مقرر ہوئے۔اسی دوران صدرالافاضل نے افتاء نویسی کی ذمہ داری بھی آپ کے سپرد کی۔ کچھ عرصے کے بعد آپ دھورا جی (گجرات)تشریف لے گئے۔ جہاں دارالعلوم مسکینیہ میں 9سال تک تدریس، خطابت اور فتاویٰ نویسی کی ذمہ داریاں بطریق ِاحسن ادا کرتے رہے۔ اس کے بعد شیخ المشائخ حضرت شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی  ؒ کے حکم پر جامعہ اشرفیہ میں 3سال تک فرائض انجام دیتے رہے۔ پھر گجرات (پاکستان) تشریف لائے، جہاں بھکھی شریف میں 4سال،دار العلوم انجمن خدام الصوفیاء میں بارہ سال اور جامعہ انجمن خدام الرسول میں دس سال تک درس و تدریس اور تصنیف و تألیف کی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔ آپ نے گجرات شہر میں اپنا ایک ادارہ جامعہ غوثیہ نعیمیہ ؒ کے نام سے قائم کیا،پھرتادم وصال اسی ادارے میں خدمت ِدین میں مصروف رہے۔

آپ نے تحریک ِپاکستان کے دوران اپنے استادِ گرامی صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی ؒ اور دیگر علماء کے ہمراہ برِصغیر کے طول و عرض کے دورے کیے،اجتماعات سے خطاب کیا اور بنارس میں منعقدہ آل انڈیا سنی کانفرنس کی کامیابی کے ذریعے تحریک ِپاکستان کے لیے رائے عامہ ہموار کی۔ اسی طرح 1953ء کی تحریک ِختم نبوت میں حضرت علامہ سید ابوالحسنات قادری ؒ کی قیادت میں بھرپور کردار اداکیا۔آپ عوامی اجتماعات اور محافل میں خطابات کی بجائے تصنیف و تألیف پر زیادہ زور دیتے تھے۔ اس کے باوجود مفتی ئاعظم پاکستان حضرت علامہ سید ابوالبرکات قادری ؒکی دعوت پر لاہور میں دارالعلوم حزب الاحناف اور غزالی ئزماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی ؒ  کی دعوت پر جامعہ اسلامیہ انوار العلوم ملتان کے سالانہ جلسوں میں خصوصیت سے شریک ہوتے تھے۔ آپ ساری زندگی مروّجہ سیاست سے دُور رہے، لیکن آپ کی تمام تر ہمدردیاں ہمیشہ جمعیت علمائے پاکستان کے ساتھ رہیں۔ آپ کے نامور شاگردوں میں حافظ الحدیث علامہ محمد جلال الدین شاہ مشہدی  ؒبھکھی شریف، حضرت پیر محمد اسلم قادری ؓ (مراڑیاں شریف گجرات) شیخ القرآن علامہ غلام علی اوکاڑوی ؒ، حضرت سید مختاراشرف کچھوچھوی  ؒ، حضرت مفتی محمد وقار الدین قادری رضوی،ؒ  حضرت مفتی محمد حسین نعیمی ؒ، صاحبزادہ سید محمود شاہ گجراتی  ؒ، صاحبزادہ سید حامد علی شاہ گجراتی ؒ، حضرت سید نظام علی شاہؒ، مفتی نصیر الدین اشرفی  ؒ(بہار ہندوستان) حضرت سید مسعودالحسن شاہ، ؒ حضرت قاضی عبدالنبی کوکبؒ اور حضرت کے صاحبزادگان مفتی مختار احمد نعیمی ؒ اور مفتی اقتدار احمد نعیمی ؒ کے نام خصوصیت سے قابل ِذکر ہیں۔ آپ کے بڑے صاحبزادے مفتی مختار احمد نعیمیؒ، جماعت ِاہل ِسنت کے امیر بھی رہے۔ انہوں نے تحریک ِختم نبوت اور تحریک ِنظام ِمصطفےٰ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور قیدو بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ 

حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی ؒ، سادگی پسند اور درویش شخصیت کے مالک تھے۔ آپ میں صبر و استقلال، تواضع و انکساری اور تحمل وبردباری جیسے اوصاف بدرجہئ اتم موجود تھے۔ آپ نے ساری زندگی سفید پوشی میں گزاردی۔ اس کے باوجود کبھی کسی سے کوئی قرض نہیں لیا، بلکہ لوگوں کی حتی المقدور مدد کردیتے تھے۔ آپ کی معرکۃ الاراء تصانیف میں تفسیرِ نعیمی، نور العرفان، حاشیۃ القرآن، انوار القرآن، اسرار الاحکام، جاء الحق، شانِ حبیب الرحمن، نعیم الباری فی شرح بخاری۔ مرأۃ شرح مشکوۃ،سلطنت ِمصطفےٰ در مملکت ِکبریا،رحمت ِخدابوسیلہ اولیاء اللہ، علم القرآن، علم المیراث، مواعظِ نعیمیہ، اسلام کی اصولی اصطلاحیں، اسلامی زندگی، حقیقت ِنسب، حضرت امیر معاویہ ؓ پر ایک نظر، رسالہ نور اسلامی زندگی اور شاعری میں دیوانِ سالک قابل ِذکر ہیں۔ 1957 ء میں آپ نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی ؒ کے ترجمہئ قرآن کنزالایمان پر حاشیہ، یعنی تفسیری نکات تحریر فرمائے۔ اس کے علاوہ مسلک ِحقہ کی تائیدو حمایت میں کئی کتب تصنیف فرمائیں تو حضرت پیر سید معصوم شاہ نوشاہی قادری ؒ کی تحریک پر پاکستان کے جید علمائے کرام نے متفقہ طور پر آپ کے لیے حکیم الامت کا لقب تجویز فرمایا اور ہندوستان کے علمائے اہلِ سنت نے بھی اسے تسلیم کیا۔ آپ کا وصال 3رمضان المبارک 1391ھ، 24اکتوبر1971 ء کو ہوا۔ آپ کی نمازِ جنازہ مفتی ئاعظم پاکستان حضرت علامہ سید ابوالبرکات قادری ؒ مہتمم دارالعلوم حزب الاحناف نے پڑھائی۔ آپ کا مزار گجرات میں ہے۔ حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی ؒ نے دین ِمتین کی جو خدمات سرانجام دی ہیں، اس کے باعث ان کا نام تاریخ میں ہمیشہ زندہ و پائندہ رہے گا۔ 

final

مزید :

ایڈیشن 1 -