" یہ میرا جنوری کا کالم ہے جس میں عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے نکالے جانے کی بات لکھی، اب روس کہاں سے بیچ میں آگیا" حامد میر نے سوال اٹھادیا

" یہ میرا جنوری کا کالم ہے جس میں عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے نکالے ...

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی حکومت کے خلاف غیر ملکی فنڈڈ سازش کی جارہی ہے اور ایک خط لہرایاجو بعد میں دوبارہ اپنی جیب میں رکھ لیا لیکن اس کے مندرجات بیان کرنے کی بجائے دعویٰ کیا کہ ان کو آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے اقتدار سے بے دخل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اس کے بعد وزیراعظم کے دورہ روس اور امریکہ کے بارے میں باتیں شروع ہوگئیں لیکن اب سینئر صحافی حامد میرنے جنوری میں لکھے گئے اپنے کالم کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ یہ میرا جنوری کا کالم ہے جس میں عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے نکالے جانے کی بات لکھی، اب روس کہاں سے بیچ میں آگیا۔

ٹوئٹر پر حامد میر نے لکھا کہ ’ مہربانی کرکے ہمیں بے وقوف بنانے کی کوشش نہ کریں، یہ واشنگٹن پوسٹ میں جنوری 2022ءمیں لکھے گئے کالم کا لنک ہے جس میں عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے نکالنے کی پیشینگوئی کی تھی۔ وہ یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ تحریک عدم فروری 2022ءمیں اس کے دورہ روس کا نتیجہ ہے ؟۔

یاد رہے کہ 11جنوری 2022ءکو حا مد میر نے امریکی جریدے کے لیے ’ کیوں عمران خان کے لیے 2022ءایک ڈراﺅنا سال بن رہا ہے‘کے عنون سے کالم لکھا تھا جس میں ان کا کہنا تھاکہ ’بعض اطلاعات کے مطابق پاکستان کی طاقتور خفیہ ایجنسی ’آئی ایس آئی‘ کے نئے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کم پروفائل رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اگر سچ ہے تو یہ عمران خان کے لیے بری خبر ہے۔ اگر آئی ایس آئی غیر جانبدار رہتی ہے تووزیراعظم کے لیے پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک کو شکست دینا مشکل ہو جائے گا، جہاں ان کی اکثریت بہت کم ہے‘۔ 

یہ بھی لکھا کہ ’جن لوگوں نے 2018ءمیں ووٹ دیا، ان میں سے بہت سے اس کی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں، گزشتہ تین سالوں میں چار وزیر خزانہ اور 6سیکریٹری خزانہ آزماچکے ہیں۔عمران خان یہ سوچتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں امیدواروں کے انتخاب میں خامیوں کی وجہ سے ہارے لیکن ان کے قریبی ساتھی تھوڑ ا مختلف سوچتے ہیں، وہ حالیہ شکست میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو ذمہ دار سمجھتے ہیں‘۔

ادھر بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے بتایا کہ ’پہلے وزیر اعظم عمران خان کہتے تھے کہ میری دعا تھی کہ تحریک عدم اعتماد آئے، اب وہ کہہ رہے ہیں کہ بیرونی سازش ہے، پہلے آپ کہتے تھے کہ سندھ حکومت کا پیسہ ہے، اب آپ کہتے ہیں کہ پیسہ بھی باہر سے آ رہا ہے، جب کہ خود حکومت بھی وہی کر رہی ہے جو اپوزیشن کر رہی ہے، یعنی عہدوں کی آفر کر رہی ہے۔ ہم نے تو پیسہ چلتے کہیں نہیں دیکھا، میرے خیال میں یہ خط ایک سیاسی ہتھیار ہے کیوں کہ جس مبینہ خط کا ذکر ہے، کہا گیا کہ وہ سات مارچ کو موصول ہوا اور آٹھ مارچ کو تحریک عدم اعتماد آگئی جب کہ میں تین ماہ پہلے لکھ چکا تھا کہ تحریک عدم اعتماد آ رہی ہے۔'

حامد میر کے مطابق جنوری میں پارلیمنٹ لاجز میں ایک عشایئے کے دوران ان کو علم ہوا کہ نور عالم خان سمیت کئی حکومتی ایم این ایز پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑنے والے ہیں۔ 'یہ کسی بند کمرے میں نہیں، پارلیمنٹ لاجز میں گفتگو ہو رہی تھی،'لیٹر گیٹ سکینڈل سے عمران خان آسانی سے نہیں بچیں گے، وہ بتائیں کہ واقعی یہ خط کسی غیر ملکی سفیر نے لکھا، صرف ملک کا نام بتا دیں تاکہ ہم جان سکیں کہ ایسا کون سا ملک ہے جو اس طرح کھلے عام دھمکی آمیز خط لکھنے کی حماقت کرتا ہے، اگر یہ خط کسی پاکستانی سفارت کار کا ہے تو پھر وہ پی ٹی آئی کا ورکر ہو گا، سفارت کار نہیں ہو سکتا۔'

مزید :

اہم خبریں -قومی -