جھوٹ کا عالمی دن

 جھوٹ کا عالمی دن
 جھوٹ کا عالمی دن

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ”اپریل فُول“ یعنی جھوٹ کا عالمی دن بڑے جوش خروش سے منایا جا رہا ہے،حکمران، سیاستدان،  بیورو کریسی اور اشرافیہ تو عوام کو عرصہ دراز سے بے وقوف بناتی چلی آ رہی ہے، تاہم آج کے دن آپ کے دوست، احباب، عزیز اور رشتہ دار بھی آپ کو ”فُول“ بنانے کی پوری کوشش کریں گے۔ لہٰذا آج صبح اُٹھتے ہی اگر آپ کے فون، میسجز، واٹس ایپ، انسٹا گرام یا فیس بُک سمیت کسی بھی ذریعے سے آپ کو یہ پیغام ملے کہ کوئی پیاراکسی سڑک پر گاڑی کی زد میں آ کر زخمی ہوا ہے، یا پھر فلاں کی دکان میں آگ لگ گئی ہے، کوئی رشتہ دار انتقال کر گیا، آپ کے پلاٹ پر قبضہ ہو گیا یا پھر گاڑی چوری ہو گئی وغیرہ وغیرہ، تو ایسی کسی بھی پریشان کن خبر پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کر لیجئے گا۔ویسے میرے ذاتی خیال میں جو عوام حکمرانوں کے ہاتھوں مسلسل ”فُول“ بنتے چلے آ رہے ہوں  ان کو مزید بے وقوف بنانا زیادتی ہے۔آپ آج کے تازہ اخبارات اٹھا کر سیاست دانوں کے بیانات، جلسوں میں ہونے والی تقاریر اور دیگر سرگرمیوں سے متعلق شائع ہونے والی شہ سرخیوں پر نظر دوڑائیں تو آپ کو یقین آ جائے گا کہ آج واقعی ”جھوٹ کا عالمی دن“ ہے۔ مثلاً اخبار کے صفحہ اول پر تین کالم شائع ہونیوالی یہ خبر کہ یکم اپریل یعنی آج سے پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا امکان،بھی بظاہر ”اپریل فُول“ معلوم ہوتا ہے کیونکہ ہر پندرہ روز بعد ہونے والی اس معمول کی کارروائی کابنیادی مقصد بھی عوام کو ”فُول“ بنانا ہی ہے، کیونکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پہلے سے ہی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں اور چندپیسوں یا روپوں کی عارضی کمی کوئی خاص معنی نہیں رکھتی،اسی طرح پنجاب میں شناختی کارڈ کے حامل تمام افرادکو مفت آٹا حاصل کرنے کا اہل قرار دینا بھی ”اپریل فُول“ کے زمرے میں آئے گا کیونکہ مخصوص افراد کی اہلیت کے باوجود آٹا پوائنٹس بد نظمی، بد انتظامی اور دھینگا مُشتی کی تصویر بنے ہوئے ہیں جہاں اب تک 10 افراد مفت آٹا کے حصول کی کوشش میں جان کی بازی ہار چکے۔


تاریخی اعتبار سے جھوٹ کے عالمی دن یعنی ”فرسٹ اپریل فُول“ سے متعلق مارکیٹ میں پائے جانے والے حوالوں میں کوئی بھی ایسا مستند حوالہ نہیں جسے حتمی سمجھا جائے، علاوہ ازیں اس دن کے اصل ”اوریجن“ سے متعلق بھی کوئی ٹھوس حقیقت اب تک سامنے نہیں آئی، تاہم  مختلف جگہوں پر کئی متضاد حوالے ملتے ہیں،جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سپین کو جب عیسائی فوج نے فتح کیا تو اس وقت مسلمانوں کا اتنا خون بہایا گیا کہ فاتح فوج کے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تو ان کی ٹانگیں اس خون سے سرخ ہو جاتیں۔ جو مسلمان زندہ بچ گئے وہ اپنے علاقے چھوڑ کرکسی دوسری جگہ جا بسے اور وہاں جا کر اپنے گلوں میں صلیبیں ڈال لیں اور عیسائی نام رکھ لئے۔ اب بظاہر سپین میں کوئی مسلمان نظر نہیں آ رہا تھا مگرپھر بھی عیسائیوں کو یقین تھا کہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے، کچھ چھپ کر اور کچھ اپنی شناخت چھپا کر زندہ ہیں۔ان حالات میں چھپے ہوئے مسلمانوں کو سامنے لانے کے لئے غرناطہ میں یکم اپریل کو یہ اعلان کیا گیا کہ جو مسلمان اپنے ملکوں میں واپس جانا چاہتے ہیں وہ بندرگاہ کے قریب مخصوص مقام پر پہنچ جائیں، جب سب مسلمان اس دھوکے میں آ کر وہاں پہنچے تو انہیں ایک جہاز میں بٹھا کر گہرے سمندر میں لے جا کر ڈبو دیا گیا،اس دن غرناطہ کی قابض افواج نے مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کا جشن منایا۔ تاہم ایک دوسری روایت ان حقائق کو من گھڑت قرار دیتی ہے، جس کے مطابق یہ واقع بے بنیاد ہے کیونکہ عیسائی افواج نے 12 جنوری 1492ء کو سپین فتح کیا اور مسلمانوں کو سپین سے نکالنے کا حکم 9 اپریل 1609 ء کو دیا گیا تھا جس کا یکم اپریل سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ 1582 ء میں یہ دن تب شروع ہوا جب پوپ گریگوری سیز دہم کے اصلاح کردہ گریگوری کیلنڈر نے جولین کیلنڈر کی جگہ لی اور یہی کیلنڈر اب تک مستعمل ہے۔ پوپ نے یکم جنوری کو سال کا پہلا دن قرار دیا، اس سے پہلے یکم اپریل کو سال کا پہلا دن مانا جاتا تھا، ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن تک یہ خبر وسائل نہ ہونے کے باعث تاخیر سے پہنچی اور وہ لوگ یکم اپریل کو ہی سال کا پہلا دن مانتے رہے لہٰذا پوپ کے حکم پر یکم جنوری کو سال کا پہلا دن ماننے والوں نے یکم اپریل والوں کو ”اپریل فُول“ کا نام دے دیا۔


بہرحا ل، اپریل فول کی حقیقت جو بھی ہو، ہمارا ذاتی خیال ہے کہ ”فول“ بننے میں پوری دنیا میں پاکستانیوں کا کوئی ثانی نہیں ہے، جہاں کی حکمران اشرافیہ گزشتہ 75برسوں سے عوام کو مسلسل بے وقوف بنا رہی ہے اور آئندہ بھی بناتی رہے گی، ہر روز اخبارات میں سیاستدانوں کے بیانات پڑھ کر لگتا ہے کہ آج ”یکم اپریل فُول“ ہے۔پاکستانی مسلسل جھوٹ سننے کے اس قدرعادی ہو چکے ہیں کہ ان کے لئے شایدجھوٹ کے عالمی دن میں کوئی ”چارم“ نہ ہو کیونکہ پاکستانیوں کا تقریباً ہر دن ہی ”اپریل فُول“ ہے۔ لہٰذا کچھ نیا کرتے ہوئے ہمیں سال کے کسی ایک روز کو ”سچ کا دن“ مقرر کر کے اسے ہر سال باقاعدگی سے منانا چاہئے۔ اس ایک دن میں تمام حکمران، سیاست دان، سول اور ملٹری بیورو کریٹ، اعلیٰ عدلیہ کے جج اور دیگرطاقت ور طبقات کھلے بندوں، اپنے ضمیر کی آواز کے عین مطابق سچ بولیں اور عوام کے سامنے کھرا سچ رکھتے ہوئے یہ اعتراف کریں کہ وہ گزشتہ 75 برسوں سے اس ملک کے وسائل کو شیر مادر کی طرح ہضم کر رہے ہیں، اپنی اناؤں کی تسکین، دولت اور طاقت کی ہوس کی خاطر اس ملک اور عوام کا حشر کرتے چلے آ رہے ہیں۔ جی ہاں سال میں صرف ایک دن سچ کا دن مقرر کر دیں جس روز ہر شخص اپنے حلقہ ء احباب، عزیز رشتہ دار اور پیاروں کے سامنے مکمل سچ بولے کہ اس نے کن کن موقعوں پر اپنوں کا روپ دھار کر کیسی کیسی دھوکہ دہی سے کام لیا۔ سچ بولنے کا قومی دن منانے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ہمیں سچ اور جھوٹ کا فرق معلوم ہو سکے گا۔

مزید :

رائے -کالم -