تزویراتی فکر اور ہائرکمانڈ   (اقبال کی ایک دعا کی روشنی میں)

      تزویراتی فکر اور ہائرکمانڈ   (اقبال کی ایک دعا کی روشنی میں)
      تزویراتی فکر اور ہائرکمانڈ   (اقبال کی ایک دعا کی روشنی میں)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  حرفِ آغاز

ہم اس نکتے کو بار بار دہرانے پر مجبور ہیں کہ اقبال کا آدھے سے زیادہ کلام فارسی میں ہے اور ہمارے سکولوں اور کالجوں میں فارسی کی تعلیم و تدریس برائے نام رہ گئی ہے۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ نئی نسل اقبال کے پیغام کو کاملاًسمجھنے سے قاصر ہے حالانکہ یہ وہی پیغام تھا جس نے مسلمانان برصغیر کے سینوں میں حصول آزادی کی شمع روشن کی تھی۔ لیکن جب ہم آزادی حاصل کر چکے تو بہت سی وجوہات کی بناء پر رفتہ رفتہ تعلیمی اداروں سے فارسی کی تعلیم و تدریس ختم ہو کے رہ گئی۔ اب شاذ ہی کوئی ایسا طالب علم ہوگا جس کو اقبال کے فارسی کلام سے آگاہی ہو بلکہ یہ کہنا شاید زیادہ مناسب ہو کہ اب تو علامہ کے اردو کلام کو سمجھنے والے بھی بتدریج کم ہوتے چلے جا رہے ہیں!

اقبال نے جو کچھ اردو میں کہا اس سے کہیں زیادہ اور کہیں بہتر فارسی میں کہا۔ اس لئے اگر اس کے اردو کلام کو کسی بھی حوالے سے تشکیل کردار کی اساس گردانا جا سکتا ہے تو اس کا فارسی کلام بھی اسی زمرے میں شمار کرنا ہوگا اور اس کا معیار اور اس کی مقدار بھی بمقابلہ اردو کلام کے نسبتاً زیادہ ہوگی۔ مقام افسوس ہے کہ وہ شاعر مشرق جس نے اہل مغرب کی ترقی اور ہمہ جہت برتری کے اسباب پر کھل کر بحث کی اور من حیث القوم ان کی کمزوریوں کی بھی نشاندہی کی اس کی تعلیمات کو عام نہ کیا جا سکا۔ اس کے فارسی کلام سے بے اعتنائی برتنے کی وجوہات سمجھنا کوئی اتنا مشکل نہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ جو معدودے چند لوگ فارسی میں کچھ شدبدرکھتے ہیں اور اقبال کے مفکر پاکستان ہونے پر ایمان رکھتے ہیں اور صاحب ِ مراتب ہیں انہوں نے بھی اس سمت میں کوئی قدم نہ اٹھایا۔

ہم پہلے بھی اپنے قارئین کے ساتھ یہ حقیقت شیئر کر چکے ہیں کہ فوج اور شاعری کی ویسے بھی آپس میں نہیں بنتی اور ہمارا ذاتی خیال ہے کہ تدبیراتی (TACTICAL)سطح پر بننی بھی نہیں چاہیے۔ البتہ تزویراتی (STRATEGIC) سطح پر یا اونچے لیول پر ہر فن خواہ وہ کمانڈ ہو یا کچھ اور فن لطیف بن جاتا ہے۔ اس حوالے سے دیکھیں تو اعلیٰ سطح کے کمانڈروں کو شاعری کی ان اصناف اور ان اقسام کی خبر ضرور ہونی چاہیے جو انسانی اخلاق اور قائدانہ اوصاف کی تعمیر میں اہم رول ادا کرتے ہیں …… اگر زیادہ بلندی سے کسی زمینی ٹارگٹ کو نشانہ بنانا مقصود ہو تو نشانہ کی از بس درستگی (ACCURACY) شرط اول ہے وگرنہ ٹارگٹ کا ہٹ ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوگا۔ جوں جوں نیچے آتے جائیں گے نشانہ زیادہ صاف اور واضح ہوتا چلا جائے گا۔ جس طرح نچلی یا تدبیراتی سطح پر اوپر سے فائر کرنے والے کو زیادہ مشکل پیش نہیں آتی اسی طرح سینئر کمانڈروں کا لیول ”نشانے“ کی درستگی کا متقاضی ہوتا ہے۔ ان کو گویا پری  سیژن میونیشن (PRECISION MUNITION) درکار ہوتا ہے۔ ان کی بصارت میں شاہین کی سی گہرائی اور ضرب میں چیتے کی سی پھرتی ضروری ہوتی ہے۔ اس مقام بلند پر فائز ہونا آسان نہیں۔ یہاں ذرا سی بھول چوک یا ڈائریکشن سے اِدھر اُدھر ہٹنا  کامیابی یا ناکامی کا موجب بن جاتا ہے۔ شاعری کے فن لطیف کو اگر سینئر لیول کے کمانڈر اپنے ٹروپس کے کردار کی تشکیل کے لئے استعمال کرنا چاہیں تو انہیں اپنی بصارت نہیں بلکہ بصیرت کو آزمانا پڑے گا۔ یہی آزمائش ”آرٹ آف ہائر ڈائریکشن آف وار“ کے زمرے میں شمار ہوتی ہے۔ ایسی شاعری جو معمار اخلاق ہو، اس کا انتخاب کرنا اور اس کو اپنے ٹروپس کی نفسیاتی اور روحانی قوتوں یا ان کی شخصیت کے پوشیدہ گوشوں کو بے نقاب کرنے کے لئے استعمال کرنا ایک ”کمانڈ ذمہ داری“ ہے اور اس حوالے سے کلام اقبال کی تفہیم پاک فوج کے تمام ہائر کمانڈروں کے لئے ضروری قرار دی جا سکتی ہے۔ چھوٹے لیول پر بے شک کلام اقبال سمجھ آئے یا نہ آئے، اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا لیکن مفکر پاکستان نے بڑے لیول پر جو کچھ کہا ہے اس کو سمجھنے اور پھر سمجھ کر برتنے کے لئے کمانڈ کا ہائر لیول ہی درکار ہے۔اس پس منظر میں اقبال کے فارسی کلام کی اہمیت اور افادیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ پاک فوج میں شاذ ہی کسی نے اقبال کے کلام کے اس نازک، حساس اور تہہ در تہہ پہلو کا ادراک کیا ہوگا!

کہتے ہیں اگر کسی مسلمان کے خلوص نیت کا امتحان مقصود ہو تو اس کی ان دعاؤں کے الفاظ اور معانی پر غور کرو جو وہ اپنے رب کے حضور پیش کرتے ہوئے استعمال کرتا ہے۔دعا مانگنا عبادت خداوندی کا ایک لازمی جزو ہے بلکہ لب لباب اور خلاصہ ہے۔ نماز کے بعد مسلمان دو قسم کی دعائیں مانگتا ہے ایک وہ جو عربی زبان میں ہوتی ہے۔ اس کا مطلب سمجھ میں آئے نہ آئے ہر نمازی پابند ہے کہ وہ یہ دعامانگے۔دوسری قسم دعاؤں کی وہ ہے جو اپنی زبان میں مانگی جاتی ہے، عربی میں نہیں۔ اس دعا کا انداز ہی دوسرا ہوتا ہے۔ پنجاب (ضلع پاک پتن) کے گاؤں کی ایک مسجد میں مجھے جمعہ کی نماز کے بعد ایک مولوی صاحب کی زبان سے پنجابی دعا سننے کا جب پہلی بار اتفاق ہوا تھا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی تھی کہ وہ دعا اتنی جامع، اتنی مکمل اور اتنی پرتاثیر تھی کہ مجھے اردو، فارسی اور عربی کی تمام دعائیں اس کے سامنے کم اثر نظر آنے لگی تھیں۔

دعا میں خشوع و خضوع شرط اول ہے لیکن دعا کا ایک متن اور ایک مغز بھی ہوتا ہے۔ جذبات کی شدت کو زبان نہ ملے تو وہ آنسوؤں کی شکل میں ڈھل کر باہر نکل آتے ہیں اور اگر زبان مل جائے تو بعض اوقات شعر، نغمہ یا دعا کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

اقبال کے جذبات کا صحیح اندازہ لگانا ہو تو اس کی اثر آفرینی اور گہرائی اس کی ان دعاؤں میں دیکھی جا سکتی ہے جو وہ سربسجود ہو کر پروردگار عالم سے مانگتا ہے۔ دعا اگرچہ ایک انفرادی مکالمہ ہوتا ہے (بلکہ اسے خودکلامی کہیں تو زیادہ موزوں ہوگا) پھر بھی الفاظ کے سہارے اپنی قلبی کیفیتوں کا بیان وہ کسوٹی ہے جس پر دعا مانگنے والے کا خلوص پرکھا جا سکتا ہے…… آیئے اقبال کا خلوص بھی اس کی ایک فارسی دعا کے توسط سے پرکھیں۔

فارسی میں ان کی بہت سی دعائیں ہیں اور اتنی پرتاثیر ہیں کہ میرا جی چاہتا ہے کہ میں ان سب کو اپنے قارئین کی خدمت میں سلیس اردو میں پیش کروں لیکن ایک تو ان کا حجم بہت زیادہ ہو جائے گا اور دوسرے ان کا اسلوب اور الفاظ و تراکیب اتنی مشکل اور اتنی جامع و مانع ہیں کہ ان کا آسان اردو میں ترجمہ کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔

(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -