پنجاب میں قحط سالی کا خدشہ شدید ہوگیا، جائزہ رپورٹ پیش

پنجاب میں قحط سالی کا خدشہ شدید ہوگیا، جائزہ رپورٹ پیش
پنجاب میں قحط سالی کا خدشہ شدید ہوگیا، جائزہ رپورٹ پیش

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب میں غذائی عدم تحفظ کی وجہ سے قحط سالی کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

ہم نیوز کے مطابق آڈٹ ٹیم کی جانب سے مرتب شدہ جائزہ رپورٹ میں پنجاب میں غذائی عدم تحفظ کی وجہ سے آئندہ دو دہائیوں قحط سالی کا خدشہ کا ظاہر کیا گیا ہے،آڈٹ ٹیم نے پنجاب میں غذائی تحفظ کو غیر مستحکم اور غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔ جائزہ رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں بے تحاشہ اضافہ، حکومت کی غلط پالیسیاں، غیر مستحکم اور وسیع ایکشن پلان کا نہ ہونا پنجاب میں غذائی تحفظ کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2016 سے 2021 تک پنجاب حکومت نے مختلف سیکٹرز کو 367 ارب سے زائد سبسڈی دی، جس میں خوراک پر سب سے زیادہ 307 ارب سے زائد، ٹرانسپورٹ پر 32 ارب جبکہ زراعت پر 27 ارب سے زائد سبسڈی دی گئی۔سبسڈی پر جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اخراجات کے پیٹرن زراعت کو ایک معمولی رقم مختص کی گئی تھی تاکہ پیداواری لاگت کو کم کیا جا سکے۔علاوہ ازیں، جائزہ رپورٹ نے ماضی میں خشک سالی کا بھی زکر کیا اور بتایا کہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے بعد پنجاب نے شدید خشک سالی کا سامنا کیا اور خطرہ ابھی بھی برقرار ہے۔ موسمیاتی تبدیلیاں اور گلوبل وارمنگ پر بتایا کہ عالمی اوسط درجہ حرارت کے ہر ڈگری سیلسیس میں اضافہ سے اوسطاً گندم کی عالمی پیداوار میں 6 فیصد کمی کرے گا۔