دس گاوں کی فلسطینی آبادی کو نکالنے اور مکانات کی مسماری کی تیاریاں شروع کردی ہیں

دس گاوں کی فلسطینی آبادی کو نکالنے اور مکانات کی مسماری کی تیاریاں شروع کردی ...

بیت لحم( اے این این )فلسطین میں شہریوں کی اراضی اور اس کے مالکانہ حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم مرکز برائے لینڈ ریسرچ نے انکشاف کیا ہے کہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم کے قریب اور الخلیل شہر کے مشرق میں مجموعی طورپر دس گاو¿ں کی فلسطینی آبادی کو وہاں سے نکالنے اور ان کے مکانات کی مسماری کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ انسانی حقوق گروپ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ میڈیا میں آنے والی وہ اطلاعات درست نہیں ہیں جن میں اسرائیل کا ہدف بننے والے گاں کی تعداد آٹھ بیان کی گئی ہے۔ اصل تعداد آٹھ نہیں بلکہ دس ہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین کی رپورٹ کے مطابق صہیونی حکام نے جن دس بستیوں سے فلسطینیوں کو نکالنے کی منصوبہ بندی شروع کی ہے، ان میں مجازم تبان، سفائی الفوقا، سفائی التحتا، فخیت، حلاوہ، المرکز، جنبہ الفوقا، جنبہ التحتا، خروبہ ،طوبا،مفقرہ، سارورہ اور مغایر العبید نامی بستیاں شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیت لحم اور مشرقی الخلیل کے جن علاقوں کو اسرائیلی فوج نے جنگی مشقوں کے لیے مختص کیا ان میں فلسطینیوں کی زرعی زمینیںبھی شامل ہیں جن کا کل رقبہ کم سے کم 56 ہزار ایکڑ بنتا ہے۔ صہیونی فوج کی جانب سے جنگی مشقیں شروع کیے جانے سے قبل فوری طورپر کم سے کم ڈیڑھ ہزار فلسطینی باشندوں کو وہاں سے ھجرت پر مجبور ہونا پڑے گا۔قبل ازیں صہیونی وزیر دفاع ایہود باراک نے کہا تھا کہ مشرقی الخلیل کے علاقے فوجی مشقوں کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ لہذا وہاں پر موجود فلسطینی شہریوں کو نکال کر آئندہ فوجی مشقیں اس علاقے میں کرائی جائیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرقی الخلیل کے ان دس گاں کو فلسطینیوں سے خالی کرانے کا مقصد آس پاس موجود چار یہودی کالونیوںکرمل جس میں 321 یہودی آباد کیے گیے ہیں، ماعون 327، بیت یتیر میں بھی 327 اور سویسا کالونی میں 643 یہودیوں کو بسایا گیا ہے اور یہ چاروں یہودی کالونیاں تین ہزار ایکڑ کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہیں۔

مزید : عالمی منظر