عراق میںشادی شدہ افراد کے درمیان طلاق کی شرح میں اضافہ

عراق میںشادی شدہ افراد کے درمیان طلاق کی شرح میں اضافہ

  

بغداد (اے پی پی) عراق میں شادی شدہ افراد کے درمیان طلاق کی شرح میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو گیا۔ عراق کی سپریم جوڈیشل کونسل کے ذرائع کے مطابق ملک میں 2004ءسے اب تک طلاق کی شرح میں بتدریج اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے تاہم طلاق کی یہ شرح صدام حسین کے دور کے مقابلہ میں کافی حد تک کم ہے۔ 2011ءکے دوران 59515 جوڑوں نے علیحدگی اختیار کی۔ عراق کی وزارت انسانی حقوق کے ترجمان کامل الامین نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ طلاق کی شرح میں اضافہ کے پیچھے اقتصادی و سماجی وجوہات کارفرما ہیں۔ پارلیمنٹ کی ہیومن رائٹس کمیٹی کی رکن سمیرا الموسوی کا کہنا تھا کہ شرح طلاق میں اضافہ ایک منفی عمل ہے اور معاشرے اور بچوں کے مستقبل کیلئے نقصان دہ ہے تاہم شرح طلاق میں اضافہ کے باوجود یہ شرح صدام دور کے آخری سال کی نسبت بہت کم ہے۔ یاد رہے کہ عراقی عوام صدام حسین کے دور میں کئی عشروں تک افراتفری کی صورتحال میں رہے، پہلے 1980-88ءایران کے ساتھ پھر 1990ءمیں کویت پرجارحیت کے باعث بین الاقوامی اتحادی فورسز کے ساتھ جنگ کے باعث ملک کو شدید نقصان پہنچایا ۔جس کے بعد بڑی مقدار میں قومی اداروں کی نجکاری سے عوام شدید متاثر ہوئے ۔

مزید :

عالمی منظر -