کشمیرسنٹرلندن کی نئی مہم سے کشمیرکونسل ای یو کی جاری دستخطی مہم پرمنفی اثرنہیں پڑے گا، علی رضاسید

کشمیرسنٹرلندن کی نئی مہم سے کشمیرکونسل ای یو کی جاری دستخطی مہم پرمنفی ...

  

برسلز( آن لائن) کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید نے کہاہے کہ کشمیرسنٹرلندن کی طرف سے دستخطی مہم کا آغازایک اچھااقدام ہے۔اس سے کشمیرکونسل ای یو کی پہلے سے جاری دستخطی مہم پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ کشمیرکونسل ای یو نے یورپ کے مختلف ملکوں میں دستخطی مہم کا آغاز2010ءمیں کیاتھااور اس وقت سے ابتک برطانیہ کے شہروں لندن،برمنگھم ، بریڈفورڈاورمانچسٹرکے علاوہ، دیگرممالک خصوصاً ہالینڈ، بلجیم، فرانس، ناروے، سویڈن اور جرمنی وغیرہ میں ابتک بڑی تعدادمیں لوگ اس مہم کے تحت دستخط کرچکے ہیں۔ یہ مہم ان ممالک کے علاوہ دیگرممالک میں بھی ابھی جاری ہے۔علی رضاسیدنے کہا کہ تمام کشمیریوں کو ایک دوسرے سے مل کرکام کرناہوگا۔آپس میں ہم آھنگی کے ذریعے مسئلہ کو نئے اورمنفرد اندازاورطریقے سے اجاگرکرنے کی ضرورت ہے۔بیان میں کہاگیاہے کہ کشمیرکونسل ای یو کی مہم کا مقصد صرف پاکستانی یا کشمیری لوگوں کے دستخط حاصل کرنانہیں بلکہ اس مہم کے ذریعے ترجیحاًیورپ کے مقامی باشندوں سے بھی دستخط لئے جارہے ہیں تاکہ یہاں یورپی عوام مسئلہ کشمیرکے بارے میں آگاہ ہوں اور اس مسئلے کو اجاگرکرنے کے لیے اپنے عوامی نمائندوں پر اثراندازہوسکیں۔ ایک ملین دستخط جمع ہونے پر انھیں ایک دستاویزکی شکل میں یورپی پارلیمنٹ میں پیش کیاجائے تاکہ کشمیرکی صورتحال پر پارلیمنٹ میں بحث ہوسکے۔کشمیرکونسل ای یو یورپ میں یورپین اداروں اور یورپین عوام تک کشمیریوں کی آواز پہنچانے کے لیے روایتی طریقوں سے ہٹ کرتحریک چلارہی ہے۔ اس سلسلے میں کشمیرکونسل ای یو ہر اس فرد یا تنظیم کے ساتھ تعاون کررہی ہے اور کرے گی جو تحریک آزادی کشمیرکو یورپ میں اجاگرکرنے کے لیے خلوص دل کے ساتھ کام کررہے ہیں۔کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید نے کہاکہ تحریک کی کامیابی کا راز اتحاد میں ہے اور اسے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آھنگی سے آگے بڑھایاجاسکتاہے تاکہ مظلوم کشمیریوں کی آواز کو اجاگرکرنے میں مددملے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے ظالمانہ چہرہ بے نقاب کیاجاسکے اور کشمیرمیں ہونے والے مظالم خاص طورپر ہزاروں بے نام قبروں کے مسئلے کو اٹھایاجاسکے جوبھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسلی کشی کاواضح ثبوت ہے۔کشمیرکونسل ای یو اس وقت تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی جب تک کشمیریوں کو ان کاحق خودارادیت نہیں مل جاتااورکشمیریوں پر ظلم کرنے والوں کو ان کے کئے کی سزا نہیں مل جاتی۔علی رضاسید نے واضح کیاکہ بھارت کویہ بات یادرہے کہ نازی مظالم کو ستر سال ہوچکے ہیں لیکن آج بھی نازی مجرم کٹہرے میں لائے جارہے ہیں۔وقت آئے گاکہ کشمیریوں پر ظلم کرنے والوں کو بھی ظلم کا حساب دیناہوگا۔چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے اپنے بیان میں امریکی صدر اوباما سے بھی اپیل کی کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں رکوانے میں اپناموثرکرداراداکریں۔اگرلیبا، عراق، شام و جنوبی سوڈان کے عوام کو مظالم سے نجات دلانے کے لیے عالمی برادری کردار ادا کرسکتی ہے تو کشمیرپر اس طرح کاکردارکیوں نہیں اداہورہا؟کم از کم کشمیریوں پر مظالم بندکروانے و انکے بنیادی حقوق کی بحالی اور ان کو ان کا حق خودارادیت دلانے کے لیے کرداراداکیاجائے۔ حالانکہ عالمی برادری نے کشمیریوں کے ساتھ ان کا حق خودارادیت دلانے کا وعدہ کیاہواہے۔ پاکستان اوربھارت اس مسئلے کو چھ عشروں سے اکیلے حل نہیں کرسکے۔ آج کشمیری پرامن جدوجہدکررہے ہیں اور اگران کی آوازنہ سنی گئی تو کہیں کشمیری اپنے حقوق کے لیے دوسرا راستہ اختیارنہ کرلیں۔ یہ وقت ہے کہ بین الاقوامی برادری کشمیریوں کی آوازکو سنے اوران پر ہونے والے مظالم کو بند کروائے۔اس وقت سات لاکھ فوج کی موجودگی سے کشمیرکی خوبصورتی اورپرفضا ماحول پر منفی اثر پڑے رہاہے۔ اس سے لوگوں کی روزمرہ کی زندگی خاص طورپر بچوں کی تعلیم اور روزگارکے مواقع بری طرح متاثر ہوچکے ہیں۔ اس لیے فوری طورپر بھارت کو اپنی فوجیں وہاں سے نکالنی چاہیں۔ کشمیرکو غیرفوجی علاقہ قراردیاجائے۔ امریکہ اوریورپی یونین اس سلسلے میں اہم کردار اداکرسکتے ہیں۔ جب انسانی حقوق کا مسئلہ آتاہے تو یہ کسی ملک کا اندرونی معاملہ نہیں ہوتا بلکہ یہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہوتاہے۔ امریکہ اوریورپی یونین جو انسانی حقوق کے عالمی علمبردارہےں، سے امیدہے کہ وہ کشمیریوں پر مظالم کو روکنے کے لیے بھی اپنا کردار اداکریں گے۔ مسلمہ عالمی اصولوں کے تحت پوری عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ کشمیریوں پر مظالم رکوانے کے لیے کرداراداکرے۔کشمیرکونسل ای یوکے چیئرمین علی رضاسید نے آئے دن بھارتی فورسز کے ہاتھوں کشمیری رہنماووں اورکارکنون کی گرفتاریوں کی مذمت کی۔ انھوں نے کہاکہ حالیہ دنوں سری نگرمیں ان مظاہرین کے خلاف بھارتی اقدام قابل مذمت ہیں جو بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں انیس سالہ کشمیری نوجوان حلال احمد ڈارکی بانڈی پورہ کے علاقے میں شہادت پر احتجاج کررہے تھے۔علی رضاسید نے کہاکہ اس کشمیری نوجوان کی شہادت بھارتی ظلم و بربریت کی زندہ مثال ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انھوں نے مطالبہ کیاکہ اس واقعے کی فوری اور غیرجانبدارتحقیقات ہونی چاہیے۔

مزید :

عالمی منظر -