چین کے اسلحے سے لدے جہاز کو گذرنے کی اجازت دینے کا الزام

چین کے اسلحے سے لدے جہاز کو گذرنے کی اجازت دینے کا الزام

قاہرہ(آن لائن)مصر کی طاقتور سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے ایک سرکردہ رکن کا کہنا ہے کہ مصر کو تزویراتی اہمیت کی حامل آبی گذرگاہ نہرسویز میں بحری ٹریفک کو کنٹرول کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔انھوں نے مصری حکومت پر نہرسویز سے چین کے ایک بحری جہاز کو گذرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے شامی حزب اختلاف کی تنقید کے ردعمل میں یہ بات کہی ہے۔اخوان المسلمون کے سرکردہ رکن حسن آل پرنس نے اپنے ٹویٹر اکا¶نٹ پر لکھا ہے کہ مصر کو نہرسویز سے گذرنے والے کسی بھی جہاز کو روکنے کا حق حاصل نہیں ہے۔انھوں نے اس کی وضاحت میں لکھا ہے کہ اگر کسی ملک کے ساتھ مصر حالت جنگ میں ہے تواسے اس کے جہازوں کو روکنے کا حق حاصل ہے۔انھوں نے بتایا کہ نہر سویز سے گذرنے والے جہازوں کو معاہدہ استنبول کے تحت کنٹرول کیا جاتا ہے۔یاد رہےکہ اس معاہدے پر 1888ءمیں دستخط کیے گئے تھے۔حسن پرنس نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاہدے کا مسودہ شائع کردیں تا کہ تمام متعلقہ فریق اس کی شرائط سے آگاہ ہو جائیں۔شامی حزب اختلاف نے مصر کی حکومت کو چین کے اسلحے سے لدے ایک بحری جہاز کو نہرسویز سے گذرنے کی اجازت دینے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔شامی حزب اختلاف کے بہ قول اس جہاز پر اسلحہ لدا ہواتھا جس کو شامی حکومت انقلابیوں کے خلاف جاری ظالمانہ کریک ڈا¶ن کے دوران استعمال کرے گی۔تاہم ایک فوجی ذریعے نے اس الزام کی تردید کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ چینی جہاز پر معمول کی اشیاءلدی ہوئی تھیں اور وہ شام نہیں بلکہ یوکرین کی جانب جارہا تھا۔اس ذریعے نے مصر کے روزنامے المصری الیوم کو بتایا کہ چینی جہاز تمام بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کرتے ہوئے نہر سویز سے گذرا ہے اور کسی بھی قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔سماجی روابط کی ویب سائٹ فیس ب±ک پر شامی فوج کے ہاتھوں اندوہناک انداز میں قتل ہونے والے تیرہ سالہ بچے حمزہ الخطیب کے نام سے صفحے پرشامی انقلابیوں نے مصر اور اس کے صدر کے خلاف اس چینی جہاز کو گذرنے کی اجازت دینے پر ایک سخت مہم شروع کررکھی ہے۔اس صفحے کے منتظم نے لکھا ہے کہ ہم اسلحہ سے لدے چینی جہاز کو گذرنے کی اجازت دینے پر مصر کے صدر محمد مرسی کے 2038 مرتبہ شکرگزار ہیں۔اس چینی جہاز پر 2038 ٹن وزن لدا ہوا تھا اور اس مناسبت سے مصری صدر کا اتنی مرتبہ ہی شکریہ ادا کیا گیا ہے۔

مزید : عالمی منظر