جنوبی ایتھوپیا میں نسلی فسادات میں 18 افراد ہلاک12زخمی

جنوبی ایتھوپیا میں نسلی فسادات میں 18 افراد ہلاک12زخمی

عدیس ابابا(آن لائن) جنوبی ایتھوپیا میں نسل پرستی کی بنیاد پر ہونے والے فسادات میں اٹھارہ افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہو گئے ہیں جبکہ ہزاروں افراد نقل مکانی کر گئے ہیں۔کینیا کی ہلالِ احمر کا کہنا ہے کہ ان واقعات کی وجہ سے بیس ہزار افراد سرحد پار کر کے کینیا میں داخل ہو گئے ہیں۔تنظیم کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ البتہ ایتھوپیا کی فوج نے لڑائی روکنے کے لیے مداخلت کی ہے تاہم بہت سے لوگ ابھی بھی نقل مکانی کر رہے ہیں۔مو¿یل نامی علاقے میں ہونے والے فسادات کی اصل وجہ زمینوں پر قبضے کے حقوق بتائے جاتے ہیں۔لڑائی میں بورانا اور غاری برادریاں شامل ہیں اور ان کا آغاز گزشتہ ہفتے کے درمیان میں ہوا تھا۔اطلاعات کے مطابق جمعرات کو جب لڑائی مو¿یل کے سرحدی قصبے سے بڑھنے لگی تو مسلح گروہوں نے مضافاتی علاقوں میں مورچے سنبھالنا شروع کر دیے۔سرحد پار کر کے کینیا کے مو¿یل حصے میں پناہ لینے والوں میں سے اکثر کو کھلے آسمان تلے سونا پڑ رہا ہے۔ہلالِ احمر کا کہنا ہے کہ وہ متاثرہ افراد کو اشیاءِ خورد و نوش اور چٹائیاں فراہم کر رہے ہیں

مزید : عالمی منظر