حکومتی عدم توجہی سے پھلوں کے برآمدکنندگان مشکلات سے دوچارہیں

حکومتی عدم توجہی سے پھلوں کے برآمدکنندگان مشکلات سے دوچارہیں

  

کراچی (اکنامک رپورٹر) آل پاکستان فروٹ اینڈویجٹیبل ایکسپورٹرز،امپورٹرز اینڈمرچنٹس ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین اور ترجمان عبدالواحد نے کہا ہے کہ حکومتی عدم توجہی، غیر رجسٹرڈ برآمدکنندگان ، کسٹم حکام کے رویے اور ائیر فریٹ چارجز سمیت دیگر مسائل کے باعث پاکستانی پھلوں کے برآمدکنندگان شدید مشکلات سے دوچارہیں جبکہ رواں سیزن میں آم کا برآمدی ہدف پوراکرنا مشکل ترین نظرآرہا ہے اور ابتک صرف 22لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کا تقریبا ایک لاکھ ٹن آم برآمد کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ رواں سیزن میں آم کی پیداوار 20 تا 21 لاکھ ٹن ہو ئی تھی لیکن سندھ میں تقریبا 25فیصد جبکہ رحیم یار خان سمیت پنجاب میں بارشوں کے باعث 35 فیصد آم کی فصل کو نقصان پہنچا ہے ۔عبدالواحدنے بتایا کہ رواں سیزن میں آم کابرآمدی ہد ف دولاکھ ٹن مقررکیا گیا تھا لیکن موجودہ حالات کو مدنظررکھتے ہوئے ڈیڑھ لاکھ ٹن مقررکیاگیا اسکے باوجود پاکستان سے یورپی ممالک ،دبئی اور سعودی عرب کو ایک لاکھ ٹن آم برآمد کیا جاسکا ہے جبکہ مزید پانچ تا دس ہزار ٹن برآمد کیے جانے کے امکانات ہیں۔انہوں نے کہا کہ المیہ یہ ہے کہ قومی ائیر لائن پی آئی اے کی جانب سے لندن کے لیے آم برآمد کرنے کے لیے کارگومیں جگہ تک نہیں اور جب لندن کے لیے ائیر کارگو اضافی چارجز وصول کیے جاتے ہیں تواسکے باوجودلندن سے آم دوبارہ واپس آنے کے واقعات کابھی سامناکرناپڑا ہے ۔انہوں نے کہا کہ چند کالی بھیڑیوں کی جانب سے پھلوں اورسبزیوں کی آڑ میں منشیات اسمگل کرنے کی ناکام کوشش کے باعث کسٹم حکام اور اے این ایف کی جانب سے آم کے کنٹینرز کی جانچ پڑتال کے باعث بھی آم کی برآمدات کودھچکا لگا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پھلوں اورسبزیوں کی آڑ میں منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے پھلوں اورسبزیوں کے برآمدکنندگان کوایسوسی ایشن کی رکنیت لازمی قراردی جائے اور ایسوسی ایشن کی جانب سے گارنٹی فراہم کرنے پر پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات کی اجازت دی جائے تومحکمہ کسٹم اوراے این ایف کے ساتھ حقیقی پھلوں اورسبزیوں کے برآمدکنندگان کے مسائل حل ہوسکتے ہیں اور پاکستانی پھلوں اورسبزیوں کی برآمدات میںاضافہ بھی کیاجاسکتا ہے

مزید :

کامرس -