سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کی تھر کول مائننگ پروجیکٹ کی فزیبلٹی رپورٹ تیار

سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کی تھر کول مائننگ پروجیکٹ کی فزیبلٹی رپورٹ تیار

  

سکھر (اے پی پی) حکومت کی جانب سے ملک میں توانائی کی طلب و رسد کے فرق کو دور کرنے اور توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے متبادل توانائی کے ذخائر کو بروئے کار لانے کی غرض سے تھرکول پروجیکٹ کے حوالہ سے تیزی سے پیشرفت جاری ہے۔ اس ضمن میں حکومت اور اینگرو پاور جن لمیٹڈ کے اشتراک سے قائم جوائنٹ وینچر ” سندھ اینگرو کول مائنگ کمپنی“ کی جانب سے تھرکول مائننگ اینڈ پاور پروجیکٹ کی سالانہ گنجائش 6.5 ملین ٹن سالانہ اور دوسرے اور تیسرے مرحلہ میں مائننگ آپریشن کو13mt/a اور 22.8mt/a تک بڑھایا جائے گا جو 4 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے کافی ہو گا۔ سندھ اینگرو کول مائنگ کمپنی نے عالمی شہرت یافتہ کنسلٹنٹ آر ڈبلیو ای جرمنی، سائنو کول چین، ایس آر آئی برطانیہ اور ایچ بی پی پاکستان کی خدمات سے تھر بلاک II کول مائنننگ پروجیکٹ کی بی ایف ایس فزیبلٹی تیار کر لی ہے۔ یہ بات اینگرو فرٹیلائزرز کے وائس پریذیڈنٹ مینوفیکچرنگ انعام اﷲ نوید خان اور منیجر پبلک افیئرز اینگرو کارپوریشن کراچی نے یہاں مقامی ہوٹل میں صحافیوں کے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر کے موقع دی گئی بریفنگ میں بتائی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تھرکول ملک میں توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے اور توانائی کے بحران کے مکمل خاتمہ کا واحد ضامن ہے جس سے ملک کی قسمت تبدیل ہو سکتی ہے۔ تھر کول فیلڈ میں 175 بلین ٹن کے قابل استعمال ذخائر موجود ہیں جو سعودی عرب اور ایران کے تیل کے ذخائر سے بھی زائد ہیں ، یہ کوئلہ آئندہ 200 برس تک ایک لاکھ میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔، مقامی قدرتی ذخائر کوتوانائی کیلئے زیر استعمال لا کر اربوں روپے کا زر مبادلہ بچایا جا سکتا ہے جو اس وقت مہنگا آر ایف او ( ریفائنڈ فرنس آئل)خریدنے میں خرچ کیا جا رہا ہے، تھرکول پروجیکٹ کے حوالے سے علاقہ میںانفراسٹرکچر کی ضروریات سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تھر کیونکہ ایک غیر ترقیاتی علاقہ ہے جہاں بڑے انڈسٹریل پروجیکٹ کیلئے بنیادی انفراسٹریکچر موجود نہیں، تھر میںمائننگ اور پاور پلانٹ قائم کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر انفراسٹریکچر کی فراہمی کی ضرورت ہے، حکومت تازہ پانی کی فراہمی، ڈسپوزل اسکیم، روڈ نیٹ ورک اور ٹرانسمیشن لائن فراہم کر رہی ہے، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کے باوجود حکومت سندھ نے مالی سال 2012-13ءمیں اس منصوبے کیلئے 10 بلین روپے مختص کئے ہیں، ایس آئی ڈی اے، ایل بی او ڈی سے فراہمی آب اسکیموں کی ترقی اور فزیبلٹی پر کام کر رہی ہے، کنسلٹنٹس نے سڑکوں کے نیٹ ورک کو حتمی شکل دے دی ہے، ڈسپوزل اسکیم اور واٹر سپلائی اسکیم پر بھی کام جاری ہے جبکہ سی ڈی ڈبلیو پی نے ٹرانسمیشن لائن کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان بزنس کونسل کی جانب سے کی گئی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق2020ءتک پاکستان کا پٹرولیم مصنوعات کا درآمد کرنے کا خرچہ 120 بلین امریکی ڈالر سے بھی تجاوز کر جائے گا، تھر کول کی ترقی کا بنیادی مقصد ملک میں موجودہ قدرتی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے صارفین کو سستی، قابل اعتماد اور پائیدار بجلی کی فراہمی ہے، تھرکول پر مبنی بجلی کئی گنا سستی ہو گی جس کی وجہ سے عام صارفین کو موجودہ کی نسبت سستی بجلی میسر ہو گی۔ تھرکول درآمد شدہ کوئلہ اور ایل این جی کے مقابلہ میں سستا ہوگا، پاکستان کی موجودہ بجلی کی پیداواری صلاحیت 14 ہزار میگا واٹ تک ہے جبکہ موجودہ ترقی کی شرح کے حساب سے 2020ءتک پاکستان میں بجلی کی طلب 26 ہزار میگا واٹ تک تجاوز کر جائے گی جس سے 10 ہزار میگا واٹ تک بجلی تھر کول سے پیدا کی جا سکتی ہے۔

مزید :

کامرس -