ارسلان افتخار کیس ، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کیخلاف حکم امتناعی جاری ، نیب کی لارجر بنچ کی استدعامسترد

ارسلان افتخار کیس ، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کیخلاف حکم امتناعی جاری ، نیب کی ...

  

اسلام آباد (ثناءنیوز ) سپریم کورٹ آف پاکستان نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے ارسلان افتخار کی جانب سے دائر نظر ثانی کی درخواست کی سماعت کے دوران سیکرٹری داخلہ ، ایس پی اسلام آباد رورل پولیس فیصل میمن اور ڈی ایس پی اسلام آباد پولیس ملک طاہر کو طلب کرتے ہوئے ان سے سپریم کورٹ میں پیشی پر آتے وقت بحریہ ٹاﺅن کے مالک ملک ریاض کو غیر معمولی سیکورٹی دینے پر وضاحت طلب کر لی ہے۔ عدالت نے نیب کی جانب سے مقدمہ کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کر دی ہے جبکہ ارسلان افتخار کیس کی تحقیقات کے حوالے سے حکم امتناعی جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے فریقین کو 2 اگست کو طلب کر لیا ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل دو رکنی خصوصی بینچ نے بدھ کو مقدمہ کی سماعت کی۔ مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی تو پراسیکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا نے کہا ہے کہ میں نے ایک درخواست جمع کرائی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ لارجر بینچ تشکیل دیا جائے جس پر عدالت نے کہا کہ لارجر بینچ کیوں تشکیل دیا جائے اس کی وجہ کیا ہے۔ کے کے آغا کا کہنا تھا کہ نیب اس کیس میں پارٹی میں تھا اس کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ ارسلان افتخار کی جانب سے نیب پر الزامات لگائے گئے ہیں اگر آپ محسوس کرتے ہیں تو ایسی کوئی چیز نہ چھوڑیں جو عدالت میں پیش نہ کریں۔ سر دار اسحاق نے کہا کہ عدالت نے نیب نیتی کے ساتھ حکم دیا لیکن اٹارنی جنرل اور نیب نے عدالت کا حکم کا ناجائز فائدہ لینے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی سی او ججز کیس میں اٹارنی جنرل کے خلاف سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا اس لیے ذاتی ان کے باعث وہ جانبدار ہیں ۔ سردار اسحاق نے کہا کہ یہ فیصلہ درخواست گزار (ارسلان) کے والد نے دیا جس پر عدالت نے قرار دیا کہ عدالت میں کوئی باپ نہیں ہوتا۔ سردار اسحاق کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل ارسلان افتخار سے انتقام لینا چاہتے ہیں اور اس لیے وہ سٹیٹ کی مشینری کو استعمال کر رہے ہیں۔ اٹارنی جنرل کی ہدایت پر نیب کے چیئر مین فصیح بخاری نے نیب، ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس پر مشتمل ٹیم تشکیل دی کسی صوبے سے کوئی بھی افسر نہیں لیا گیا جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ سارے ایماندار افسر اسلام آباد میں ہی ہیں صوبوں میں نہیں ہیں ۔ اٹارنی جنرل نے تحقیقات کا ہینڈل اپنے ہاتھ میں رکھا اور ہدایت کی کہ انہیں تمام تحقیقات سے آگاہ کیا جاتا رہے۔سردار اسحاق نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے چیئرمین نیب کو ہدایت کی ہے کہ ایف آئی اے، نیب اور وفاقی پولیس کے آفیسران پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم بنائی جائے اور چیئرمین نے آنکھیں بند کر کے ٹیم بنا دی حالانکہ نیب آرڈیننس کے تحت ایسا نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ میرا ذہن نہیں مانتا کہ اتنے ہم عہدوں پر فائز افراد جانبدار ہوں گے لیکن یہ بات ہے کہ ہر کوئی اپنے ظرف کے مطابق سوچے گا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ جس نے بھی کرپشن کی وہ مورد الزام ٹھہرے گا وہ چاہے کوئی بھی ہے۔ سردار اسحاق نے کہا کہ ایس پی فیصل میمن کا نام تحقیقاتی ٹیم میں ملک ریاض کی ہدایت پر شامل کیا گیا جس دن ملک ریاض سپریم کورٹ میں پہلی پیشی کے موقع پر آیا تو فیصل میمن اس کے ساتھ ساتھ تھا۔اس موقع پر عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج عدالت میں دکھائی گئی جس میں فیصل میمن ملک ریاض کے ساتھ عدالت میں آ رہے تھے۔ عدالت نے ایس پی فیصل میمن سے کہا کہ آپ نے کلپ دیکھ لیا ہے اس پر آپ اپنی وضاحت عدالت میں پیش کریں۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو طلب کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ ایڈیشنل سیکرٹری خوش دل خان عدالت کے احاطے میں داخلے کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی گئی جس میں فیصل میمن حقیقت میں ملک ریاض کے ساتھ ساتھ آ رہے ہیں۔ اس لیے عدالت نےب تحقیقات کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتی ہے۔ اس موقع پر نیب کے پراسیکیوٹر جنرل نے حکم امتناعی پر اعتراض کیا جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ پرسوں تک کوئی آسمان نہیں کرے گا۔ کے کے آغا نے کہا کہ وہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہ فوٹیج کس طرح حاصل کی گئی ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ فیصل میمن اس وقت تک اس مشترکہ ٹیم کے ساتھ کام نہیں کر سکتے جب تک وہ قابل قبول وضاحت پیش نہیں کرتے۔ اس موقع پر ملک ریاض کے وکیل زاہد بخاری نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس ویڈیو کا ارسلان افتخار کے وکیل کو کیسے علم ہےاور ویڈیو کا انتظام ہمارے علم میں لائے بغیر کیسے آیا۔ زاہد بخاری نے کہا کہ نیب تحقیقات کے خلاف حکم امتناعی ان کے موکل کے خلاف متعصبانہ حکم ہے عدالت نے قرار دےا کہ 28 جون کو سیکرٹری داخلہ کو خط لکھا گیا تھا کہ جس میں کہا گیا تھا کہ وہ وضاحت کریں کہ ملک ریاض کو کس لیے اتنی سیکورٹی دی گئی تھی ایک ماہ قبل یہ حکم دیا گیا تھا ۔سیکرٹری داخلہ نے اس خط کا جواب نہیں دیا تھا حتیٰ کہ 25 جولائی کو دوبارہ خط لکھا گیا لیکن رپورٹ جمع نہیں کروائی گئی۔ درےں اثناءملک ریاض کے وکیل نے دو دن کی بجائے زیادہ مہلت مانگی جسے عدالت نے مسترد کر دےا جبکہ عدالت نے کہا ہے کہ سیکرٹری داخلہ، فیصل میمن اور طاہر ملک سے رپورٹ طلب کی ہے جس کے بعد عدالت حکم جاری کرے گی اگر آئندہ سماعت پر مدعا علیان کے وکلاءچاہیں گے تو ان کو بھی سنا جائے گا۔

مزید :

صفحہ اول -