بدترین لوڈشیڈنگ پر زرداری کی تعریفیں نہیں کرسکتے ، اے این پی کا سینٹ سے پھر واک آﺅٹ

بدترین لوڈشیڈنگ پر زرداری کی تعریفیں نہیں کرسکتے ، اے این پی کا سینٹ سے پھر ...

اسلام آباد(اے پی اے )سینیٹ کا اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی نے لوڈ شیڈنگ کیخلاف سینیٹ میں دوسرے روز بھی احتجاج کیا اور اس کے سینیٹرز ایوان سے واک آو¿ٹ کرگئے۔سینیٹ کا اجلاس چیئرمین نیئر بخاری کے زیر صدارت ہوا۔ ایجنڈے میں صدر کے پارلیمنٹ سے خطاب پر اظہار تشکر کی تحریک پر بحث بھی شامل تھی لیکن عوامی نیشنل پارٹی نے بحث میں حصہ لینے سے انکار کردیا۔ اے این پی کے سینیٹر زاہد خان کا کہنا تھا کہ لوڈ شیڈنگ کی بدترین صورتحال میں صدر کی تعریفیں نہیں کرسکتا۔ ن لیگ کے سینیٹر ظفر علی شاہ کا کہنا تھا کہ صدر آصف علی زرداری نے ثابت کیا کہ وہ پورے ملک کے نہیں بلکہ ایک مخصوص ٹولے کے صدر ہیں۔ تفصیلات کیمطابق سینیٹ کا اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی واک آو¿ٹ کر گئی۔ سینیٹ کا اجلاس چیئرمین نیئر حسین بخاری کی صدارت میں ہو ا۔ اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی تو بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی کے ارکان سینیٹ سے احتجاجاً واک آو¿ٹ کر گئے۔ گزشتہ روز بھی اجلاس میں حکومت کے اتحادی لوڈشیڈنگ کے معاملے پر بجلی بن کر پیپلز پارٹی پر ٹوٹ پڑے تھے، اپوزیشن نے اتحادیوں کو پیپلزپارٹی کا ساتھ چھوڑ کر دنیا اورآخرت سنوارنے کا مشورہ دیا، چیئرمین سینٹ کہتے ہیں آئندہ متعلقہ محکموں کے وزراءاورافسران حاضر نہ ہوئے تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ اے این پی کے سینٹر زاہد خان نے بجلی کی لوڈشیڈنگ ، عوامی مسائل پر توجہ نہ دینے اوروزراءکی غیر حاضری پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایوان سے واک آو¿ٹ کردیا۔ بلوچ سینٹرحاصل بزنجو بھی ایوان سے اٹھ کر چلے گئے۔ وزراءاور متعلقہ محکموں کے حکام کی عدم حاضری پر چیئرمین سینٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمے کے اعلی حکام اپنی حاضری یقینی بنائیں ورنہ سخت کارروائی کی جائے گی۔اجلاس میں ایم کیوایم کے سینٹر طاہرمشہدی نے کہا کہ حکومت سرچارج کے نام پر بھتہ خوری کررہی ہے، سینٹراسحاق ڈار نے کہا کہ طاہرمشہدی روزے میں سچ بول گئے، انہیں اپنی قیادت کو بھی سچ بتانا چاہیے۔ جے یو آئی کے حاجی غلام علی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور اے این پی کے وزراءمساجد جاتے ہی نہیں ، انہیں لوڈ شیڈنگ کے شیڈول کا بھی پتہ نہیں ہے۔ قبل ازیں گذشتہ روز ایوان بالا کا اجلاس 45 منٹ کی تاخیر سے چیئرمین سید نیئر حسین بخاری کی زیر صدارت 11بج کر 15منٹ پر تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا ، تلاوت کلام پاک کے بعد صدارتی بحث کا آغاز ہوا بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ صدر کو اختیار ہے کہ وہ کسی بھی وقت دونوں ایوانوں کے اجلاس طلب کرسکتے ہیں اور موجودہ اجلاس بھی صرف ایک حلف کے لیے نہیں بلایا گیا اور لگتا ہے کہ یہ حلف برداری والا اجلاس عید تک یا اس کے بعد بھی جاری رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی 17 مارچ کی تقریر کو جانبدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی نہیں بلکہ جیالوں کی نمائندگی کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ صدر صرف ملک کا صدر نہیں بلکہ فوج کے سپریم کمانڈر اوروفاق کی علامت ہے اور مجھے صدر پر کوئی اعتراض نہیں لیکن ان کی تقاریر سے لگتا ہے کہ وہ کسی مخصوص گروپ کے صدر ہیں اور اس رویے کے باعث پارلیمانی نظام یا جمہوری نظام نہیں چل سکتا اسی مایوسی کے عالم میں پھر لوگ عدالتوں کا رخ کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ جس طرح چیئرمین سینٹ اور سپیکر قومی اسمبلی غیر جانبدار ہوتے ہیں اسی طرح صدر مملکت کو بھی پورے ملک کا صدر ہونا چاہیے اس طرح کے بیانات نہیں دینے چاہیں کہ آئندہ صوبائی حکومتیں میری مرضی سے بھی بنیں گی یا ایک جیالا چلا گیا دوسرے کو وزیراعظم بنا دیا یہ تقاریر قابل اعتراض ہیں انہوں نے کہا کہ ساڑھے چار سال میں خارجہ پالیسی بارے وضاحت نہیں کی گئی ´۔صدر نے معاشی پالیسی بارے بھی آگاہ نہیں کیا مالیتی امور وہی لوگ چلا رہے ہیں جو سابق ڈکٹیٹر کے دور میں چلا رہے تھے تین سال سے سپریم کورٹ سے محاذ آرائی کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ ملک کے دو بڑے ادارں میں تصادم کے باعث عوام کو ریلیف نہیں مل رہا اور لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہورہا ہے جس کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے آج آئین کی پاسداری نہ کی تو کل کوئی طالع آزما آسکتا ہے اور پھر ہم اس سے گلہ نہیں کرسکیں گے اس لئے اس طرف توجہ دی جائے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر حمزہ نے صدارتی خطاب پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ اب صدر آصف علی زرداری خود ایک مسئلہ بن گئے ہیں انہوں نے کہا کہ پی پی پی کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر ان کے اثاثہ جات بیرون ملک نہیں ہیں تو عوام کو آکر بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرنا چاہیے ایک وزیراعظم خط نہ لکھنے کی پاداش میں گھر جا چکا ہے اور دوسرا بھی خط نہ لکھنے کی بات کررہا ہے پاکستان دنیا میں تماشہ بن چکا ہے ملکی معیشت تباہی کے دھانے پر کھڑی ہے انہوں نے کہا کہ رحمن ملک ایک مرتبہ پھر وزیر داخلہ کے عہدے پر براجمان ہوگئے ہیں اور انہی کی خاطر یہ اجلاس بھی طلب کیا گیا مگر اس کے باوجود ملک میں امن عامہ کی حالت انتہائی ابتر ہوچکی ہے انہوں نے کہا کہ کراچی ، کوئٹہ میں حالات انتہائی خراب ہیں بلوچستان میں لوگوں کو گاڑیوں سے اتار کر ٹارگٹ کیاجاتا ہے کوئی شخص محفوظ نہیں ہے پاکستان کو دنیا میں تماشہ بنایا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ میں اٹھارہ لوگ مر جائیں تو اوبامہ ان کے گھروں میں تعزیت کے لیے پہنچ جاتے ہیں مگر یہاں ڈرون حملوں میں سینکڑوں پاکستانی لقمہ اجل بن گئے ہیں مگر حکمرانوں کی طرف سے صرف مذمتی بیان آتے ہیں اس پر کیوں موثر اقدام نہیں اٹھایا جاتا۔ ہمیں دنیا بھر میں رسوا کردیا گیا چوبیس پاکستانیوں کو سلالہ چیک پوسٹ پر شہید کردیا گیا مگر امریکی معافی مانگنے کے لیے تیار نہ ہوئے اور ہم نے گھٹنے ٹیک دیئے اس سے بڑھ کر کیا بدنامی ہوگی انہوں نے کہا کہ خدارا وہ آئین و قانون کی پابندی کریں صدارتی بحث کو سمیٹتے ہوئے قائد ایوان سینیٹر جہانگیر بدر نے کہا کہ حکومتی و اپوزیشن اراکین صدارتی بحث میں حصہ لیں اور حکومتی و اتحادیوں نے صدر کے بہتر اقدامات کوسراہا جبکہ اپوزیشن کی جانب سے ان کی تقریر پر بحث کی بجائے ان کی ذات کو ٹارگٹ کیا گیا انہوں نے کہا کہ صدر نے ایسے وقت میں مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا جب الیکشن قریب ہیں اور صدر نے واضح کیا کہ آئندہ انتخابات کو غیر جانبدار اور شفاف کرایا جائے گا انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی جمہوری روایات کو نہیں چھوڑا اور جمہوری اور جمہوریت کے استحکام کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں پی پی پی نے دیں انہوں نے کہا کہ صدر مملکت نے معاشی پالیسی کو آگے لے کر چلا مگر اس طرف کسی نے توجہ نہیں دی اور کوئی بات نہیں بنی انہوں نے قوم کو متحد کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے انہوں نے کہا کہ دونوں ایوانوں میں کوئی ایسی جماعت نہیں جس نے اقتدار میں صدر آصف علی زرداری کے ساتھ نہ دیا ہو اس حکومت کا حصہ نہ بنے ہوں یہ صرف اس لیے ممکن ہوا کہ وہ مفاہمتی پالیسی پر گامزن ہیں اور جمہوری اقدار کے فروغ اور جمہوریت کے استحکام کے لیے مفاہمت ضروری ہے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو تنقید کا پورا حق حاصل ہے مگر مثبت تنقید کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف نے الیکشن کا بائیکاٹ کردیا تھا مگر صدر آصف علی زرداری کی کوششوں سے دوبارہ الیکشن میں حصہ لیا انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے نامساعد حالات میں حکومت سنبھالی مگر اس کے باوجود ملکی دفاع پر سمجھوتہ نہیں کررہے ہیں اور پاکستان کی دہشتگردی کیخلاف فتح تک کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی عوامی نیشنل پارٹی نے صدر کے خطاب پر آخری روز بحث میں احتجاجاً حصہ نہ لیا ۔اجلاس میں حکومتی و اپوزیشن اراکین نے برما کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے اور او آئی سی پر دباﺅ بڑھائے ایوان بالا سے متفقہ قرارداد پاس کی جائے سینیٹر اسحاق ڈار کی تجویز کی حمایت ، ملک میں جاری ظلم و تشدد روکنے کے لیے بھی اقدامات اٹھائے جائیں ملک میں خود ساختہ مہنگائی اور ملاوٹ شدہ اشیاءفروخت کی جارہی ہیں ان کا تدارک کیا جائے ۔ منگل کے روز نکتہ اعتراض پر اراکین سینٹ کا اظہار خیال ۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اسحاق ڈار نے ایوان میں مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ برما میں مسلمانوں کے قتل عام پر ایک متفقہ قرارداد لے کر آئے انہوں نے اس معاملے میں او آئی سی کے کردار کا بھی جائزہ لینے کا اعادہ کیا اور کہا کہ وزارت خارجہ کو ایوان میں طلب کیا جائے اوراس سے وضاحت طلب کی جائے کہ وزارت خارجہ نے اس معاملے پر کیا کردار ادا کیا جائے ۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ برما کے مسلمانوں کے قتل عام پر اقوام متحدہ کی خاموشی قابل تشویش ہے انہوں نے قائد حزب اختلاف سینیٹر اسحاق ڈار کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ایوان اس معاملے پر متفقہ قرارداد لے کر آئے بعد ازاں سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ برما میں مسلمانوں کا قتل عام عالم اسلام کیلئے لمحہ فکریہ ہے انہوں نے کہا کہ اس معاملہ پر متفقہ قرارداد ایوان میں پیش کی جائے اور وزارت خارجہ کو ایوان میں بلا کر اس حوالے سے صورتحال کا جائزہ لیا جائے ۔ بعد ازاں سینیٹر زاہد خان نے بھی برما کے مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف مذمت کی غرض سے متفقہ قرارداد لانے کے فیصلے کوسراہا ۔ متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر کرنل ریٹائرڈ طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ بلوچستان میں امن وامان کی خراب صورتحال ، ایجنسیوں کا کردار اور بلوچستان کی معاشی و سماجکی حالت پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ یہ بہت اہم قومی نوعیت کا مسئلہ ہے لہذا دو دن اس مسئلہ پر تفصیلی بحث کی جائے ۔سینیٹر روبینہ خالد نے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے برما میں مسلمانوں کے قتل عام پر متفقہ قرار داد لانے کی فیصلے کی حمایت کی بعدازاں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نواز دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور اپنا کردار ادا کرتی رہے گی ۔ بعد ازاں سینیٹر سیدہ صغریٰ امام نے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نئی تشکیل دی جانیوالی لسٹیں کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ پر بنائی جارہی ہیں مگر پارلیمنٹ الیکشن کے عمل میں سب بڑا سٹیک ہولڈر ہے انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ لسٹوں کی تیاری میں الیکشن کمیشن اور نادرا کے ساتھ مل کر کام کرے تو یہ عمل بہت مفید ہوگا ۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے نکتہ اعتراض پر تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کی ہوئی غلطیوں کو درست کرنے کیلئے اقدام کئے جائیں اور مستقبل میں جن لوگوں کو موت کا سرٹیفکیٹس جاری کیا جائے اس کیلئے نادرا شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی منسلک کرنا ضروری قرار دیاجائے اور متعلقہ یونین کونسل اس کی ایک نقل نادرا کو بھیجے تاکہ کسی شخص کی موت نادرا کے ریکارڈ میں بھی آسکے اس پر چیئرمین سینٹ نیئر حسین بخاری نے کہا کہ لوکل باڈی ایکشن صوبائی معاملہ ہے لہذا اس مسئلے کو قائمہ کمیٹی داخلہ میں زیر بحث لاسکتی ہے ۔

مزید : صفحہ اول