انتخابی فہرستیں جاری اب ہی راستے ہیں شفاف انتخابات یالولہ لنگڑا پاکستان ،فخرالدین ابراہیم

انتخابی فہرستیں جاری اب ہی راستے ہیں شفاف انتخابات یالولہ لنگڑا پاکستان ...

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک+ثناءنیوز+ آئی این پی ) شفاف انتخابات کرائے بغیر کوئی چارہ نہیں، ملک بھر میں انتخابی کام شروع ہوگیا۔ یہ بات چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ ڈالنے کے لئے کمپیوٹرائزڈ شناختی لازم قرار دے دیا گیا ہے۔ ایسے انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں کہ کسی کو اعتراض نہ ہو۔ ماضی کی باتیں بھول جائیں سب نے غلطیاں کیں اور پہلے اتنی ٹیکنالوجی نہیں تھی لیکن اب عوام تبدیلی کے لئے تیار ہیں ۔ بغیر کسی ڈر اور خوف کے نادرا کے ساتھ مل کر انتخابی فہرستیں ایسی بنائی گئی ہیں جن پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے عملے نے فہرستوں کی تیاری میں ووٹرز کے گھرگھر جاکر تصدیق کی ہے۔ 8 کروڑ 43 لاکھ 60 ہزار ووٹرز کا اندراج کیا گیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ الیکٹورل رول پر کوئی اعتراض نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک ٹیم کی طرح کام کررہے ہیں اور نادرا کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے ووٹر لسٹیں تیار کی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اہل افسران موجود ہیں ، ووٹر لسٹیں انتہائی شفاف بنائی گئی ہیں ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئندہ عام انتخابات کے لیے 8 کروڑ 43 لاکھ 65 ہزار سے زائد ووٹروں پر مشتمل حتمی کمپیوٹرائزڈ انتخابی فہرستیں جاری کردی ہیں فہرستوں میں مرد ووٹرز کی تعداد 4 کروڑ 77 لاکھ 73 ہزار  اسی طرح خواتین ووٹرز کی تعداد 3 کروڑ 65 لاکھ 91 ہزار  سے زائد ہے پنجاب کے ووٹرز کی تعداد 4 کروڑ 83 لاکھ 8 ہزار ، سندھ 1 کروڑ 84 لاکھ 32 ہزار ،خیبر پختونخوا 1 کروڑ 20 لاکھ 64 ہزار ، بلوچستان 32 لاکھ 78 ہزار ،فاٹا 16 لاکھ 75 ہزار وفاقی دارالحکومت کے ووترز کی تعداد 6 لاکھ 4 ہزار سے زائد ہے۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) فخر الدین جی ابراہیم نے انتخابی فہرستوں کے اجراء کو تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی فہرستیں  صاف شفاف انتخابات کے لیے سنگ میل ثابت ہوں گی انتخابی کام کا آغاز ہو گیا ہے ۔ شیڈول کے اعلان تک ناموں کا اندراج یا کوئی اور  تحصیح ہو گی ۔انہوں نے انتخابی فہرستیں جاری کرنے  کا باضابطہ اعلان کیا ۔ منگل کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں کمیشن کے اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ بہت اہم دن ہے۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم نے کہا ہے کہ شفاف انتخابات کرائے بغیر کوئی چارہ نہیں، آج سے ملک بھر میں انتخابی کام شروع ہو گیا ہے ،ووٹ ڈالنے کےلئے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ لازم قرار دیدیا گیا ہے، ایسے انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں کہ کسی کو اعتراض نہ ہو، ماضی کی باتیں بھول جائیں سب نے غلطیاں کیں اور پہلے اتنی ٹیکنالوجی نہیں تھی لیکن اب عوام تبدیلی کے لئے تیار ہیں ‘بغیر کسی ڈر اور خوف کے نادرا کے ساتھ مل کر انتخابی فہرستیں ایسی بنائی گئی ہیں جن پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے‘الیکشن کمیشن کے عملے نے فہرستوں کی تیاری میں ووٹرز کے گھر گھر جاکر تصدیق کی ہے ‘وہ منگل کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ الیکٹورل رول پر کوئی اعتراض نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک ٹیم کی طرح کام کر رہے ہیں اور نادرا کے ساتھ مل کر کام کر تے ہوئے ووٹر لسٹیں تیار کی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اہل افسران موجود ہیں ووٹر لسٹیں انتہائی شفاف بنائی گئی ہیں ۔ فخر الدین جی ابراہیم کا کہنا تھا کہ ہمیشہ جھگڑا شفاف انتخابات پر ہوتا ہے انتخابی فہرستیں ایسی بنائی گئی ہیں جن پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ماضی کی باتیں بھول جائیں سب نے غلطیاں کیں اور پہلے اتنی ٹیکنالوجی نہیں تھی لیکن اب عوام تبدیلی کے لئے تیار ہیں اور عوام باشعور ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کمپیوٹرائزڈشناختی کارڈ کے حامل افراد ہی صرف ووٹ ڈال سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نادرا نے بھی ووٹر لسٹوں کی تیاری میں بہت مدد کی ہے اورہم نے تمام فیصلے اتفاق رائے سے کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نادرا کے ساتھ مل کر فہرستیں تیار کی ہیں اور کوشش کی ہے کہ ان میں غلطیوں کا کوئی احتمال نہ رہے۔ فخر الدین جی ابراہیم نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے عملے نے فہرستوں کی تیاری میں ووٹرز کے گھر گھر جاکر تصدیق کی ہے اورایک ایس ایم ایس کے ذریعے بھی ووٹ معلوم کیا جا سکتا ہے۔

مزید : صفحہ اول