سحری افطار اور تراویح کے اوقات میں بھی بدترین لوڈشیڈنگ جاری سخت گرمی سے 3 افراد جاں بحق ، عوام کااجتجاج رنگ نہ لاسکا

سحری افطار اور تراویح کے اوقات میں بھی بدترین لوڈشیڈنگ جاری سخت گرمی سے 3 ...

  

لاہور (کامرس ر پورٹر، بیورورپورٹ) ملک میں گزشتہ روز بھی سحری افطار اور تراویح کے اوقات سمیت دن رات بدترین لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا ۔ حبس اور گرمی میں بار بار لوڈ شیڈنگ کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ گزشتہ روز بجلی کی طلب و رسد میں 6370 میگا واٹ کا فرق رہا جس کے باعث شہروں میں12 گھٹنے اور دیہی علاقوں میں14 سے 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی گئی ۔ بار بار لوڈ شیڈنگ سے تنگ آ کر لوگوں کی جانب سے کئی مقامات پر احتجاج کیا گیا ۔مشتعل مظاہرین نے رستم پارک سمن آباد کے علاقے میں لیسکو سب ڈویژن آفس جلا دیا، آگ پر قابو پانے کیلئے فائر بریگیڈ اور ریسیکو1122 کو طلب کرنا پڑا۔ صوبائی دارالحکومت میں سحر ی و افطاری کے اوقات میں لوڈ شےڈنگ کے ستائے عوام نے گر ےن ٹاون، اکبر چوک ، نشتر کالونی ، ملتان روڈ ، شاہدرہ سمےت دےگر علاقوں میں احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف شدےد نعر ے بازی کی ۔ اوور لوڈ سے سسٹم کو بچانے کے لئے مختلف اوقات میں فیڈرز بھی بند کئے گئے لیسکو نے مختلف اوقات میں اپنے بارہ فیڈرز چار سے پانچ گھنٹے کے لئے بند کئے ۔ انرجی مینجمنٹ سیل کی جانب سے گزشتہ روز بھی شارٹ فال کے حوالے سے غلط ڈیٹا جاری کرنے کا سلسلہ جاری رہا ۔ انرجی مینجمنٹ سیل کے مطابق گزشتہ روز گزشتہ روز شارٹ فال 4839 میگا واٹ رہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز حقیقی شارٹ فال 6370 میگا وا ٹ رہا ہے ۔ مجموعی طلب 18454 میگا واٹ جبکہ پیداوار 12084 میگا واٹ رہی ۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف عوامی غم وغصہ ختم نہیں ہوا لکی مروت میں مشتعل افراد سڑکوں پر نکل آئے مظاہرین نے نادرا آفس اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا سرگودھا کے علاقے پھلروان میں مظاہرین نے تھانے کا سائن بورڈ اور بجلی کامیٹر توڑ ڈالا۔ مشتعل مظاہرین نے گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا اور ٹائر جلا کر روڈ بلاک کردی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے ہوائی فائرنگ کی ۔ لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرنے والے 17 مظاہرین کو حراست میں لے لیاگیا ہے چار سدہ میں بجلی کی بندش پر اے این پی نے واپڈا کے خلاف تحصیل بازار میں احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ گوجرانوالہ سے بیورورپورٹ کے مطابق 18گھنٹوں کی طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے روزہ دار بلبلااٹھے شدیدگرمی اور حبس کی تاب نہ لاتے ہوئے تین افراد جن میں عائشہ بی بی‘ رحمت اللہ اور علی احمدشامل ہیں جاںبحق جبکہ 12سے زائد بے ہوش ہوگئے جنہیں طبی امداد کےلئے ہسپتالوں میں منتقل کردیاگیا ہے شدیدگرمی کے موسم میں بجلی کی طویل بندش سے کاروبار زندگی مکمل طورپر تباہ ہوکررہ گیا ہے اورشہریوں کی بڑی تعداد جن میں خواتین ‘بچے زیادہ ہیں تمام کام کاج چھوڑ کرروزے کی حالت میں ٹھنڈی چھاﺅں ڈھونڈے اور گرمی سے شدیدپریشانی میںمبتلا ہورہے ہیں لوگوں کی بڑی تعداد سحری کے وقت ہاتھوں میں برتن اٹھائے روزے کااہتمام کرنے کےلئے کھانے پینے کی اشیاءڈھونڈتے رہے محنت کشوں کی بڑی تعداد بے روزگار ہوکر زکواة ‘خیرات مانگنے پرمجبورہوچکی جبکہ ماہ صیام کے باوجود اکثرگھرانوں میں دووقت کی روٹی میسرنہیں ہوتی۔

مزید :

صفحہ اول -