توہین عدالت ، نیا قانون وزیراعظم کو بچانے کیلئے لایا گیا وکیل وفاق:وہ جو بیچتے تھے دوائے دل دوکان اپنی بڑھاگئے،چیف جسٹس

توہین عدالت ، نیا قانون وزیراعظم کو بچانے کیلئے لایا گیا وکیل وفاق:وہ جو ...

  

اسلام آباد (خبرنگار) توہین عدالت قانون کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمدچودھری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ آمریت کو کندھا نہ دیا جائے تو جمہوریت چلتی رہے گی‘ قانون بنانا پارلیمنٹ اور اس کی تشریح کرنا سپریم کورٹ کا کام ہے ۔ ججوں کے پاس کلاشنکوف نہیں جبکہ حکومت کا یہ کہنادرست نہیں کہ قانون میں کچھ غلط نہیں ۔ جمہوریت میں غلطیاں ہوتی ہیں لیکن درستگی بھی ہونی چاہیے۔ پارلیمنٹ قانون بنانے کا اختیار ضرورت اور منطق کے مطابق استعمال کرسکتی ہے۔ اسلام کا سارا زور عدل وانصاف پر ہے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ غریبوں کے خلاف توکارروائی ہو مگر امیروں کو اس سے استثنٰی دے دیا جائے۔ جسٹس میاں شاکراللہ جان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیا قانون بنیادی حقوق سے متصادم ہے، مراعات یافتہ طبقے کو استثنیٰ دے کر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئیجبکہ وفاق کے وکیل عبدالشکور پراچہ نے دلائل میں مو¿قف اختیار کیا ہے کہ وزیراعظم کو بچانے کے لیے قانون لایا گیا، وزیراعظم کو بچانا کوئی برانہیں اور اگر استثنیٰ کے خلاف ہیں تو آئین کا آرٹیکل 248 بھی ختم کردیں ۔ عدالت درخواستیں براہ راست نہ سنے۔ عدالت کیس کو ہائیکورٹ بھیج دے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے روبرو وفاق کے وکیل عبدالشکور پراچہ نے مو¿قف اختیار کرتے ہوئے کہاکہ نئے قانون سے عدلیہ کے اختیار پر قدغن نہیں لگی اور نہ ہی پارلیمنٹ کو حاصل اختیار عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ ان کاکہنا تھاکہ پارلیمنٹ کو آئینی طورپر قانون سازی کا مکمل اختیار ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آمریت کو کندھا نہ دیاجائے تو جمہوریت چلتی رہے گی، وہ جو بیچتے تھے دوا دل ، دکان اپنی بڑھاگئے ۔ انہوں نے کہاکہ ججز کے پاس کلاشنکوف نہیں ہوتی ،سول سوسائٹی ، میڈیا اور وکلاءمضبوط کرتے ہیں ، حکومت کا یہ کہنا درست نہیں قانون میں کچھ غلط نہیں۔ وفا ق کے وکیل نے کہاکہ ایک وقت ضیاالحق کو بٹھا دیا گیاکہ کون نماز پڑھتا ہے اور کون نہیں ؟ لوگ سیاسی اور فرقہ وارانہ جھگڑے لے کر عدالتوں میں آجاتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے وکیل کو سیاسی بات کرنے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ اختیارات سے تجاوز ہوتو پھر ایسے ہی ہوتا ہے ، ہم نے جمہوری اداروں کو مضبوط کرنا ہے ۔عدالت نے کہاکہ اِس سے کوئی غرض نہیں کہ کون نماز پڑھتا ہے اور کون نہیں ؟ قواعد کا اختیار وفاقی حکومت کو دینے کا اختیار کہاں سے لیا گیا، غلطی ہوتی ہے تو درستی بھی ہونی چاہیے۔ عبدالشکو ر پراچہ نے کہاکہ ایک وزیراعظم گیا، دوسرا جانے کو ہے جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کچھ خاص قسم کے لوگوں کو استثنیٰ دینے کے لیے قانون لایا گیا۔ وفاق کے وکیل نے بتایاکہ وزیراعظم کو بچانے کے لیے قانون لایا گیا، وزیراعظم کو بچانا کوئی برا نہیں اور اگر استثٰی کے خلاف ہیں تو آئین کا آرٹیکل 248 بھی ختم کردیں۔ عدالت کیس کو ہائیکورٹ بھیج دے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ آپ چاہتے ہیں کہ تمام درخواستیں پانچوں ہائیکورٹس کو بھجوائیں۔ وکیل کاکہنا تھاکہ عدالت کے ریمارکس پر اپوزیشن لیڈر نے شور مچایا جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ کاکہنا تھاکہ اپوزیشن لیڈر نے اظہارخیال کیا، شور مچانے والی بات نہیں۔ اٹارنی جنر ل عرفان قادر نے عدالت سے بولنے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس نے انہیں روکتے ہوئے کہا کہ وفاق کے وکیل کو بات کرنے دیں۔ اٹارنی جنرل کاکہنا تھاکہ پاکستان بار کونسل کو سن لیا لیکن اس کے چیئرمین اٹارنی جنرل کو نہیں سنا جا رہا جس پر جسٹس خلجی عارف کاکہنا تھاکہ آپ تو ہمارے دوست ہیں۔ وفاق کے وکیل کا کہنا تھاکہ قانون کا جائزہ لیتے وقت آنے والے الیکشن بھی مدنظر رکھیں جس پر جسٹس تصدق جیلانی کاکہنا تھاکہ آپ الیکشن کا ذکر کرکے بریکنگ نیوز دینا چاہتے ہیں ؟ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ الیکشن کا اِس کیس میں کہاں سے ذکر آگیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ بنیادی حقو ق کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جا رہا جبکہ قانون بنانا چاہا بنالیا، عبدالشکور پراچہ نے کہاکہ آئین نے پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار دیا، پارلیمنٹ کے اس اختیار کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا، نئے قانون میں عدالتی اختیار کو کم نہیں کیا گیا۔ توہین عدالت قانون کیخلاف دائر درخواستیں ناقابل سماعت ہیں، پارلیمنٹ اور عدلیہ میں تصادم کی باتیں کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کالا کوٹ ملک میں انقلاب لے کر آیا، ججز کے پاس کلاشنکوف نہیں ہوتی، سول سوسائٹی، میڈیا، وکلاءاسے مضبوط کرتے ہیں۔ وفاق کے وکیل کے دلائل ابھی جاری تھے کہ عدالت کا وقت ختم ہونے کی وجہ سے کیس کی سماعت آج بدھ تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

مزید :

صفحہ اول -