اولمپکس میں کھلاڑی نہ سہی کوچ کی حیثیت سے شرکت کی خواہش پوری ہوگئی،بشریٰ

اولمپکس میں کھلاڑی نہ سہی کوچ کی حیثیت سے شرکت کی خواہش پوری ہوگئی،بشریٰ

 لندن (نیٹ نیوز)پاکستانی اےتھلےٹ رابعہ عاشق کی کوچ اور سابق خاتون ایتھلیٹ بشری پروین نے کہا ہے کہ مجھے بیجنگ اولمپکس میں حصہ نہ لینے کا جتنا افسوس تھا، لندن اولمپکس میں شرکت کی اتنی ہی خوشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیجنگ اولمپکس کے لیے میری نامزدگی ہوئی تھی لیکن صدف صدیقی کو صرف اس وجہ سے منتخب کرلیا گیا کیونکہ انہوں نے قومی ریکارڈ قائم کررکھا تھا۔ میری دلی خواہش تھی کہ میں اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کروں۔ کھلاڑی کی حیثیت سے تو وہ پوری نہ ہوسکی لیکن کوچ کی حیثیت سے یہ دیرینہ خواہش اب پوری ہوئی ہے۔بشری پروین کو امید ہے کہ رابعہ عاشق آٹھ سو میٹرز میں ان کا ریکارڈ توڑسکتی ہیں۔میں تین سال سے رابعہ کی کوچنگ کررہی ہوں۔ وہ بہت ہی باصلاحیت ایتھلیٹ ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے تھائی لینڈ گراں پری میں دو منٹ دس سیکنڈز کا وقت لیا تھا ان کی ٹریننگ بتارہی ہے کہ وہ اس وقت کو مزید بہتر کرکے نیا ریکارڈ قائم کرسکتی ہیں اور مجھے اس کی بہت خوشی ہوگی۔بشری اس بات پر بہت مطمئن اور خوش ہیں کہ شاندار کیریئر کے بعد اب وہ اپنا تجربہ کوچ کی حیثیت سے نوجوان باصلاحیت ایتھلیٹس میں منتقل کررہی ہیں۔پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ اس وقت کئی باصلاحیت لڑکیاں اور لڑکے میری نگرانی میں ٹریننگ کررہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ چار پانچ ایسی ایتھلیٹس تیار کرنے میں کامیاب ہوجاں گی جو آنے والے ساتھ ایشین گیمز میں تمغے جیت سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے لیے اب کھیلوں میں حصہ لینا ماضی کے مقابلے میں آسان ہوتا جارہا ہے۔ماضی میں جب لڑکیاں کھیلوں میں آنا چاہتی تھیں تو انہیں پہلی مخالفت کا سامنا گھر سے ہی ہوتا تھا اور اگر گھر والے مان جاتے تو خاندان والے اسے اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ لیکن اب صورتحال بہتر ہوئی ہےاور بڑی تعداد میں لڑکیاں زندگی کے مختلف شعبوں کی طرح سپورٹس میں بھی موجود ہیں۔بشری بعض ایتھلیٹس کے ان گلے شکووں سے اتفاق نہیں کرتیں کہ انہیں ضروری سہولتیں میسر نہیں۔ آرمی اور واپڈا قومی سطح پر ایتھلیٹکس کے لیے بہت کام کررہے ہیں۔ ان کے علاوہ دوسرے ایتھلیٹس بھی اب اس پوزیشن میں ہیں کہ سپائکس اور دوسری چیزوں کے متحمل ہوسکیں۔ حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایتھلیٹکس ہی ان کی پہچان ہے اور وہ اپنے کیریئر سے مطمئن ہیں۔اپنے کیریئر میں جیتے گئے تمغوں کی تعداد کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر بشری نے کا قہقہہ لگاتے ہوئے جواب دیا ڈرائنگ روم میں ہر طرف ٹرافیاں اور میڈلز ہی سجے ہوئے ہیں لیکن کبھی سوچا ہی نہیں کہ گنتی کروں۔

مزید : ایڈیشن 1