شاہِ حبشہ حضرت نجاشیؓ کے مزار کی تزئین و آرائش

شاہِ حبشہ حضرت نجاشیؓ کے مزار کی تزئین و آرائش

  

ترک حکومت نے دنیا کے مختلف ممالک میں موجود صحابہ کرامؓ کے مزاروں کی بحالی اور تزئین و آرائش کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایک خوش آئندہ اور تاریخی اعلان ہے جو وزیراعظم ترکی کے معاون و مشیر جناب ابو بکر بوزداغ نے چند روز پہلے کیا ہے۔ اس نیک اور تاریخی کام کا آغاز ایتھوپیا اور افریقہ کی مقدس ترین جگہ، یعنی شاہِ حبشہ حضرت نجاشیؓ کے مزار کی بحالی اور تزئین و آرائش سے کیا جا رہا ہے۔ جناب بوزداغ کا مزید کہنا ہے کہ تُرکوں کے لئے صرف عثمانیوں اور اپنے اجداد کی میراث، مزارات اور ثقافتی اقدار کی حفاظت ہی کافی نہیں ہے، بلکہ دین اور کلچر سے متعلق تمام سرمائے کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہے۔ اطلاعات کے مطابق افریقی ملک ایتھوپیا کے نجاش گاو¿ں میں موجود حضرت نجاشیؓ کے مزار کی بحالی اور تزئین و آرائش کا کام بھی کیا جائے گا۔

ترک وفد معاون و مشیر وزیراعظم جناب بکر بوز داغ کی قیادت میں ترکی سے مکہ، پھر عدیس سے ہوتا ہوا ٹرین کے ذریعے نجاش پہنچا اور حضرت نجاشیؓ کے مزار پر حاضری دی۔ فاتحہ پڑھی، نجاش میں موجود دیگر صحابہ کرامؓ کے مزارات پر بھی حاضری دی اور فاتحہ پڑھی۔ بچوں میں مٹھائی تقسیم کی۔ اس پراجیکٹ کی ذمہ داری تُرکی کے بین الاقوامی ترقیاتی فنڈ کے ادارےTIKA کے سر ہے کہ وہ دنیا میں موجود صحابہؓ کرام اور اولیائے کرامؓ کے مزارات کی بحالی اور تزئین و آرائش کا کام بطریق احسن سر انجام دے۔ TIKA کے عہدیداروں نے اس پراجیکٹ کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جس کے مطابق تزئین و آرائش کے ساتھ ساتھ ماحول کو بھی بہتر بنانے کے لئے کام کیا جائے گا۔ صفائی کا بھی بندوست کیا جائے گا۔

بلاشبہ یہ ایک بہت بڑی سعادت ہے جو ترکی کو نصیب ہوئی ہے۔ یہ بڑے شرف اور عزت و تکریم کا کام ہے، جو تُرک صدیوں سے خدمت اسلام کر کے حاصل کرتے آئے ہیں۔انہوں نے ہی بارِ خلافت اُٹھایا اور اسلام کی ڈگمگاتی کشتی کو ہزارہا سال تک سہارا دیا اور اسلام کا عَلم بلند رکھا۔ حرم شریف، مسجد نبوی، روضہءرسول اور صحابہ کرامؓ کے مزارات اور شعائر اسلام کی حفاظت صدیوں تک تُرکوں نے کی ہے۔ وہ صدیوں تک پاسبانِ حرم اور میزبان حجاج رہے ہیں۔ استنبول سے مکہ تک ریلوے لائن بچھائی، تعمیرات کے اعلیٰ نمونہ جات بنائے اور حفاظت مکہ و مدینہ کی ذمہ داری نبھائی۔ حضرت نجاشیؓ اور 12 صحابہ کرامؓ کے مزارات کی بحالی و تزئین و آرائش کوئی نیا شرف نہیں ہے۔ تُرک ہزاروں سال سے یہ مقدس فریضہ سر انجام دیتے آئے ہیں۔ اسلام کی محبت اور تڑپ ان کے خون میں رچی بسی ہوئی ہے۔

کچھ عرصہ پہلے تُرک صدر کی خواہش پر بادشاہی مسجد لاہور میں موجود تبرکاتِ مقدسہ کی حفاظت اور تزئین و آرائش، ہندوستان میں حضرت مجدد الف ثانیؒ اور اجمیر شریف میں مزارات کی تزئین و آرائش کے علاوہ جہاں جہاں بھی تبرکاتِ مقدسہ یا اسلام سے متعلق ورثہ موجود ہے۔ تُرکوں نے اس کی حفاظت کا عندیہ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کے آباو¿ اجداد کے ہاتھوں کی بنائی ہوئی عمارتیں نہ صرف مکہ، مدینہ اور تُرکی میں موجود ہیں، بلکہ دنیا کے کونے کونے میں اس کی نشانیاں موجود ہیں، جو یہ پتہ دیتی ہیں کہ ترک قوم اسلام سے والہانہ عقیدت رکھتی ہے اور فی الوقت اس میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ آج بھی عمرہ اور حج کرنے والوں میں ترک مردوں، عورتوں اور نوجوانوں کی تعداد دیگر ممالک کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ ہوتی ہے اور خوبصورت اور نوجوان ترک بھی وہاں شوق و ذوق سے جاتے ہیں۔ شاہِ حبشہ حضرت نجاشیؓ کا اصل نام اشامہ ابن ابجار بتایا جاتا ہے۔ انہیں نیگس بھی کہا جاتا ہے۔ وہ حبشہ کے چھٹی اور ساتویں صدی میں مشہو خدا ترس اور نیک عیسائی حکمران تھے۔ جب قریش مکہ کے مظالم آپ اور مسلمانوں پر بڑھنے لگے تو حکم خداوندی کے تحت آپ نے مسلمانوں کو حبشہ ہجرت کر جانے کی تلقین کی۔ اسلامی تاریخ کی یہ اولین ہجرت تھی جو اللہ کے حکم سے 70 صحابہؓ اور صحابیاتؓ نے کی۔ ہجرت کے اس قافلے کے انچارج حضور اکرم کے چچا زاد بھائی اور فرزند حضرت ابو طالب حضرت جعفر طیارؓ تھے۔ حضور اکرم نے حضرت جعفر طیارؓ کو نجاشی کے نام ایک خط بھی دیا اور لکھا کہ مَیں آپ کے ہاں اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ چند مسلمان خواتین اور مرد حضرات کو بھجوا رہا ہوں، ان کی مہمان نوازی کریں اور تکبر و غرور نہ کریں۔

 آپ نے نجاشی کو اللہ کی وحدانیت اور توحید پر یقین کر نے کے ساتھ اسے اسلام کی بھی دعوت دی۔ نجاشی نے آپ کے خط کا مثبت جواب دیا، اسے چُوما اور آنکھوں سے لگایا، آپ کی زیارت کی خواہش ظاہر کی۔ اسلام سیکھنے کے لئے 30 لوگوں پر مشتمل ایک وفد آپ کی خدمت میں بھیجا۔ خود بھی اسلام قبول کیا۔ قریش مکہ کی طرف سے بھیجا گیا وفد، جو مسلمانوں کی واپسی کا خواہش مند تھا، ناکام لوٹا۔ یوں صحابہ کرامؓ نجاشی کی مہمان نوازی اور عزت و اکرام سے لطف اندوز ہوئے شاہ حبشہ نے مہاجر مسلمانوں سے کہا کہ وہ جب تک چاہیں حبشہ میں رہیں۔ جب قریش مکہ سے صلح ہوگئی تو حبشہ کے مسلمان مہاجرین میں سے بہت سے واپس آگئے تو کچھ کی وہیں شہادت ہوئی اور وہیں ان کے مزارات بنے جن میں سے 12 مزارات کی بحالی اور تزئین و آرائش کا کام کیا جائے گا۔ آپ نے خود نجاشیؓ کی موت کی خبر دی۔ آپ نے ان کی غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھائی اور ان کے حق میں دعا بھی کی۔

 استنبول کے فتح ہونے کی خوشخبری بھی آپ نے سنائی تھی اور اسے فتح کرنے والے سپہ سالار اور اس کی فوجوں کی بھی تعریف فرمائی تھی۔ فتح استنبول کی سعادت ترکوں کے آباو¿ اجداد سلطان محمد فاتح اور اس کے لشکر نے حاصل کی تھی اور حضور اکرم کی دعا اور بشارت حاصل کی تھی، یعنی ترک وہ قوم ہیں، جن کی تعریف آپ نے خود فرمائی۔ آپ کی بشارت اور خوشخبری کا سبب بنے۔ آج کے اس دور میں جب مسلم دنیا میں ہر طرف مایوسی، بددلی، اسلام سے دوری، تباہی، نا اتفاقی، جہالت، غربت وغیرہ جیسے مسائل عام ہیں۔ ترکوں کا اسلام، شعائر اسلام، اسلاف اسلام، صحابہؓ، پیغمبروںؑ، اکابرین اسلام اور نہتے مسلمانوں سے محبت کا اظہار ان کے بڑے پن کا واضح ثبوت ہے جس کا ثمر اللہ نے انہیں اس دنیا میں بھی دیا ہے، دے رہا ہے اور مزید دے گا۔ ٭

مزید :

کالم -