آئینہ پاس ہو تو ترے روبرو کروں!

آئینہ پاس ہو تو ترے روبرو کروں!

  

میں نے جب بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھا تھا تو یہ سوچا تھا کہ اللہ کے ساتھ”اَڑی“ کرکے یہیں کھڑا رہوں گا اور اسے تابمقدور پار کرنے کی کوشش نہیں کروں گا۔میں نے سن رکھا تھا کہ جوانی جاکر نہیں آتی اور بڑھاپا آکر نہیں جاتا، لیکن 2008ءکے بعد میرے یہ سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔گزشتہ ساڑھے چاربرس سے تو نہ صرف دہلیز پار کر چکا ہوں بلکہ بگٹٹ دوڑے چلا جارہا ہوں.... زندگی کی حویلی کا پچھواڑہ شائد دکھائی نہیں دیتا۔بعض اوقات سوچتا ہوں، کیا ناامید ہونا گناہ ہے؟....اگر ہے تو میرے سر پر تو گناہوں کا گویا کوہ ہمالہ آ کر بیٹھ گیا ہے۔

صبح سے رات گئے تک میرے حواس خمسہ میں سے کوئی ایک حس بھی کہیں سے خوشی کی کوئی خبر نہیں لاتی۔قنوطیت کا ایک بڑا سادائرہ مجھے گھیرے رہتا ہے۔باوجود سخت اور شعوری کوشش کے ، میں اس دائرے سے باہر نہیں نکل سکتا۔یار دوست میرے ہاں آتے ہیں یا میں ان کو وزٹ کرتا ہوں تو سلیک علیک کے بعد حالات کا ماتم شروع ہوجاتا ہے۔ایک سے ایک بڑا ملکی اور قومی سانحہ اور عارضہ سامنے آتا ہے،لیکن کوئی ڈاکٹر یا طبیب نظر نہیں آتا کہ جس سے علاج کی توقع کی جا سکے۔ایسی ایسی دلگداز خبروں کی تفصیل ملتی ہے کہ چہرے کی جھریاں بڑھ جاتی ہیں۔

یادش بخیر! پہلے ان باہمی ملاقاتوں سے دلوں کو فرحت ملا کرتی تھی۔قہقہے گونجتے تھے۔چائے پینے کے بعد ڈنر کے لئے اصرار کیا جاتاتھا۔لیکن آج کل شائد وہ تہذیبی اقدار عنقا ہوگئی ہیں یا ہم اپنی جیبوں کو تہذیبی رسوم پر ترجیح دینے لگے ہیں۔نہ ہمیں کوئی دوست، رات کے کھانے پر مدعو کرتا ہے اور نہ ہم کسی کو دعوت دیتے ہیں کہ رات کا کھانا ہمارے ہاں کھایئے۔رمضان کا پہلا عشرہ گزر چکا ہے۔یہ وہ وقت ہوتا تھا کہ ہمارے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتاتھا کہ افطاری (بمعہ ڈنر)کی تین چار دعوتوں میں سے کسے قبول کریں اور کس سے معذرت کرلیں۔ لیکن اب تو بھولے سے بھی کوئی یاد نہیں کرتا اور نہ ہم ارادتاً کسی کو مدعو کرتے ہیں۔کھجوریں، پکوڑے اور فروٹ چاٹ افطاری کے اجزائے لازم شمار ہوتے ہیں۔لوئر مڈل اور مڈل کلاس کے ہم جیسے لوگ برسوں سے یہی دیکھتے آئے تھے اور انہی اجزائے لازم کو پورے ماہ صیام میں ہر شام دستر خوانوں پر دیکھا کرتے تھے۔ لیکن آج یہ اجزائے لازم ایک خواب بن چکے ہیں۔کیلا 400روپے درجن، انگور400روپے کلو اور سیب 200روپے کلو سے کم دستیاب نہیں۔پکوڑوں اور کھجوروں کا بھی یہی حال ہے۔غالب کے ان اشعار کی پوری سمجھ اب آ رہی ہے، حالانکہ مرحوم نے ڈیڑھ صدی قبل اس کا رونا رویا تھا:

افطارِ صوم کی اگر کچھ دستگاہ ہو

اس کو ضرور ہے کہ وہ روزہ رکھا کرے

جس پاس روزہ کھول کے کھانے کو کچھ نہ ہو

روزہ اگر نہ کھائے تو ناچار کیا کرے

معاشرے کی اَپر اور الیٹ کلاسیں اس عوامی آزار سے اگرچہ کچھ زیادہ متاثرنظر نہیں آتیں، لیکن ایک اور طرح کا آزار ان کی بھی لاحق ہے۔وہ بھی شکمی آزار سے قطع نظر فکری انتشار میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ان کی جیبیں بھری ہوں گی مگر ذہن اور دل و دماغ خالی ہیں۔بجلی اور پانی کی لوڈشیڈنگ نے گویا محمود و ایاز کو برابر کردیا ہے۔سارے ہی مومن اس”ایک مرکز“ پر جمع ہوتے نظر آتے ہیں۔ بہت برس پہلے روزنامہ”جنگ“ میں حضرت رئیس امروہوی کا یہ قطعہ پڑھا تھا جس کا مفہوم ان ایام میں اور تھا اور آج بالکل اور ہے:

اللہ اللہ آمدِ ماہِ صیام

کھنچ کے اک مرکز پہ مومن آ گئے

اہتمامِ عیش کی راتیں گئیں

احتسابِ نفس کے دن آ گئے

سپریم کورٹ اور نیب کا احتساب اور طرح کا ہے اور نفس کا احتساب بالکل ایک الگ بات ہے، لیکن آج کل دونوں طرز ہائے احتساب کو اکٹھا کرکے بھی، اہتمامِ عیش ممکن نہیں۔

دوسری طرف میڈیا کا یہ حال ہے کہ وہ دن رات اور صبح و شام اپنے ناظرین و قارئین کے فکری انتشار کے ہفت سالہ پروگرام پر عمل پیرا ہے۔تمام خبریں اور تمام ٹاک شوز ایسے موضوعات پر ہورہے ہیں جن میں قلب و نظر کی تشفی کا کوئی سامان نہیں۔خبریں جب ختم ہوتی ہیں یا ٹاک شوز والے اینکر جب”خداحافظ“ کہتے ہیں تو ناظرین و سامعین پر ایک عجیب قسم کی حسرت و یاس طاری ہوجاتی ہے اور ان کے طائر ِ فکر کے سارے بال و پر جھڑنے لگتے ہیں۔

تمام نیوز چینلز کے آﺅٹ ڈور عملے کو شائد مالکانِ چینلز نے ایک ہی فریضہ سونپ رکھا ہے کہ معاشرے کاوہ چہرہ دکھاﺅ جو گھناﺅنا ہے، بدصورت ہے اور قبیح ہے۔اگر خال خال بھی کہیں کوئی ایسا رخ زیبا نظر پڑے جو تازگی اور فرحت لئے ہوئے ہو تو اس کو ہرگز فوکس میں نہ لو....ٹائروں کی شامت آئی ہوئی ہے، مٹی کے تیل کی طلب میں اضافہ ہوگیا ہے اور بے روزگار جوانوں، بوڑھوں اور بچوں کو ٹائروں کی چتاﺅں کے اردگرد ”پھیرے“ لیتے دکھانا، نیوز چینلوں کا معمول بن چکا ہے اور مشغلہءمحبوب بھی۔ان کا خیال ہے کہ اس طرح معاشرہ بیدار ہوتا ہے، حکامِ وقت اسی قسم کے فوٹوشوٹوں کو دیکھ کر فوری کارروائی کرنے کے احکامات جاری کرتے ہیں اور ذرائع ابلاغ بڑے فخر سے یہ خبر لگاتے ہیں کہ فلاں وی آئی پی یا وی وی آئی پی نے ہماری خبر پر فلاں ایکشن لے لیا۔اس کے بعد البتہ کیاہوتا ہے، اس کی کوئی فالواپ خبر نہیں دی جاتی....اور سچ پوچھئے تو اس کی ضرورت ہی کیا ہے؟وی آئی پی بھی خوش ،میڈیا بھی خوش اور ناظرین و قارئین بھی خوش....اللہ اللہ خیر سلا۔

کل (30جولائی 2012ء) یہ خبر جان کر چند لمحوں کے لئے حیرانی تو ضرور ہوئی کہ احتجاج کرنے والوں نے خیبرپختونخوا اور پنجاب کی موٹرویز دس گھنٹوں تک بند رکھیں۔لیکن اس سے تکلیف کن لوگوں کو پہنچی؟.... وہ جو ایوان حکومت میں جلوہ فرما ہیں یا ہماشما کو کہ جو ان سڑکوں پر اس گرمی اور رمضان کے موسم میں بھی سفر کرنے پر مجبور ہیں؟.... ٹائر جلانے، سڑکیں بند کرنے، توڑپھوڑ کرنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، گاڑیوںکو ڈنڈوں اور لاٹھیوں سے ”مرمت“ کرنے سے نقصان کن لوگوں کا ہواہے؟وہ جو سرکلر قرضہ ادا کرنے کا بندوبست نہیں کر رہے یا وہ کار مالکان جنہوں سے بینکوں سے قرضے لے کریہ گاڑیاں خریدی تھیں؟

عوام کا غم و غصہ اپنی جگہ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ جب سے الیکٹرانک میڈیا نے ان حادثات اور ان اجتماعات کی بے محابا کوریج شروع کی ہے ، تب سے ان حادثات میں بہت اضافہ ہوگیا ہے اور احتجاجی مظاہرے بھی زیادہ پُرجوش اور پُرخروش ہوگئے ہیں۔ہم گزشتہ چار پانچ بلکہ چھ سات برسوں سے میڈیا پر یہی تماشا دیکھ رہے ہیں۔کبھی ہم نے سوچا ہے کہ اس ”شدت پسندی“ کی انتہا کیا ہے؟ جس کسی کی بھی جیب بھاری ہوتی ہے وہ ایک ٹی وی چینل کی اجازت کی درخواست دیتا ہے جو فوراً منظور کرلی جاتی ہے۔پھر وہ سازوسامان نشرواشاعت درآمد کرتا ہے۔ٹیکنیکل عملہ بھرتی کرتا ہے، خوبرونسوانی چہروں اور گفتگو کا سلیقہ جاننے والی لڑکیوں اور خواتین کو بھرتی کرتا ہے، خوش پوش ،جھگڑالو، باتونی اور پڑھے لکھے مردوں کو بھرتی کرتا ہے اور ان کو ٹاک شوز کی میزبانی سونپ کر اشتہار لینے کی مہم پر نکل کھڑا ہوتا ہے۔یہ اشتہار حاصل کرنے کچھ مشکل نہیں۔ موبائل فون کمپنیاں تو اپنے مالی سمندروں کے چند قطرے دینے میں کوئی تامل نہیں کرتیں۔ہاں باقی چیزوں مثلاً سرف،صابن، ٹوتھ پیسٹ، بجلی کے پنکھے ، اے سی ، ٹیلی ویژن، مرچ مسالحے اور اس قسم کے اور سینکڑوں الابلا کی آج کی قیمتیں دیکھ لیں اور دوچار برس پہلے کی قیمتوں کا ان سے موازنہ کرلیں، آپ کو فرق معلوم ہو جائے گا۔ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی شرح تبادلہ کی صورت حال دیکھ لیں۔آج سائیکل کا پنکچر بھی لگوانے جاﺅ تو 25روپے طلب کئے جاتے ہیں۔کسی فقیر کو دس روپے کا نوٹ تھمائیں تو وہ سوالیہ نظروں سے گھورنے لگتا /لگتی ہے۔یہ سب مہربانیاں اسی ٹیلی ایڈورٹائزنگ کا نتیجہ ہیں۔ہم گویا مہنگائی خود پیدا کررہے ہیں اور ساتھ ہی فکری انتشار اور ذہنی خلفشار بھی خرید رہے ہیں۔بذریعہ الیکٹرانک میڈیا بالعموم اور نیوز چینلز بالخصوص....

آنے والا الیکشن ابھی برسوں دور تھا کہ ٹی وی ٹاک شوز میں الیکشن کی تیاریاں شروع ہوگئی تھیں۔وابستہ مفادات کے ترجمانوں کو بلا لیا جاتا تھا اور پھر ایک دوسرے کے وہ لتے لئے جاتے تھے کہ خدا کی پناہ!....آج تقریباً پانچ برس اس تماشے کی پریکٹس کے بعد بھی یہی صورت حال ہے۔

میری طرح عوام کی یہ قنوطیت، حسرت ویاس کی یہ یلغار اور ناامیدی کا یہ سونامی سوائے پاکستان کے اور کسی ملک میں دیکھنے کو نہیں ملے گا۔حکومتیں ، اپنے ملک اور قوم کے سٹرٹیجک مفادات کی پاسداری اور نگہبانی کرتی ہیں۔وہ میڈیا کو بے لگام نہیں چھوڑتیں۔ہم پاکستانی اپنے ہمسایوں سے بھی کچھ سبق نہیں لیتے۔بھارت، ایران اور چین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ان کی نشریات دیکھیں اوراپنے عوام کو دکھائیں تو ہمارے راجہ اور پرجادونوں کی آنکھیں کھل جائیں گی....میرے پاس وہ آئینہ نہیں جو ان مشکلات اور یاس انگیزیوں کے اصل بانیوں کو دکھا سکوں اور ”قبل ازوقت“آنے والے اپنے بڑھاپے کا مداوا کرسکوں اور کہہ سکوں:

تو بھی مری طرح ہو غمِ دل سے آشنا

آئینہ پاس ہو تو ترے روبرو کروں

مزید :

کالم -