رقص ابلیس جاری ہے

رقص ابلیس جاری ہے

  

آج جس وقت مَیں یہ کالم تحریر کر رہا ہوں پاکستان اور پاکستان کے ساتھ دیگر ممالک میں ماہ رمضان کا پہلا عشرہ¿ یعنی عشرہ¿ رحمت اپنے اختتام کو پہنچ گیا، یقینا پوری دنیا کے مسلمانوں نے اس دوران اللہ رب ذوالجلال کی بے پایاں رحمتوں سے اپنے اپنے حصے کی رحمتیں سمیٹی ہوںگی، مگر بدقسمتی کہیے، یا پھر اس طرح کے برے الفاظ میں سے کوئی بھی لفظ استعمال کیجئے، کیونکہ جس طرح کی صورت حال سے کراچی شہر اور اہل کراچی دو چار ہیں، اس کی تصویر کشی کسی بھی ایک لفظ سے ممکن نہیں غضب خدا کا کہ آسمان سے برستی ہوئی رحمت کے ایام میں کراچی شہر کی سڑکوں، مارکیٹوں، رہائشی علاقوں میں ہر طرح کے گلی محلوں میں رقص ابلیس جاری ہے۔ انسانی زندگی کچھ اتنی ارزاں ہو گئی کہ اب روزانہ کے آٹھ دس قتل نہ ٹی وی چینلوں کے لئے ہیڈ لائنیں رہ گئے اور نہ اخباروں کے لئے کسی بڑی خبر کا درجہ پا سکے۔ کراچی میں اب انسانی لاش کی شناخت اس کے نام سے نہیں، بلکہ اس کی سیاسی جماعت سے وابستگی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اگر مرنے والا کسی گمنام قاتل کی شوقیہ ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوا ہے اور اس کی وابستگی کسی بھی سیاسی جماعت سے نہیں ہے تو پھر نہ اس کی موت کوئی خبر ہے اور نہ اس کا جنازہ قابل توجہ.... ہاں اگر مرنے والا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی دُور کی بھی وابستگی رکھتا ہے، تو پھر اس کی موت بھی ایک بریکنگ نیوز ہے اور پرچم میں لپٹا جنازہ بھی میڈیا کے لئے لائق توجہ ہے۔

کیا کراچی اور کراچی کے عوام کا یہ مقدر ٹھہرا ہے کہ وہ ان ابلیس کے چیلوں کے ہاتھوں میں یرغمال بنے رہیں دو کروڑ سے زائد آبادی کا شہر جو کہ سینکڑوں یا پھر ہزاروں کی تعداد میں بھتہ خوروں ، ٹارگٹ کلرز اور ان کے سرپرستوں کے رحم و کرم پر ہے، شہر کے حاکم نا اہل سیاسی نمائندے چرب زبان اور الزام تراش ہیں۔ دوسری طرف حکمرانوں کے مخالفین پریس ریلیز دھرنوں اور ریلی کی سیاست میں مصروف ہیں۔ امریکی بحری بیڑے کی آمد اورپاکستان کے خلاف غیر ملکی سازشوں کا شور مچانے والے ہوں یا نیٹو سپلائی کے نام پر سیاست چمکانے والے، کراچی شہر اور کراچی کے عوام کی حالت زار اور بے بسی کسی کے لئے اہم نہیں۔ معاملات اس قدر سنگین ہو چکے ہیں کہ گزشتہ چھ ماہ کے عرصے سے 60 افراد پولیس اور رینجرز کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔

گزشتہ دنوں کراچی سے ایک سینئر پولیس افسر، جو چند روز پہلے ہی محکمہ پولیس سے ریٹائر ہوئے ہیں، ملتان تشریف لائے۔ موصوف سے زمانہ طالب علمی سے شناسائی ہے۔ محکمے میں بھی اچھی شہرت رکھتے ہیں، کراچی میں مختلف اہم پوسٹوں پر تعینات رہے۔ کراچی میں زور شور سے شروع کئے جانے والے بہت سے آپریشنوں کی بھی قیادت کی، اس لئے کراچی کے مسائل اور حالات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ دوستوں کے ساتھ کھانے کی میز پر مَیں نے سوال کیا کہ کراچی کا اصل مسئلہ کیا ہے اور کیا کراچی میں دوبارہ امن قائم ہو سکتا ہے؟ جواب دیا امن کا قیام کوئی نا ممکن نہیں، لیکن اصل مسئلہ صرف نیت کا ہے۔ مَیں نے سوال کیا کہ نیت سے کیا مراد ہے ؟جواباً ارشاد فرمایا کہ نیت سے مراد حکمرانوں کی نیت ہے۔ مخلوط اقتدار میں شامل سیاسی جماعتوں کی نیت ہے ۔انتظامی پوسٹوں پر موجود افسران کی نیت ہے اور سب سے بڑھ کر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی نیت ہے۔ مَیں نے پوچھا کہ کیا یہ سارے لوگ کراچی میں امن نہیں چاہتے؟ جواب دیا بالکل ایسا ہی ہے۔ مَیں نے تجسس اور تشویش سے سوال کیا کہ آپ کو یقین ہے کہ اصل مسئلہ یہی ہے۔ جواباً فرمایا کہ ذاتی تجربہ بھی یہی ہے اور یقین کامل بھی یہی ہے۔

 قانون کے نفاذ اور قیام امن کے لئے ضروری ہے کہ ایک ہی بار مکمل بھر پور اور بے لاگ کارروائی کی جائے روز روز کے نام نہاد اور مخصوص مفادات کی خاطر کئے جانے والے آپریشن محض سیاسی نعروں کے طور پر کئے جاتے ہیں۔ اسی لئے ان بلا مقصد کارروائیوں کے نتائج کبھی بھی مثبت نہیں نکلے، بلکہ ہر آپریشن کے بعد کراچی کے لوگوں کو زیادہ بھیانک نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ کراچی میں اب باقاعدہ قبضے کی جنگ جاری ہے اور ہر سیاسی جماعت اس جنگ میں زیادہ سے زیادہ علاقے پر اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتی ہے۔ پہلے قدم کے طور پر مخلوط حکومت میں موجود ہر سیاسی جماعت نے پولیس اور انتظامیہ میں اپنے وفادار کارکن بھرتی کروائے اور اس کے بعد ان کی تعیناتی اپنے اپنے مفادات کے مطابق مخصوص علاقوں میں کرائی جاتی ہے، ایسے تمام افراد نہ اپنے افسران بالا کے ماتحت ہوتے ہیں اور نہ ہی وفادار۔ ان کی تعیناتی، ترقی اور دیگر مسائل ان کے سرپرست حل کرتے ہیں اور جواب میں وہ اپنے سرپرستوں کے احکامات کی تکمیل، اسی وجہ سے کراچی میں کوئی کارروائی بھی نہ خفیہ ہوتی ہے اور نہ ہی بامقصد۔

 ہر سیاسی جماعت کی خواہش بھی یہ ہوتی ہے اور کوشش بھی کہ کارروائی بھی اس کے مخالف علاقے میں ہو اور گرفتاریاں بھی اس کے مخالفین کی۔ اقتدارمیں موجود ہر سیاسی جماعت میں ٹارگٹ کلرز بھی موجود ہیں اور بھتہ خور بھی۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران اسے تمام جرائم پیشہ عناصر اور انتظامیہ میں موجود ان کے حمائتیوں کی تمام فہرستیں خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے عدالت میں پیش کی گئی تھیں، ریکارڈ میں آج بھی موجود ہیں ان عناصر کے خلاف عدالتی احکامات اور حکومتی اعلانات بھی ریکارڈ پر موجود ہیں اور نتائج بھی سب کے سامنے تو پھر مسئلہ نیت کا نہیں تو اور کیا ہے؟ آنے والے انتخابات میں اپنی سابقہ نشستوں کی واپسی کے ساتھ ساتھ اقتدار میں موجود ہر جماعت نئی نشستوں کا حصول چاہتی ہے۔

 ایک طرف چار سدہ اور صوابی سے وفا داروں کے راتوں رات کراچی کے ڈومیسائل تیار کئے جا رہے ہیں اور ساتھ ہی انہیں سرکاری نوکریوں میں کھپایا جا رہا ہے، دوسری طرف اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے افراد کو کراچی کے کوٹے پر نوکریوں کے ساتھ ساتھ سرکاری زمینوں پر آباد کاری کا عمل جاری ہے۔ یہ ساری صورت حال کراچی کی سب سے بڑی سیاسی قوت متحدہ سے پوشیدہ نہیں، متحدہ ایک طرف حکومت میں اپنی موجودگی کے زیادہ سے زیادہ ثمرات حاصل کرنا چاہتی ہے، تو دوسری طرف بظاہر اتحادی، مگر اصل میں حریف سیاسی جماعتوں کی سیاسی چالوں پر بھی فکر مند ہے۔ متحدہ حکومت میں موجودہ رہ کے بلدیاتی نظام بھی اپنی مرضی کا چاہتی ہے اور سندھ کی وزارت داخلہ کو بھی اپنی کھوئی ہوئی منزل سمجھتی ہے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے لئے متحدہ کی ان فرمائشوں پر عمل کرنا اپنے سندھ کارڈ سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہے۔ یہ ہے وہ صورت حال جس کی وجہ سے مَیں اپنے ذاتی اور انتظامی تجربے کی بنیادپر یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ نہ کوئی کراچی کے مسائل حل کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی کراچی میں امن و امان کے بارے میں کسی کو بھی کسی قسم کی تشویش ہے، اسی لئے مسئلہ نہ ایکشن کا ہے اور نہ آپریشن کا، بلکہ اصل مسئلہ نیت کا ہے اور کچھ بھی نہیں۔ ٭

مزید :

کالم -