دل کے غریب مریضوں کا قاتل کون ؟

دل کے غریب مریضوں کا قاتل کون ؟

مجھے اپنے بہت سارے دوستوں کے اس شکوے سے کوئی اختلاف نہیں کہ ہماری یادداشت بہت کمزور ہے۔ ہم صرف حال میں زندہ رہنے والی قوم بن چکے ہیں، ماضی کو لمحوں میں فراموش کر دینے والے اور مستقبل کے بارے کبھی نہ سوچنے والے۔ یہ شکوہ بالعموم میڈیا سے کیا جاتا ہے کہ وہ نئے نئے ایشوز کی طرف بھاگتا ہے اور پرانے ایشوز کا فالو اپ نہیں کیا جاتامگر کیا من حیث القوم ہم سب کا رویہ یہی نہیں ہے۔ کوئی بھی ایشوپیدا ہو تو حکمران بھی اجلاس منعقد کرتے ہیں ، اپوزیشن بھی شور مچاتی، احتجاج کرتی ہے، میڈیا بھی خبرناموں پر خبرنامے بھرتا چلا جاتا اور پروگراموں پر پروگرام دکھائے چلا جاتا ہے ، اور تو اور عدلیہ بھی سوو¿ موٹو نوٹس لے لیتی ہے مگر جیسے ہی مصیبت کی ٹرین ہمارے گلے کاٹتے ہوئے گزر جاتی ہے ہم دوبارہ پٹڑی پر سر رکھ کے سو جاتے ہیں، پھر ہم اس وقت تک سوتے رہتے ہیں جب دوسری ٹرین ہمارے جسم کو حصوں میں تقسیم کرنے کے لئے ہمارے سروں پر آکھڑی نہیں ہوتی۔ اس کی سب سے بڑی مثال تو مشرقی پاکستان کا سقوط ہے۔مجھے یہ اپنی پوری قوم کی طرف سے اعتراف کرنا ہے کہ ہم نے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا اوریہ بھی کہنا ہے کہ ہم پوری ڈھٹائی سے اپنی اسی روش کو برقرار بھی رکھنے کی تگ و دو میں بھی لگے ہوئے ہیں۔مشرقی پاکستان کا سانحہ تو ایک بہت بڑا سانحہ تھا، میرے شہرمیں ابھی ایک برس کے دوران دو بڑے بحران پیدا ہوئے، پہلا تو ڈینگی کا غیر معمولی پھیلاو¿ تھا، یہ بہرحال ایک قدرتی آفت تھی مگر یہ قدرتی آفت کچھ لوگوں کی نااہلی کی وجہ سے ہم پر مسلط ہوئی، وزیراعلیٰ شہبازشریف کی قیادت میں صوبائی حکومت نے اس پرموثر ردعمل ظاہر کیا مگراس کے باوجود ہمارے ہزاروں پیارے ہم سے جد اہو گئے۔ اس پر جو تحقیقات ہوئیں ان کے مطابق یہ ضلعی حکومت کی نااہلی تھی مگر ہم نے سانحہ مشرقی پاکستان کی طرح اس پر کسی کو بھی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا اور نہ ہی کسی کو سزا دی۔ ڈینگی سردی آنے کے ساتھ ہی رخصت ہوا مگراس کے باوجود جنوری میں غریب لاہوریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ دوبار شروع ہو گیا۔ شروع کے کچھ کیسز میں یہی سمجھا گیا کہ پلیٹ لٹس کم ہونے سے مرنے والے ڈینگی کے ہی مریض تھے مگر بعد میں ادویات کے نمونے لندن کی لیبارٹری سے ٹیسٹ کروانے سے پتا چلا کہ ملک کے مشہور ترین دل کے ہسپتال پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے غریب ترین مریضوں کو دل کی مفت ملنے والی دوا ”آئیسو ٹیب “ میں اینٹی ملیریا ڈرگ کی چودہ گنا زائد آمیزش تھی۔ ہم نے اس تحقیق کے ہونے سے پہلے بھی بہت شور مچایا، بہت آسمان سر پر اٹھایا۔ گرفتاریاں کی گئیں، پی آئی سی کے ذمہ داروں کو عہدوں سے ہٹایا گیا، ڈاکٹر جاوید اکرم کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنا کے تحقیقات کی گئیں، ذوالفقار چیمہ پولیس کی طرف سے تحقیقاتی کمیٹی کے گرو گھنٹال بن کے سامنے آئے، میجر (ر) مبشر نے بھی بہت سارے بیانات داغے، وزیراعلیٰ معائنہ کمیشن کے سربراہ نجم سعید نے اپنی علیحدہ تحقیقات شروع کیں، گورنر پنجاب کے خط پر ایف آئی اے نے ڈرگ ایکٹ کے تحت کارروائیاں اور گرفتاریاں شروع کر دیں ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اس کا سوو¿ موٹو نوٹس لیااور پھر وزیراعلیٰ پنجا ب شہباز شریف نے جوڈیشئل انکوائری کا حکم دے دیا، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے مسٹر جسٹس اعجاز الحسن کو وجوہات اور ذمہ داروں کے تعین کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ جو مرنے والے تھے وہ مرگئے، حکومت پنجاب کے ذمہ داران مرنے والوں کے جن جن لواحقین کو امدادی رقم دے کر تصویریں بنوا سکتے تھے، انہوں نے بنوا لیں اور جب وہ تھک گئے تو ان سمیت سب سو گئے۔ میڈیا بھی سو گیا جہاں اب پی آئی سی کے سوا سو مرنے والے غریب لوگوں کا کوئی ذکر نہیں ہوتا، کسی قسم کی کوئی انکوائری منظرعام پر نہیں آئی، حکمران بھی سو گئے اور پرانے عذابوں کو بھول کے خوابوں میں نئے نئے منصوبے بنانے لگے۔ پیپلزپارٹی کے گورنر سے لے کر لیڈر آف دی اپوزیشن تک ، سب رہنما جو اس ایشو پر لمبی لمبی چھلانگیں لگا رہے تھے ، وہ بھی لمبی تان کے سو گئے۔یہاں کوئی ایسی این جی او بھی نہیں جو اس زیادتی کے خلاف سراپا احتجاج بنی رہتی، کوئی مظاہرہ کوئی پریس کانفرنس ہی کر دیتی، یہاں وائے ڈی اے جیسی تنظیمیں اپنے سرپرستوں کے تبادلوں پر تو ہڑتال کر دیتی ہیں مگر ان سرپرستوں کی سرپرستی میں سینکڑوں مر جائیں تو پھر یہ ان کا مسئلہ نہیں ہوتا۔یہاں کوئی ہیلتھ کئیر کمیشن ایسی سردردی مول نہیں لیتا جو اس طرح کے معاملات کا نوٹس لینے کے لئے باقاعدہ قانون کے تحت بنایا گیا ہے، اب کوئی سیاستدان اور کوئی ادارہ ان سوا سو مقتولین کی بات نہیں کرتا جسے کراچی کے ایک دوا ساز ادارے کی مجرمانہ غفلت نے قتل کر دیا اور بات نہ کرنے کی وجہ یہ بھی ہے پی آئی سی سے مفت آئیسو ٹیب لینے والے سب کے سب غریب تھے۔ نہ مدعی نہ شہادت ،حساب پاک ہوا، یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا کہ بیوروکریٹ ، سیاستدان، جج یا نامی گرامی صحافی تواس طرح لائنوں میں لگ کے مفت ادویات نہیں لیا کرتے۔مگر میرا سوال وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ہے، ان کے معاون خصوصی برائے صحت خواجہ سلمان رفیق سے ہے کہ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ چند مرنے والوں کو سرکاری خزانے سے چند لاکھ روپے بانٹ کے آپ اس ذمہ داری سے عہدہ برا ہو گئے جس کا جواب تاریخ آپ سے مانگے گی۔ کیا کچھ لوگوں کی یہ بات درست ہے کہ جہاں حکومت کی طرف سے عدالتی تحقیقات کا حکم دیا جاتا ہے وہاں اصل میں اس مسئلے کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا جاتا ہےکہ کبھی رپورٹ نہیں آتی اور کبھی اس کی سفارشات پر عمل نہیں ہوتا۔میرے پاس تو ایک اخبار کی یہ کٹنگ بھی پڑی ہے کہ آئیسو ٹیب بنانے والے کراچی کی ایفروز نامی کمپنی نے یہی دوا دوبارہ بنانا شروع کر دی ہے کہ کسی قانون کے تحت اس کو باقاعدہ طور پر اس قاتل دوا کو بنانے سے روکا ہی نہیں گیا، میرے پاس تو وہ افسوسناک رپورٹس بھی ہیں کہسزا پانے کی بجائے، سزا دینے والوں سے ملزموں نے انسانی ، آئینی اور سیاسی حقوق کے نام پر ریلیف حاصل کیالیکن اگر ریلیف نہیں مل سکا تو ان کو نہیں مل سکا جو مر چکے تھے، ویسے میرا بھی یہی خیال ہے جو مر جائیں ان کے حقوق ، انسانی حقوق نہیں رہتے، سو میرے با اختیارو، میرے فیصلہ سازو، جس طرح ہم نے مشرقی پاکستان کو الگ کرنے والوں کا تعین نہ کرتے ہوئے انہیں سزا نہیں دی ، ہم نے راستہ کھلا رکھا کہ گریٹر بلوچستان ، پختونستان اور سندھو دیش کے حامی اپنا کھیل کھیلتے رہیں۔ جب ہم نے حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پر عمل نہیں کیا تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم جسٹس اعجاز الاحسن کی رپورٹ کا انتظار کرتے رہیں۔ہم نے ڈینگی پھیلنے کے ذمہ داروں کو سونے کان پر بٹھا دیا، ہم اسی طرح پی آئی سی میں مرنے والے غریبوں کے قاتلوں کو بھی کاروبار کی کھلی اجازت دے رہے ہیں، کیا ہوا اگر سو ، سواسو غریب مر گئے، کیا ہوا فارماسیوٹیکل اداروں کا کاروبار تباہ ہوا مگر وہ وقت تو گزر گیا جس میں حکمران، اپوزیشن، عدلیہ اور میڈیا سب اپنی اپنی پرفارمنس دکھا رہے تھے اور داد پار ہے تھے۔ یہ تو ایسے ہی تھا جیسے کسی ڈرامے کے کردار اپنے اپنے ڈائیلاگ بول کے واپس جا رہے تھے، ڈرامہ ختم ہو گیا، پیسیہ بھی ختم ہو گیا لہذا یہ اداکار نئے ڈراموں کی تلاش میں نکل پڑے اور ان میں اچھا پرفارم بھی کر رہے ہیں۔ ان اداکاروں کی شاندار پرفارمنس پر تالیاں بجانے والے لوگو، تم ہی کچھ یاد کرو، تم ہی کچھ آواز بلند کرو۔ قومیں اپنی غلطیوں کے تجزئیے کرتی ہیں، مجرموں کو سزائیں دیتی ہیں اور جو قومیں ایسا نہ کریں، ان کے ہاں سانحے بار بار جنم لیتے ہیں، مجرم بار بار وارداتیں کرتے ہیں۔ تو ہے کوئی پی آئی سی کے سو ا سو غریبوں کے قاتل کو پکڑنے والا، ہے کوئی جو سونہ رہا ہو، ہے کوئی جو کسی نئے ڈرامے میں اپنا کردار ادا کرنے میں محو نہ ہو۔ میر اکام تو صدا لگا نا ہے اور لگا تا جا رہا ہوں ۔۔۔ ہے کوئی ۔۔۔ ہے کوئی ۔۔۔ ہے کوئی؟

مزید : کالم