سولر انرجی سیل کی اندرون ملک تیاری

سولر انرجی سیل کی اندرون ملک تیاری

  

پاکستان میں بجلی کا بحران ہرگزرتے لمحے شدید تر ہورہا ہے۔ بجلی ضرورت کے مطابق دستیاب نہیں اور جو دستیاب ہے وہ بہت مہنگی ہے اور مہنگی ہوتی چلی جارہی ہے۔ بدقسمتی سے پانی سے بجلی بنانے کی طرف بھی ہم بوجوہ زیادہ توجہ نہیں دے پا رہے، توانائی کے متبادل ذرائع کو بھی ہم نے نظرانداز کررکھا ہے۔ سولر انرجی یا شمسی توانائی ایسا شعبہ ہے جس کی طرف ہمیں بہت پہلے متوجہ ہونا چاہیے تھا اور ڈاکٹر عثمانی جیسے سائنسدانوں نے کوشش بھی کی، مگر بات آگے نہ بڑھی ہمارے ”ماہرین“ ہمیں ڈراتے رہے کہ یہ انرجی بہت مہنگی ہے تاہم اس وقت محدود پیمانے پر سولر انرجی کا استعمال شروع ہے، کہیں کہیں پبلک پارکوں اور نو تعمیر شدہ پلازوں میں اس کا استعمال ہورہا ہے۔ اس مقصد کیلئے سولر انرجی سیل بیرون ملک سے درآمد ہورہے ہیں لیکن یہ سیل اندرون ملک بڑی آسانی سے بن سکتے ہیں۔ ہمارے پاس خام مال ہے البتہ اس خام مال سے سولر سیل بنانے کیلئے مشینری درآمد کرنی پڑے گی، اس سلسلے میں معاصر انگریزی روزنامہ ”ڈان“ کے ایک مراسلے میں بعض تجاویز پیش کی گئی ہیں جو اختصار کے ساتھ یہاں درج کی جارہی ہیں۔

”اللہ تعالیٰ نے ہمیں سورج کی روشنی وافر مقدار میں عنایت کر رکھی ہے جس کے ذریعے ہم سولر انرجی پیدا کرسکتے ہیں لیکن ہم اس روشنی کا استعمال نہیں کر رہے۔ یورپ کے بہت سے ملکوں میں جہاں سورج کی روشنی کم ہوتی ہے اس کا استعمال بڑے عمدہ طریقے سے کیا جاتا ہے۔ سولر انرجی پیدا کرنے کیلئے بنیادی یونٹ ایک سولر پینل ہے جس پر سولر سیل لگا دیئے جاتے ہیں۔ یہ تمام سیل باہمی طور پر مربوط ہوتے ہیں جب سورج کی روشنی ان سیلوں پر پڑتی ہے تو الیکٹرون ایک خاص سمت میں حرکت کرنے لگتے ہیں۔ الیکٹرون کی اس حرکت کو ہم بجلی کا کرنٹ کہتے ہیں چونکہ بجلی کی وسیع پیمانے پر پیداوار کیلئے اس طرح کے سولر پینل اور سیل بڑی تعداد میں درکار ہوں گے، اس لئے اتنی بڑی تعداد میں ان کی درآمد ممکن نہیں، کیونکہ یہ بہت مہنگی پڑے گی اس لئے یہ ضروری ہے کہ ہم ان سیلوں کو مقامی طور پر تیار کریں۔ یہ سیل تیار کرنے کیلئے خام مال پاکستان میں وافر دستیاب ہے ہمارے شمالی علاقہ جات میں ”کوارٹز“ وافر موجود ہے۔ مقامی لوگ اس کو اپنے گھروں کی دیواریں بنانے کیلئے اینٹوں کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔ دوسرا خام مال جو سولر سیل بنانے میں استعمال ہوتا ہے یہ ”سلیکا“ ہے جس سے دریائے سندھ بھرا پڑا ہے، بلب بنانے والی فیکٹریاں اسے استعمال کرتی ہیں۔ ہمیں اس خام مال کو استعمال کرنے کیلئے صرف مشینری درآمد کرنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے سولر سیل بنائے جاسکیں۔ یہ سیل بنانے کیلئے ہمیں تربیت یافتہ افرادی قوت کی بھی ضرورت ہے جو کمپنیاں مشینری فراہم کرتی ہیں وہ افرادی قوت کی تربیت کا ذمہ بھی لیتی ہیں یوں ہمیں سولر سیل اور سولر پینل بنانے کیلئے تربیت یافتہ افرادی قوت یورپ کے 50 ڈالر فی گھنٹہ کے مقابلے میں 3 ڈالر فی گھنٹہ میں مل سکتی ہے۔ اس وقت ہمارے پاس سولر پینل بنانے والی ایک فیکٹری حطار انڈسٹریل ایریا میں کام کر رہی ہے لیکن سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے یہ فیکٹری سولر سیل درآمد کر رہی ہے۔ سولر انرجی کا مکمل سسٹم بنانے کیلئے جن دوسری اشیاءکی ضرورت ہے ان میں شیشے کی ٹمپرڈ شیٹس‘ بیٹریاں‘ ڈی سی کو اے سی میں منتقل کرنے والے کنورٹر وغیرہ شامل ہیں۔ ہمارے ملک میں شیشہ بنانے والی بہت سی فیکٹریاں ہیں۔ اسی طرح بیٹریاں بنانے کے بھی بے شمار یونٹ ہیں۔ یہ کارخانے اپنی موجودہ سہولتوں میں تھوڑا سا اضافہ کرکے ٹمپرڈ گلاس شیٹس اور بیٹریاں بنا سکتے ہیں۔ ڈی سی سے اے سی کنورٹر بھی پہلے سے ملک میں بن رہے ہیں اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ وزارت بجلی وپانی اس سلسلے میں پختہ عزم کے ساتھ فیصلہ کرے کہ ملک بھر میں سولر پینل اور سولر سیل بنانے کے کارخانے لگائے جائیں گے اور اس مقصد کے لئے مشینری دنیا کی بہترین فرموں سے درآمد کی جائے گی۔ مقامی افرادی قوت کو میرٹ پر بھرتی کیا جائے گا اور اس پراجیکٹ کا انچارج کسی دیانتدار اور اہل شخصیت کو بنایا جائے گا“  ٭

مزید :

اداریہ -