عدلیہ اور اہل سیاست

عدلیہ اور اہل سیاست

  

سپریم کورٹ میں توہین عدالت کے نئے قانون کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ اِس کیس کا انجام جو بھی ہو، جمہوریت مضبوط ہو گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ جس کے حق میں فیصلہ ہو اُس کے لئے جج اچھے ہوتے ہیں اور ہر وہ شخص عدالت کا دشمن ہو جاتا ہے جس کے حق میں فیصلہ نہ ہو۔ اِس موقع پر چیف جسٹس نے یہ بھی واضح کیا کہ عدالت ارکان اسمبلی کے خلاف نہیں ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ سماعت کے دوران انہوں نے پارلیمنٹ کی کارروائی پڑھی ہے تو پتہ لگا ہے کہ اِس قانون کے تمام پہلوﺅں پر بحث کی گئی۔ یاد رہے کہ 27جولائی کو حکومتی سینیٹروں نے گزشتہ سماعت پر ارکان اسمبلی کے متعلق عدالت کے ریمارکس پر تحفظات کا اظہا کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ پارلیمنٹ کے بارے میں ریمارکس دیتے ہوئے ججز کو احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ اِس سے قبل قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے بھی توہین عدالت قانون کی منظوری میں اپوزیشن کے کردار سے متعلق ریمارکس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں مایوس کن، غیر مناسب، غیر منصفانہ اور سمجھ سے بالا تر قرار دیا تھا۔ اسمبلی میں کی جانے والی تقریروں کے بارے میں عدالت کا کہنا تھا کہ اپنے نقطہ نظر کا اظہار کرنا ارکان پارلیمنٹ کا حق ہے، لیکن ایسا آداب کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا جانا چاہئے اور ذاتیات پر گفتگو نہیں کرنی چاہئے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق عدلیہ کو پارلیمنٹ کے فلور پر کی جانے والی تقاریر کے جائزے کا اختیار نہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بات درست ہے کہ حق میں فیصلہ آئے تو عدالت اچھی لگتی ہے ورنہ لوگ دشمن ہو جاتے ہیں۔ اِس بات کی حقیقت اِس بات سے بھی واضح ہے کہ مسلم لیگ (ن) گزشتہ چار سال کے دوران مسلسل آزاد عدلیہ کی حامی رہی ہے۔ اس کے رہنماﺅں نے عدلیہ کی بحالی میں بھی نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم گزشتہ ہفتے توہین عدالت کے قانون کی پارلیمنٹ سے منظوری کے دوران اپوزیشن کے بائیکاٹ پر عدالت عظمیٰ کے ججز نے تشویش کا اظہار کیا تو اس پر قائد حزب اختلاف نے غیر متوقع طور پر سخت ترین ردعمل کا اظہار کیا۔ عدالت نے اپوزیشن کی توجہ اس طرف دلائی تھی کہ اس کا کام بائیکاٹ کرنا نہیں، بلکہ اسمبلی میں رہ کر حکومت کا مقابلہ کرنا اور لوگوں کو حقائق سے آگاہ کرنا ہے تاہم چودھری نثار علی صاحب کو یہ یاد دہانی ناگوار گزری۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے بھی اپنے تازہ ریمارکس میں غالباً اسی ردعمل کی طرف اشارہ کیا ہے۔ دوسری جانب حکومتی جماعت کے سینیٹرز نے بھی عدلیہ کے ریمارکس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پیر کے روز عدلیہ نے یہ واضح کیا ہے کہ اِس کی پارلیمنٹ کے ساتھ کوئی محاذ آرائی نہیں۔اور کیس کی سماعت کے دوران پارلیمنٹ کے مقام کا اعتراف بھی کیا گیا۔

 ہمارے ملک کے سیاسی منظر نامے میں عدلیہ کا کام بھی آسان نہیں، بلکہ بے حد احتیاط کا ہے۔ ضروری ہے کہ ججز کی جانب سے بھی خصوصی احتیاط برتی جائے،کوشش کی جانی چاہئے کہ عدالت کی کارروائی سے کسی فریق کو یہ خدشہ نہ پیدا ہو کہ اُس کے ساتھ انصاف کے تقاضوں کے مطابق سلوک نہیں کیا جا رہا۔ ایک عرصے سے ہمارے ملک میں یہ مسئلہ رہا ہے کہ بار بار سیاسی معاملات عدالتوں کے سامنے لائے گئے اور سیاسی تنازعات کے فیصلے عدالتوں سے کرانے کی کوشش کی گئی۔ مولوی تمیز الدین کا معاملہ ہو، ذوالفقار علی بھٹو کا یا مارشل لاءکی قانونی حیثیت کا سوال ہو، ہر بار سیاسی معاملات پر عدالتوں سے فیصلے کرائے گئے۔ ایسا کرتے ہوئے اِس بات کا دھیان نہیں رکھا گیا کہ جب عدالتیں سیاسی مسائل اور سیاست دانوں کے بارے میں فیصلے کرتی ہیں تو پھر ان فیصلوں کو صرف قانونی ہی نہیں، بلکہ سیاسی نظر سے بھی دیکھا جاتا ہے سیاسی مخالفین صرف اپنے نقطہ نظر کا پرچار کرتے ہیں اور پراپیگنڈے کے ذریعے حقائق کو کچھ کا کچھ بنا دیا جاتا ہے۔ اگر ملک کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو ایسے بہت سے ایشوز نظر آئیں گے جو عدالت میں لے جائے گئے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوامی رائے میں تبدیلی آتی چلی گئی۔ مثال کے طور پر نیپ (نیشنل عوامی پارٹی) پر پابندی لگائی گئی، لیکن آج کسی کو یہ واقعہ یاد بھی نہیں۔ اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کو عدالت نے پھانسی دی۔ اُس وقت یہ ایک متنازعہ فیصلہ نہ تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوامی رائے تبدیل ہوتی گئی اور پیپلزپارٹی اِس حوالے سے ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ وجہ یہ ہے کہ سیاسی معاملات میں کسی ایک نقطہ نظر کے حامی افراد اپنی بات بیان کرتے رہتے ہیں، چاہے وہ حقائق کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔جبکہ عدالت (یا ججز) اپنے موقف کا دفاع عوامی مباحثوں میں نہیں کر سکتے افسوسناک امر ہے کہ ہم نے اب بھی سیاسی معاملات عدالت میں گھسیٹنے کی عادت ترک نہیں کی ہے حالیہ وقتوں میں این آر او اور میمو کمیشن جیسے مقدمات عدالت میں لائے گئے۔ ان میں وہ سیاست دان جو اسمبلیوں کا حصہ ہیں، بھی فریق بنے۔یہ بھی عجیب ہے کہ جو سیاست دان یا سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ میں موجود ہیں، وہ بھی تنازعات کے حل کے لئے عدالت کا رٍُخ کرتی ہیں۔ اصولاً تو میدان سیاست کے تنازعات سیاسی فورمز پر ہی حل ہونے چاہئےں۔ غور طلب بات ہے کہ سیاست میں تمام چیزیں واضح نہیں ہوتیں، ضروری نہیں کہ سیاسی معاملات میں دو جمع دو چار ہی ہو۔بہت سے سیاسی معاملات میں کسی فریق کی بات کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ سیاسی مقدمات کی سماعت میں عدالتیں بھی پوری احتیاط سے کام لیں۔ کسی بھی سیاسی معاملے میں لوگوں کے جذبات وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ لہٰذا سیاسی تنازعات میں اُلجھنے سے پرہیز کیا جانا ضروری ہے کہ ان معاملات میں اُلجھنے سے عدلیہ کے متنازعہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ تمام فریقین کو اس بات کا یقین دلایا جائے کہ فیصلہ جو بھی ہو، انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہی کیا جائے گا۔ دوسری جانب یہ بات بھی اہم ہے کہ تمام فریقین بھی عدالت کا احترام ملحوظ خاطر رکھیں۔ اگر کسی کے خلاف فیصلہ آئے یا عدالت کی جانب سے ریمارکس دیئے جائیں، تو تحمل کا مظاہرہ کیا جانا چاہئے۔ ردعمل میں یک دم سیخ پا ہو کر عدالت پر برسنا مناسب نہیں۔ عدالت کے فیصلوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن عدالت کا احترام بہرحال لازم ہے اور اس کے فیصلے ماننے سے انکار نہیںکیا جا سکتا۔

مزید :

اداریہ -