صوبائی دارالحکومت رواں سال حادثاتی واقعات میں 100سے زائدافراد لقمہ اجل بن گئے

صوبائی دارالحکومت رواں سال حادثاتی واقعات میں 100سے زائدافراد لقمہ اجل بن گئے

لاہور رپورٹ (یونس باٹھ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں حادثاتی واقعات میں رواں سال کے دوران اب تک 100 سے زائد افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں پنجاب حکومت کی جانب سے فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 ادارے کو اربوں روپے مراعات دینے کے باوجود ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے واضح رہے گڑھی شاہو کے علاقہ میں ایک نجی ٹی وی چینل کے سٹوڈیو میں پراسرار طور پر آگ لگنے سے پانچ افراد جاں بحق اور دس افراد کے جھلسنے کا لاہور میں پہلا واقعہ نہیں ہے اب تک اس طرح کے درجنوں واقعات لاہور میں پیش آچکے ہیں جس میں کئی افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں پچھلے سال فروری میں لاہور میں شاہ عالم مارکیٹ میں آتشزدگی کے واقعہ میں دو درجن سے زائد افراد آگ لگنے اور عمارت کے زمین بوس ہونے سے موت کے منہ میں چلے گئے جبکہ کروڑوں روپے مالیت کا سامان بھی جل کر راکھ ہو گیا اسی طرح رواں سال کے دوران سبزہ زار کے علاقہ میں میڈیسن کی ایک فیکٹری میں بوائلر کے پھٹنے سے فیکٹری میں کام کرنیوالی کئی خواتین ملبے تلے آکر موت کے منہ میں چلی گئیں۔ اقبال ٹاﺅن کے علاقہ منڈی میں ایک گودام میں آگ لگنے سے متعدد افراد موت کے منہ میں چلے گئے اندرون شہر میں درجنوں عمارتیں گرنے سے اب تک 100 سے زائد افراد موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔ پنجاب حکومت کو ایسے واقعات سے بچنے کیلئے فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 کو جدید تقاضوں کے مطابق ٹریننگ دینا ہو گی جبکہ خطرناک عمارتوں کو خالی کروانا ہوگا۔

مزید : صفحہ آخر