نیب کابھی احتساب ،مشرف کے ساتھی"ننگے"ہونا شروع ہوگئے

نیب کابھی احتساب ،مشرف کے ساتھی"ننگے"ہونا شروع ہوگئے
نیب کابھی احتساب ،مشرف کے ساتھی

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) قومی احتساب بیورو(نیب ) کو ریکوری کرانے پر 30فیصد حصہ ملتاہے جبکہ پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی نے نیب کے انعامات کے آڈٹ کا حکم اور ایل پی جی کوٹے پر ایک ماہ میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ۔چیئرمین ندیم افضل چن کی زیرصدارت ہونے والے پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے نیب حکام نے بتایاکہ ریکوری سے حصے کا قانون2002ءمیں صدر نے چیف جسٹس کی مشاورت سے بنایااورنیب کو ایک ارب ساٹھ کروڑ کا حصہ ملا 2008ءکے بعد سے ایسی کوئی رقم حاصل نہیں ہوسکی۔کمیٹی اراکین کاکہناتھاکہ ریکوری پر پولیس یا آڈٹ والوں کوکوئی حصہ نہیںملتا،پالیسی یکساں ہونی چاہیے ۔آڈٹ حکام کے مطابق نیب نے 2005-6ءمیں مختلف اداروں پی ٹی سی ایل ، پاکستان سٹیل اور نیشنل فرٹیلائزر سے چندہ لے کر میڈیا مہم چلائی جس پر زاہدحامد نے کہاکہ چندہ لینے والے عرصہ میں نیب پاکستان سٹیل مل کے خلاف تحقیقات کررہاتھا۔چیئرمین نیب نے کہاکہ بیوروکو چندے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے جس کے بعد پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے نیب کے ’انعامات‘ کی رقم کاآڈٹ کرائے اوردوسابق چیئرمین خالد مقبول اور منیر حفیظ کے خلاف ایل پی جی کوٹہ لینے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔خواجہ آصف کاکہناتھاکہ خالد مقبول نے ایل پی جی کوٹہ کے لیے پنجاب بنک سے دوارب روپے قرض لیا جو واپس نہیں کیا جبکہ جنرل سعید ظفر، جنرل معین الدین ، جنرل منیر حفیظ نے بھی ایل پی جی کے کوٹے لیے ۔کمیٹی نے ایل پی جی کوٹہ ایشوپر متعلقہ حکام سے ایک ماہ میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ۔چیئرمین نیب نے کہاکہ نیب آرڈیننس میں عدلیہ شامل ہے تاہم مسلح افواج اِس میں شامل نہیں اسی لئے این آئی سی ایل سکینڈل میں تین سابق جنریلوں کو رضاکارانہ طورپر رقم واپسی کا موقع دیا۔

مزید : بزنس /اہم خبریں