قصرِ صدارت کا نیا مہمان

قصرِ صدارت کا نیا مہمان
قصرِ صدارت کا نیا مہمان

  

صدارتی الیکشن سے پہلے خبر آئی کہ نواز لیگ کے صدارتی امید وار ممنون حسین کی طبیعت اچانک ناساز ہو گئی ۔ذرائع کے مطابق صدارتی الیکشن کے سلسلے میں صوبوں کے مسلسل دوروں کے باعث ممنون حسین شدید تھکاوٹ کا شکار ہو گئے جس کی وجہ سے انھیں فی ا لحال آرام کا مشورہ دیاگیا ہے ۔ ہمارے خیال میں تو ممنون حسین نے ناحق غیر ضروری بھا گ دوڑ کر کے اپنی طبعیت نا ساز کر والی ہے۔ وہ اطمینان سے گھر بیٹھ کر آرام فرمائیں ۔جب ان کی صدارت پکّی ہے ، انھیں انتخابی مہم چلانے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ ہو سکتا ہے ان کا خیال ہو کہ آ ئندہ چار پانچ سال تک تو انھیں آرام ہی کرناہے، کیوں نہ چند روز زندگی کی آخری بھاگ دوڑ ہی کر لیں تاکہ دل میں کوئی حسرت نہ رہے ۔اس نمائشی بھاگ دوڑ کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اور میا ں نواز شریف اینڈ کمپنی اہل وطن کو یہ باورکراناچاہتے ہیں کہ انھیں ایک مشکل مرحلہ درپیش ہے لیکن چونکہ وہ جمہوریت پر پختہ یقین رکھتے ہیں ، لہٰذا وہ جمہوری جدوجہد سے اس امتحان میں بھی کامیابی حاصل کرلیں گے۔ قصرِصدار ت میں ممنون حسین کی زندگی کیسی ہوگی ، اس کا اندازہ آپ اس شعر سے کر لیں

وہ کوئی بات کر تے ہیں نہ کوئی کام کر تے ہیں

پھر اس کے بعد کافی دیر تک آرام کرتے ہیں

ا گر قصرِ صدارت میں کسی نے ان کا لائف اسٹائل دیکھ کر ان سے کہہ دیا کہ ممنون حسین صاحب کبھی کو ئی کام بھی کر لیا کریں، تو وہ جواب میں یہ قطعہ سنادیں گے : 

آپ بالکل درست کہتے ہیں

واقعی کام بھی ضروری ہے

سولہ گھنٹے کی گہری نیند کے بعد

قدرے آرام بھی ضروری ہے

 یہ قطعہ سناکر وہ نیند کی تھکن دور کرنے کے لئے ،یعنی کمر سیدھی کرنے کے لئے پلنگ پر لیٹ کرخوابِ خرگوش بلکہ خواب شیر کے مزے لینے لگےں گے ۔ لیکن ظاہر ہے کہ وہ چوبیس گھنٹے تو سو کر نہیں گزار سکیں گے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ عالم بیدار ی کے چند گھنٹے کیسے گزاریں گے ۔” صدر لاج “ میں اپنے عہدے کی لاج رکھنے کے لیے اُنھیں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔ ویسے بھی انسان ہاتھ پاﺅں نہ ہلائے تو کچھ عرصے بعد ”بے دست وپا “ ہو جاتا ہے۔ وہاں اُن کی ایک ڈیوٹی تو پکّی ہوگی یعنی پرائم منسٹر ہاﺅس یا senate سے آئی ہوئی فائلوں پر دستخط کرنا۔ لیکن اس کام میں صرف ایک ہاتھ کی تھوڑی بہت ایکسرسائیز ہوگی ۔ دوسرا ہاتھ اور دوپاﺅں بالکل بے کار رہیں گے ۔ اور پھر صدر ِمحترم کے لئے اس کام کو آسان بنانے کے لئے ان فائلوں میں ان جگہو ں پر یہ نشان (×) لگا ہو گا جہاں صدرِ صاحب نے دستخط ثبت فرمانے ہوںگے ۔جیسے بینک میں نیا اکاﺅنٹ کھولنے والے کو انگریزی میں چھپے ہوئے فارم پر اُن جگہوں پر دستخط کر نے ہوتے ہیں جہاں بینک کا

کلرک یہ نشان (×) لگادیتاہے چنانچہ نئے اکاﺅنٹ ہو لڈر کوفارم پڑھنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ویسے بھی اکثر اکاﺅنٹ ہولڈر انگریزی سے نا بلد ہوتے ہیں ۔ چنانچہ صدر صاحب کو بھی فائلیں پڑھنے کی قطعاًضرورت نہیں ہوگی ۔ صرف اس نشان (×) پر دستخط کر نے ہوںگے ۔ انھیں انگریزی آتی ہے یا نہیں ،اس سے کو ئی فرق نہیں پڑے گا۔ ویسے بھی اگر کسی فائل پر میاں نواز شریف کی انگریزی ہوئی تو یہ انگریزی ممنو ن صاحب کے سر پر سے گزر جائے گی ۔ ممنون صاحب اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہےں کہ انھیں ملک کا وہ واحد عہدہ ملنے والا ہے جس پر فائز ہونے والے کو انگریزی ،اردو یا کچھ اور جاننے کی قطعاًضرورت نہیں ۔ جو جتنا زیا دہ ”پاک صاف “ ہوتا ہے، اتنا ہی اس عہدے کا اہل ٹھہرتاہے ۔ اگر اس عہدے پر فائز شخص نے کچھ” کر گزرنے “کی حماقت کی تو اسے غلام اسحاق خان اور فاروق لغاری کا حشر یاد رکھنا چاہے۔چنانچہ مجھے یقین ہے کہ ممنون صاحب کا عرصہِ¿ صدارت بڑے سکون سے گزر جائے گا کیونکہ اس بحر کی موجوں میں کبھی اضطراب کی کیفیت پیدانہیں ہوگی ۔

تاہم یہ بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ ممنون صاحب جو چند گھنٹے حالت بیداری میں گزاریں گے ، ان کا مصرف کیا ہوگا ۔ ظاہر ہے کہ انھیں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑے گا ۔ کچھ وقت تو وہ ٹی وی دیکھ کر گزار سکتے ہیں ۔ سنا ہے کہ آجکل” عشقِ ممنوع“ دوبارہ ٹیلی کاسٹ کیا جارہا ہے ۔ یہ ڈرامہ نہ صرف وقت کٹی کا بہترین ذریعہ ثابت ہو گا بلکہ اس کی مدد سے وہ جوانی کی یادیں بھی تازہ کر سکتے ہیں ۔ یعنی ان کی زندگی میں اگر ”عشقِ ممنون“ کے عنوان سے کو ئی chapter ہے تو اِسے دوبارہ پڑھ کر یا د ِ ماضی کا لطف لیا جاسکتا ہے۔ ویسے بھی قصرِ صدارت میں ماضی کی یا دیں ہی ان کا سب سے بڑا سرمایہ ہوگا ۔ اس لئے کہ ان کا” حال“ تو خاصا”بے حال “ ہوگا ۔ موقع محل کے مناسبت سے میں ممنون صاحب کی خدمت میں اپنا ہی ایک شعر تحفتہً پیش کرناچاہتا ہوںجو وہا ں اکثر ان کے کا م آئے گا 

حال ، فی الحال بھلا دیتے ہیں

آﺅ ماضی کو صدا دیتے ہیں

ہاں خوب یا د آیا ۔ کھبی کبھار قصرِ صدارت میں غیر ملکی سفیر بھی تو اپنی اسناد ِ سفارت پیش کرنے آتے ہیں ۔ ان سے گپ شپ میں کچھ ٹائم kill کیا جاسکتا ہے ۔ ایک دقّت البتہ پیش آسکتی ہے۔ اکثر سفیر اپنی قومی زبان میں با ت کریںگے جو ممنون صاحب کی سمجھ میں نہیں آئے گی اور ممنون صاحب کی زبانِ سفیر نہ سمجھ پائیں گے اور یوں گفت وشنید میں ایک deadlock پیدا ہو سکتا ہے ۔ لیکن یہ lock ان locks جتنامضبوط نہیں ہوگا جو قصرِصدارت میں جگہ جگہ لگے ہوں گے ۔ ہمارے ایک شاعر دوست کی بیگم کے نو بھائی تھے ۔ ان کا ایک مصرعہ ہے ع

کتنے سالوں میں گھِر گیا ہوں میں

ممنون صاحب جب قصرِصدارت میں ، پہنچیں گے تو اکثر سوچا کریں گے ع

کتنے تالوں میں گھِرگیا ہوں میں

آخر میں ہماری دُعا ہے کہ ممنون صاحب جہاں رہیں خوش رہیں ۔     ٭

مزید :

کالم -