علاقائی زبانوں کو قومی زبان کادرجہ کیوں؟

علاقائی زبانوں کو قومی زبان کادرجہ کیوں؟
علاقائی زبانوں کو قومی زبان کادرجہ کیوں؟
کیپشن: languages

  

دنیا میں شائد ہی کوئی ملک ایسا ہو گا،جہاں سرکاری زبان انگریزی، قومی زبان اردو اور عوام اپنی اپنی مادری زبانوں میں گفتگو کرتے ہوں گے ایسا کیوں ہوا اور کس نے اس ملک کے عوام کے ساتھ یہ عجیب رویہ اختیار کیا، اس پر ایک تفصیلی مضمون کی ضرورت ہے، لیکن اس کے جو نتائج برآمد ہوئے ہیں، وہ عوام کی تقسیم اور نفرت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوئے۔ یہ کون سا ستم ہو گیا تھا کہ اگر علاقائی زبانوں کو بھی قومی زبان کا درجے دے دیا گیا تھا کہ اس کی یوں مخالفت کی گئی، جیسے کوئی عذاب نازل ہونے کا خدشہ ہو۔ قومی اسمبلی کی مجلس قائمہ برائے انصاف اور قانون نے بل کو مسترد کر دیا ہے۔ بات تو صرف ان زبانوں کو بھی قومی زبان کا درجہ دینے کی تھی، ان کے حقوق کا تو کوئی تقاضا یا مطالبہ نہیں کیا گیا تھا، لیکن ہمارے سیاست دان اور بیورو کریسی اِسی روایتی دشمنی کا مظاہرہ کرتی دکھائی دی، جو وہ پاکستان کی تخلیق سے اب تک کرتے چلے آ رہے ہیں۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ مجلس قائمہ انصاف اور قانون کی تھی، لیکن وہ انصاف کا مظاہرہ نہیں کر سکی اور 1973ءکے آئین کو بھی بھول گئی، جس میں تمام علاقائی زبانوں کو عزت و احترام سے نوازا گیا ہے اور ہر صوبے کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ علاقائی زبانوں کو ذریعہ تعلیم بنا سکتے ہیں۔ اس کا فائدہ کچھ صوبوں نے حاصل بھی کیا ہے، مگر پنجاب کے سیاست دان اور بیورو کریٹ رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے اردو کے نگہبان بنے ہوئے ہیں۔ ہم اس بحث میں بھی الجھنا نہیں چاہتے کہ اردو زبان کا تاریخی اور تہذیبی ورثہ کیا ہے اور یہ زبان کہاں، کیسے اور کس نے ایجاد کی تھی؟ اور اسے انگریزوںنے مسلمانوں کی زبان کیوں قرار دیا تھا؟ اور وہ معاشرتی تقسیم کس لئے چاہتے تھے؟ ہم ماضی میں جا کر ان حقائق کی نشاندہی کر کے نئے مسائل کھڑے نہیں کرنا چاہتے،لہٰذا جو ہوا سو ہوا۔ اب اگر پاکستان بننے کے بعد مقامی زبانوں کو نظر انداز کر کے اردو کو قومی زبان بنا دیا گیا ہے اور عوام نے بھی اس کو رابطے کی زبان تسلیم کر لیا ہے، تو ہمیں بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن یہ کیا کہ عوام کی مادری زبان کو یکسر نظر انداز کر دیا جائے، حالانکہ ان کا تاریخی اور تہذیبی پس منظر اردو سے صدیوں پرانا ہے اور یہ ان زبانوں میں موجود علمی، فکری اور ادبی ورثے کو کچلنے کے مترادف ہے۔

ہماری بیورو کریسی کے ہاتھی اور سیاست کے نام نہاد علمبردار کمال ڈھٹائی سے مسلسل یہ کام کرتے چلے آ رہے ہیں۔ خصوصاً پنجابی سیاست دان اور بیورو کریسی ،جس نے اس دھرتی سے جنم لیا ہے، وہ حب الوطنی اور قومی وحدت کے نام پر رکاوٹوں کا باعث بنتے رہے ہیں۔ دنیا بھر کے سماجی دانشور اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ مادری زبان ہی ذریعہ تعلیم ہو تو بچے کو تعلیمی شعور حاصل کرنے میں آسانی فراہمی کرتی ہے، جبکہ بچہ تین سال کی عمر میں جب سکول جانا شروع کرتا ہے، تو اس کے پاس اڑھائی ہزار لفظوں کا خزانہ پہلے سے موجود ہوتا ہے،جو اسے حصول علم کے لئے تعاون اور مدد فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دی جاتی ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے منشور میں بھی شامل ہے،پھر یہ صداقت اظہر من الشمس ہے کہ جن ملکوں میں یہ طریقہ اپنایا گیا ہے، وہاں شرح خواندگی بھی 90فیصد سے زائد ہے، جبکہ ہمارے ہاں یہ30فیصد سے زائد نہیں، ایسا کیوں ہے؟یہ اعتراف کرنے کو کوئی تیار نہیں۔

ورلڈ پنجابی کانگرس کے چیئرمین فخر زمان نے گزشتہ روز مختلف تنظیموں کے رہنماﺅں کے ساتھ علاقائی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے کے بل کو مسترد کئے جانے پر احتجاجی کانفرنس کی اور یہ بھی بتایا کہ وزارت قانون کے ایک اعلیٰ جسٹس رضا خان نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو لسانی مسئلہ قرار دیا ہے، جس پر انہوں نے اس دلیل کو انتہائی بےوقوفی پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ یہ بیورو کریسی کا خود ساختہ موقف ہے۔ تاریخ کی سچائی بھی یہی ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی سیاسی اور معاشی جبر کے ساتھ ہمارے حکمرانوں کا غاصبانہ رویہ تھا، جو مشرقی پاکستان کے عوام سے نو آبادیاتی سلوک کرتے تھے، لیکن آج کی سچائی تو یہ ہے کہ علیحدگی کے بعد اِسی مشرقی پاکستان میں شرح خواندگی 70فیصد سے بھی زائد ہے۔ وہ بھی اس بنا پر کہ انہوں نے اپنی اور عوامی زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا ہے،جو اُن کی قومی زبان بھی ہے، لیکن افسوس کہ ہم ابھی تک انگریز کے چھوڑے ہوئے تعلیمی نظام سے آزادی کے باوجود حاصل نہیں کر سکے۔

ہم ابھی تک غلامانہ ذہنیت کے ہی اسیر ہیں اور اپنے بچوں کے ذہنوں کو بھی آزادی سے فیض یاب ہونے نہیں دے رہے اور نہ ہی اپنے تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی ورثے سے انہیں آشنا کرنا چاہتے ہیں۔ مبادا یہ بچے اپنے اصل ہیروز سے ہم آہنگ ہو جائیں۔ بابا فرید، شاہ حسین، سلطان باہو، بلھے شاہ، وارث شاہ، میاں محمد بخش کی فکری اساس پر اپنے شعور کی عمارتیں تعمیر کریں۔ راجہ پورس، دُلا بھٹی، احمد خان کھرل اور بھگت سنگھ جیسے مزاحمتی کردار ان کے پسندیدہ ہیروز میں شامل ہو جائیں اور ان کی عملی زندگی کا حصہ بن جائیں.... تو صاحبو.... یہ کیسے ممکن ہے کہ پنجابی زبان ہو یا کوئی اور علاقائی زبان.... ان کو قومی زبان تسلیم کر لیا جائے یا پھر ان کو بھی قومی زبان جیسا درجہ دے کر وہی سہولتیں فراہم کی جائیں، یہ کام عوام کے اصلی نمائندے اور ان کے اپنے حکمران ہی کر سکتے ہیں۔ انگریز کی چھوڑی ہوئی بیورو کریسی اور غلامانہ ذہنیت رکھنے والے سیاست دانوں سے کوئی امید رکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔

مزید :

کالم -