غزہ کے اصل مجرم کون ہیں؟

غزہ کے اصل مجرم کون ہیں؟
غزہ کے اصل مجرم کون ہیں؟
کیپشن: pic

  

غزہ کے المیے پر اتنا لکھا جا رہا ہے کہ کئی بار دل نے چاہا اس پر کچھ لکھا جائے، لیکن پھر ارادہ ملتوی کر دیا کہ وہی الفاظ کی تکرار ہو گی اور پھر ہمارے لکھے گئے الفاظ سے کچھ تبدیل بھی نہیںہو سکا۔ نہ تو باضمیر ہونے کے دعویدار مغرب کا ضمیر جاگتا ہے اور نہ ہی مسلم حکمرانوں کی غیرت ایمانی، لیکن ترکی میں ہونے والے مظاہرے میں مظاہرین نے جو تصاویر اٹھا رکھی تھیں، انہیں دیکھ کر لکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ ترک مظاہرین کے پلے کارڈز اور پوسٹر اصل حقیقت بیان کر رہے تھے۔ ہماری توجہ اس المیے کے سارے کرداروں کی طرف مبذول کرا رہے تھے، ورنہ ہم تو اسرائیل یا پھر زیادہ سے زیادہ امریکہ اور چند یورپی ممالک کی مذمت تک محدود رہتے ہیں۔ امریکی و اسرائیلی پرچم جلا کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ترک عوام نے جو بینر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، ان میں اسرائیلی و امریکی صدور کے ساتھ مصر، شام اور اردن کی قیادت کی تصاویر بھی شامل تھیں۔ ان تینوں اسلامی ممالک کے رہنماﺅں کو بھی غزہ پر مظالم میں اسرائیل اور امریکہ جتنا مجرم بتایا گیا تھا۔

اگرچہ غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کی مجرم تو ساری اسلامی دنیا اور اس کے حکمران ہیں۔ قیامت کے دن ان سب کے گریبان ہوں گے اور دوسری طرف فلسطینی ہوں گے، جن میں معصوم بچوں سے لے کر خواتین اور بزرگ سب شامل ہوں گے، لیکن عرب ممالک،خصوصاً فلسطین کے پڑوسی ممالک غزہ میں بہنے والے خون کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ یہ لوگ اسرائیل کے مددگار ہیں اور اس کی اصل دفاعی شیلڈ ہیں۔ اگر یہ اسرائیل سے ملے ہوئے نہ ہوں، اس کے لئے پالتو کا کردار ادا نہ کریں تو چاروں طرف سے عرب اسلامی ممالک سے گھری ہوئی صہیونی ریاست کسی ایک فلسطینی کا خون بہانے کی بھی جرا¿ت نہیں کر سکتی۔ عرب ممالک میں مصر کی فوج تعداد اور طاقت کے لحاظ سے سب سے زیادہ مضبوط سمجھی جاتی ہے، لیکن یہ فوج برسوں سے مسلم کاز کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، اس کا کام امریکہ اور اسرائیل کی خدمات بجا لانا ہے۔

اخوان المسلمون کی منتخب حکومت نے اس کا کردار بدلنے کی کوشش کی تو اسے بھی ایک بار پھر تختہ مشق بنا لیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی برسوں سے مصری فوج صرف اِسی کام پر جتی ہوئی تھی کہ وہ اسلام کا نام لینے والوں کا قلع قمع کرتی رہی۔ انہیں جیلوں میں ڈالتی رہی اور شہید کرتی رہی۔ مصری حکمرانوں اور فوج کو دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ اسلامی ملک ہیں، بلکہ اسرائیل اور امریکہ کے پالتو نظر آتے ہیں۔ ہر وقت ان کی خدمات بجا لاتے نظر آتے ہیں۔ آج اگر غزہ میں اسرائیل فلسطینیوں کا خون بہا رہا ہے، تو اس کا سب سے بڑا ذمہ دار بھی مصر ہے۔ غزہ کی سرحد مصر سے لگتی ہے۔ اسرائیل نے غزہ کا سات برسوں سے محاصرہ کر رکھا ہے، وہ وہاں خوراک بھی اتنی جانے دیتا ہے، جس سے فلسطینی نہ جی سکیں اور نہ مر سکیں۔ شیر خوار بچوں کے لئے دودھ تک حاصل کرنا مشکل بنا دیا گیا ہے، تیل اور ادویات تو عملی طور پر نایاب ہیں۔ اگر اس اسرائیلی ناکہ بندی کو کوئی ملک ناکام بنا سکتا تھا تو وہ مصر تھا۔ وہ اپنی سرحدیں کھول کر وہاں سے غزہ کے محصورین کو کم از کم خوراک تو لے جانے کی اجازت دے سکتا ہے، لیکن اسرائیل اور امریکہ کے غلام مصری حکمرانوں نے بھی صہیونی ریاست کی طرح غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، اپنی سرحد سیل کر رکھی ہے تاکہ کسی فلسطینی بچے کے لئے دودھ یا کسی بیمار کے لئے کوئی دوا وہاں سے غزہ نہ لے جائی جا سکے۔

انہوں نے فلسطینیوں کو ہاتھ پاﺅں باندھ کر دشمن کے آگے پھینکنے کا پورا اہتمام کر رکھا ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بہت کچھ کہا جا رہا ہے، اس لئے اس کا ذکر کر رہے ہیں۔ پاکستان کے اداروں پر کچھ لوگ بہت تنقید کرتے ہیں، ان پر نہ جانے کیا کیا الزامات لگاتے ہیں، انہیں کم از کم اس کا موازنہ غزہ کی صورت حال سے ضرور کرنا چاہئے۔ ہمارے پڑوس میں پہلے روس افغانستان پر حملہ آور ہوا، تو اس وقت بھی ہم نے اپنا وجود خطرے میں ڈال کر اپنے مسلم افغان بھائیوں کی مدد کی اور یہ مدد صرف خوراک کی صورت میں نہیں تھی، بلکہ جہاد کی صورت میں تھی، جس کے نتیجے میں روس کو پسپا ہو کر واپس جانا پڑا۔ اب نائن الیون کے بعد امریکہ نیٹو کی پوری بارات کے ساتھ یہاں آ دھمکا.... یہ جو امریکہ حقانی نیٹ ورک کا رونا روتا ہے، افغان طالبان کی باتیں کرتا ہے، یہ سب امریکہ کے لئے پریشانی کا باعث تھا۔

آج اگر امریکہ بھی اپنے باراتیوں کے ہمراہ افغانستان سے واپس جا رہا ہے، تو اس کی وجہ یہی ہے کہ افغانستان کے پڑوس میں پاکستان تھا، مصر نہیں۔ ورنہ نجانے یہاں کیا حال ہو رہا ہوتا، یہاں بھی لوگ ہتھیار تو دور کی بات، خوراک کو ترس رہے ہوتے۔ کچھ جذباتی لوگ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو فلسطینی بھائیوں کی مدد کے لئے اسرائیل کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے، لیکن ایسی باتیں کرنے والے حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں، وہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان فاصلے کو بھول جاتے ہیں۔ میزائل مارنے کی بات کرنا آسان ہے، لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ درمیان میں کتنے ممالک آتے ہیں۔ کہنے کو تو یہ سب اسلامی ہیں، لیکن اصل میں تقریباً یہ سب اسرائیل کے محافظ ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ مقابل کھڑے ہوں گے۔ ان میں سے ایک بھی آپ کو فضائی راہداری نہیں دے گا، پھر یہ بھی کہ ہم کسی سے کھلی جنگ اور وہ بھی اس قدر دور سے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اسرائیل مغرب کی آنکھ کا تارا ہے۔ اس سے جنگ کا مطلب پورے مغرب کو اپنے خلاف ہونے کی دعوت دینا ہے، پھر ہمارا بال بال قرضے میں جکڑا ہوا ہے۔ اپنی سرحدوں سے دور کارروائی کے لئے جتنی مضبوط بحریہ کی ضرورت ہوتی ہے، وہ بھی بدقسمتی سے ہم نے تیار کرنے پر توجہ نہیں دی، جس کی بڑی وجہ وسائل کی کمی ہے۔

امریکہ اگر دنیا میں بدمعاشی کرتا ہے، تو اس کی وجہ اس کی بحری طاقت ہی ہے، وہ جہاں چاہتا ہے، اپنے بیڑے بھیج دیتا ہے۔ اس لئے پاکستان فلسطینی بھائیوں کی اِسی وقت مدد کر سکتا ہے جب عرب ممالک اسرائیل سے جنگ کا فیصلہ کریں۔ فلسطینیوں کے تحفظ کے لئے اسلامی فوج بنانے کا فیصلہ کیا جائے، لیکن بدقسمتی سے اس کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے۔ عرب ممالک سے تو کوئی امید نہیں، البتہ پاکستان اور ترکی مل کر فلسطین کے معاملے پر سفارتی محاذ پر ضرور موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر افغانستان کے معاملے پر دونوں ملک کانفرنس کر سکتے ہیں، تو اس مسئلے پر بھی فوری ایسا قدم اٹھانا چاہئے۔ ملائیشیا جیسے اسلامی ممالک کو بھی متحرک کیا جا سکتا ہے۔ پھر شاید عرب حکمرانوں میں سے بھی کسی کو کچھ خیال آ جائے۔ مصر کے علاوہ شام اور اردن کی سرحدیں بھی اسرائیل سے لگتی ہیں، لیکن ان دونوں ممالک کے حکمران بھی اسرائیلی اور امریکی غلامی کا چولہ پہن کر حکومت کر رہے ہیں اور اس کے عوض اپنے اقتدار کے لائسنس کی تجدید کرا لیتے ہیں۔

شام کا بشارالاسد جو جمہوریت کا مطالبہ کرنے والے عوام کو ساڑھے تین سال سے طیاروں اور میزائلوں سے نشانہ بنا رہا ہے،47سال سے اسرائیل سے جولان کی پہاڑیوں کا قبضہ نہیں چھڑا سکا۔ اب بھی کئی بار اسرائیلی طیارے شامی حدود میں حملے کر کے واپس چلے جاتے ہیں، لیکن یہ ان کے سامنے بھیگی بلی بنا رہتا ہے۔ اپنے شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کرنے والی اس کی فوج ان کے آگے سر بھی نہیں اٹھاتی اور اس سر نہ اٹھانے کی قیمت بشار الاسد اپنا اقتدار قائم رہنے کی صورت میں وصول کر رہا ہے۔ اگر پورے ملک میں بغاوت اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے باوجود امریکہ اور مغرب بشارالاسد کے خلاف کارروائی نہیں کرتے، تو اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اسرائیل کی ڈھال ہیں۔ اگر شام میں کوئی عوامی حکومت آ گئی، تو اسرائیل کی ڈھال ختم ہو جائے گی۔ اردن کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ایک اور ملک بھی بالواسطہ طور پر اسرائیل کی سرحد پر موجود ہے اور وہ ایران ہے، جس کی موجودگی حزب اللہ ملیشیا کی صورت میں لبنان میں موجود ہے۔ ماضی میں ایران حزب اللہ کے ذریعے فلسطینیوں کی حمایت کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا تھا، لیکن آج کل ایران اور حزب اللہ اسرائیل کے بجائے فرقہ وارانہ جنگ میں مصروف ہیں اور شام میں بشارالاسد کی حکومت بچانے کے لئے لڑ رہے ہیں، حالانکہ بشارالاسد بھی شامی عوام کے ساتھ حلب، حمص اور دیگر شہروں میں وہی کچھ کر رہا ہے، جو اسرائیل غزہ میں کر رہا ہے۔

مزید :

کالم -