اے ایس ایف، پی آئی اے، سعودی ایئر لائن

اے ایس ایف، پی آئی اے، سعودی ایئر لائن
 اے ایس ایف، پی آئی اے، سعودی ایئر لائن

  

بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس(ASF) پاکستان ایئر لائن(PIA) اور سعودی ایئر لائن(SV) کے بارے میں اظہار خیال کروں۔ ان تینوں اداروں کا تعلق ڈائریکٹ یا اِن ڈائریکٹ سول ایوی ایشن (CAA) کے ساتھ ہے، جو پاکستان کے تمام ایئر پورٹ کے معاملات دیکھتا ہے۔ ایئر پورٹس کی تعمیر و ترقی کے منصوبے تیار کرتا اور وفاقی حکومت سے گرانٹ لے کر منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچاتا ہے۔ علامہ اقبال بے شک بہت بڑا ایئر پورٹ ہے، مگر اس کے باوجود اس کی بلڈنگ، انٹرنیشنل لاؤنج، ارائیول اور ڈیپارچر کے ایریا میں اضافہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سی اے اے کو فنڈز حاصل کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے، اس کے باوجوداس کی انتظامیہ کو مُلک اور بیرون ممالک سے آنے جانے مسافروں کی سہولت کے لئے بھرپور کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے انٹرنیشنل ایئر پورٹس کا درجہ حاصل کرنے والے ایئر پورٹس پر مسافروں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنا بہت ضروری ہے۔ شنید ہے کہ اگر چار انٹرنیشنل فلائٹس ایک وقت میں آگے پیچھے آ جائیں، تو تین چار گھنٹے سامان حاصل کرنے میں لگ جاتے ہیں، چونکہ سامان فراہم کرنے والے چین (بیلٹ) کی تعداد صرف دو ہے جو پرانے ایئر پورٹ پر بھی تھی، حیران کن بات ہے کہ علامہ اقبال ایئر پورٹ کی نئی بلڈنگ کی تعمیر پر اربوں روپے خرچ کر دیئے گئے، مگرسہولتوں کا بہت کم خیال رکھا گیا۔ اب حالات بہت بدل گئے ہیں۔ سی اے اے کو علامہ اقبال ایئر پورٹ کو جلد سے جلد وسیع کرنے کا منصوبہ شروع کرنا چاہئے، کیونکہ مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔

گاڑیوں کی پارکنگ سے ٹھیکیدار کروڑوں روپے سالانہ کماتا ہے، مگر عوام کی گاڑیاں دھوپ میں کھڑی کرتا ہے۔ گرمی کے موسم میں گاڑیوں کے ربڑ تک پگھل جاتے ہیں، حالانکہ ساری دُنیا کے ایئر پورٹس پر گاڑیوں کے لئے شیڈ بنائے جاتے ہیں۔ پارکنگ فیس ترقی یافتہ ممالک سے بھی زیادہ، سہولت زیرو۔ باقی مُلک کے تمام ایئر پورٹس پر دکاندار عوام سے جو لوٹ مار کرتے ہیں، یہ ایک علیحدہ کہانی ہے، جس کا ذکر ملکی اخباروں میں گاہے بگاہے آتا رہتا ہے۔ایئر پورٹس سیکیورٹی فورس (ASF) کا ادارہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے، اس کا تعلق بھی سی اے اے کے ساتھ ہے ۔ASF محکمہ ڈیفنس کے ماتحت کام کرتا ہے۔ اس کا پورے پاکستان میں اپنا نیٹ ورک ہے، اس کا تعلق ڈیفنس کے ساتھ ساتھ محکمہ داخلہ سے بھی ہے۔ یہ دفاعی صلاحیت آرمی کے ساتھ بھی منسلک ہے، چونکہ اس کے بڑے آفیسر آرمی سے ریٹائرڈ یا حاضر سروس ہوتے ہیں۔ ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس(ASF) پاکستان کا حساس ترین ادارہ ہے، اس کے ذمے پاکستان میں آنے اور جانے والے جہازوں اور مسافروں کی حفاظت ہے۔اے ایس ایف کے ملازمین میں کوتاہی اور غلطی کا عنصر کم ہی ہوتا ہے، کیونکہ اے ایس ایف کے ملازمین پر دو قانون لاگو ہیں۔ ایک سول اور دوسرا دفاعی۔ اے ایس ایف ملازمین سخت ترین ڈیوٹی دیتے ہیں، بارش ہو، طوفان، رات ہو یا دن، ڈیوٹی کے دوران ملازم اپنی جگہ نہیں چھوڑ سکتا، مگر حیران کن اور پریشان کن بات ہے کہ اتنی سخت ڈیوٹی کے باوجود چھوٹے ملازمین ،یعنی سپاہی سے لے کر انسپکٹر تک سہولتیں اور تنخواہیں بہت ہی کم۔

اے ایس ایف وفاق کے ماتحت ہے، مگر ملازمین کی فلاح و بہبود برائے نام بھی میسر نہیں، باقی محکموں کی طرح پروموشن کا بھی فقدان ہے، حالانکہ ایئر پورٹس کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ملازمین کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، اسی لحاظ سے سپاہی سے ترقی دے کر ملازم کو اوپر لے جانا وقت کی اہم ضرورت ہے، پروموشن سے ملازمین کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ مُلک کے تمام ایئر پورٹ پر اے ایس ایف کے ملازمین کو پروموشن دینے کی بھی اہم ضرورت ہے۔ شنید ہے کہ کراچی کے علاوہ مُلک کے تمام ایئر پورٹس پر چیف سیکیورٹی آفیسر (C.S) اے ایس ایف کے ملازمین کو تعینات کیا گیا ہے یہ اچھا اقدام ہے۔ سیکرٹری ڈیفنس اور سیکرٹری سول ایوی ایشن سے مودبانہ گزارش ہے کہ اے ایس ایف کے چھوٹے ملازمین کی تنخواہوں اور سہولتوں میں اضافہ کیا جائے۔ گریڈ میں اضافہ کیا جائے۔

پی آئی اے(PIA) باکمال لوگ ، لاجواب سروس کے ماٹو کے تحت کام کرتا تھا۔ ایک وقت تھا کہ پی آئی اے نے دُنیا میں بہت اونچا مقام بنایا تھا اور ساری دُنیا میں سفر کرنے والے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا اور مسافر پی آئی اے پر سفر کرنا پسند کرتے تھے۔پی آئی اے ایک منافع بخش ادارہ تھا، مگر چند سیاسی لوگوں اور ان کے چیلے ملازمین نے اس ادارے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ خود غرض اور چاپلوسی کے ماہر ملازمین اچھی سے اچھی پوسٹنگ حاصل کر لیتے ہیں، ریٹائر ہونے کے باوجود بیرون ممالک پوسٹنگ حاصل کر لیتے ہیں، جو کہ حاضر سروس ملازمین کا میرٹ ہوتا ہے۔ حکمرانوں کی خوشنودی ہی میرٹ کی تباہی کا باعث بن جاتی ہے۔ پاکستان کے اندر تمام محکموں اور اداروں میں یونین کا قانون رائج ہے۔ یونین کا مقصد ملازمین کے مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنے ادارے اور ملکی مفادات کے تحفظ کے لئے کام کرنا بھی یونین کے قوانین میں شامل ہے، مگر چند لوگوں نے یونین کے ملازمین کو صرف اپنے ذاتی مفادات کے حصول اور اپنے ساتھیوں کے مفادات کی حفاظت سمجھ لیاہے۔

پی آئی اے کی تباہی میں بہت سے عناصر شامل ہیں۔ مثلاً دُنیا کے کئی ممالک میں پی آئی اے کا جہاز نہ جاتا ہے، نہ آتا ہے، فلائٹس ہی نہیں ہیں، مگر پی آئی اے کے ملازمین کی پوسٹنگ ہے، پی آئی اے کے ملازمین کی لاپروائی کی خبریں ہر روز اخباروں میں آتی ہیں کہ فلاں مُلک میں مسافروں کا سامان چھوڑ کر جہاز پاکستان آ گیا، فلاں ایئر پورٹ پر بڑی تعداد میں مسافروں کو چھوڑ کر فلائٹ چلی گئی، دُنیا کے بیشتر ممالک میں رات12بجے سے صبح 6بجے تک ایئر پورٹ بند ہوتے ہیں، مگر پی آئی اے کا عملہ فلائٹ لیٹ کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے پی آئی اے کو جرمانے کا سامنا ہوتا ہے۔چند روز پہلے پیرس (فرانس) میں پی آئی اے کو 40 ہزار یورو جرمانہ کیا گیا۔ اِسی طرح سعودی عرب، لندن کی فلائٹ کی وجہ سے بارہا پی آئی اے کو جرمانہ ہوا ہے۔ ادارے کو نقصان پہنچانے کے مرتکب افراد (ملازمین) سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی، کیونکہ وہ سفارشی اور بڑے لوگوں کے ساتھ دوستی رکھتے ہیں۔ چند روز پہلے لندن اور امریکہ میں پی آئی اے کے ملازمین نے جو گل کھلائے، اخباروں میں پرائیویٹ چینل پر بڑی خبریں آئیں۔ ان معزز خواتین و حضرات کو ادارے کو بدنام کرنے ،غلط کام کرنے پر کیاسزا ہوئی، کسی کو کچھ پتا نہیں ۔ شنید ہے کہ یہ خیریت سے ہیں۔ ایئر پورٹ کا ملازم ایک واقعہ بتا رہا تھا کہ 23جولائی ایک ہی وقت چند منٹوں کے فرق سے پی آئی اے کی فلائٹس دبئی اور لندن جا رہی تھیں، دبئی کی مسافر آسیہ نامی خاتون گیٹ نمبر23 سے بورڈنگ دے کر لندن کے جہاز کی طرف چلی گئی، حالانکہ دبئی کا گیٹ نمبر24 تھا۔ بتانے والا بتا رہا تھا اسی کاؤنٹر سے آسیہ کے بارے میں بار بار اعلان ہو رہا تھا۔

پی آئی اے کے معززین کہتے ہیں ڈیوٹی پر موجود خواتین نے بورڈنگ پڑھنا ہی ضروری نہیں سمجھا،اچھا ہوا کہ لندن کے جہاز سے پہلے ٹاسک فورس اور دوسرے ملازم نے آسیہ کا بورڈنگ دیکھ لیا اور واپس آ کر اس کو پی آئی اے کے کاؤنٹر بورڈنگ لے کر دوسرے دروازے کی طرف روانہ کیا۔ ڈیوٹی پر موجود معزز خواتین و حضرات اسے ایک معمول کا واقعہ کہہ رہے تھے۔ پی آئی اے کے ادارے میں اکثریت بہت اچھے محنتی اور ایماندار ملازمین کی ہے، جن کی وجہ سے کسی نہ کسی حالت میں ادارہ چل رہا ہے۔ لاہور سے بہت سے ممالک کی ایئر لائن کی فلائٹس آتی اور جاتی ہیں، مگر پاکستانی عوام کی اکثریت کا واسطہ(SV) سعودی ایئر لائن کے ساتھ پڑتا ہے۔ پاکستانی مسلمانوں نے چونکہ سعودی عرب عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لئے جانا ہوتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ پاکستانی مسلمانوں پر خاص مہربانی فرمائے تو حج کی سعادت بھی نصیب ہو جاتی ہے، سعودی ایئر لائن کی فلائٹس ڈائریکٹ جدہ اور مدینہ منورہ جاتی ہیں۔ پی آئی اے سے زیادہ لوگ سعودی ایئر لائن پر جانا پسند کرتے ہیں، چونکہ وہاں سعودی ملازمین مسافروں کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ بڑے سے بڑا آفیسر اپنی ایئر لائن کے مسافروں کی رہنمائی کے لئے موجود ہوتا ہے۔ کسی خاص وجوہات کی بنیاد پر فلائٹس کا لیٹ ہونا معمولی بات ہے، لیکن اس کے باوجود سعودی ایئر لائن کا سٹاف پاکستانی ہونے کے باوجود سرخرو ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ جہاز کے آنے پر اور روانگی کے وقت تمام سٹاف اور افسران کی ایئر پورٹ پر موجودگی بھی مسافروں کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے۔

مزید :

کالم -